کوویڈ مثبت معاملات میں اضافے کے پسِ منظر میں۔ لوگوں کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لئے میڈیا کو ہر پہلو میں مستقل کردار ادا کرنا ہوگا۔کوویڈ 19 ایک عالمی وبا ہے اور ابھی تک یہ بتانا مشکل ہے کہ آنے والے ایام میںکِن کِن مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ جموں و کشمیرمیں ستمبر میں کویڈ مثبت کیسوں نے گویا چھلانگ مار کر کافی تیز رفتار پکڑ لی تھی تاہم اب معاملات کم ہورہے ہیں۔ آثار و قرائن تو یہی بتاتے ہیں کہ آئندہ ایام میں حالات کچھ ٹھیک نہیں رہیں گے بلکہ مثبت کیسوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا۔ ایک طرف جبکہ انتظامی سطح پر احتیاطی تدابیر کے حوالے سے رہنما اصولوں پر چلنے پر زور دیا جارہا ہے وہیں زمینی سطح ابھی کوویڈ پرہیزگاری کے لئے درکار معیاری پرہیزگاری جسے عرفِ عام میں "ایس او پی" کہتے ہیں کی عملدرآمد پر کافی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ بازاروں، دفاتر، کارخانوں، گاڑیوں میں لوگ ابھی صرف بیس سے تیس فیصد تک ہی ماسکس، سینیٹائیزرس اور جسمانی دْوری کا اہتمام کرتے ہیں، جبکہ ذاتی مشاہدے کی بنیاد پرستر فیصد لوگ سہل انگاری سے کام لیتے دیکھے گئے ہیں۔
اگر صورتحال کو بتدریج بدلا نہیں گیا تو حالات بہت گھمبیر بھی ہوسکتے ہیں۔ اسلئے ہر ایک انجمن اور فرد سرکاری اور غیر سرکاری گھر بیٹھے یا باہر کام کرنے والے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اِس آفت میں اپنی بساط کے مطابق اپنا کِردار نبھائے۔ کنواں آگ کے وقت کھودنے تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے،دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہ برتے اور جس طرح وہ بارش، سیلاب، طوفانی آندھی، آگ یا کسی نمایاں آفت سے دْور بھاگتا ہے، اسی طرح اِس جرثومی آفت کو بھی بھانپے اور اس سے بچنے کے اصولوں کو اپنائے۔
اگر ایک انسان ماسک پہننے، سینیٹائیزر استعمال کرنے اور بھیڑ بھاڑ سے دْور رہنے کے آسان امورات کو بھی انجام نہ سکے تو پھر اْسے بلند دعوے کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔ یہ چیزیں تو آغاز کی چیزیں ہیں جس نے یہ شروع کرکے انکی پابندی کی تو وہ ضرور آگے والے پرہیز گاری کے مراحل بھی آسانی سے سیکھ کر طے کرسکے گا۔ کوویڈ 19 ایک نئی وبائی بیماری ہے ۔ذرائع ابلاغ میں ٹیلی ویژن سے ریڈیو کے ہوتے ہوئے سماجی میڈیا تک ہر جگہ بیداری اور معلومات جو بھی اب تک حاصل کی گئی ہیں، موجود ہیں، انکی صحیح طور پر رسائی سے انسان کے علم و آگہی میں بہت حد تک بیداری ہوجاتی ہے۔جموں و کشمیر میں بھی سرکاری و غیرسرکاری ادارے اور انجمنیں اپنا کنٹریبیوشن کرکے بہت کام کررہے ہیں۔ اتھروٹ نامی این جی او پچھلے 5 ماہ سے باقاعدہ طورہ پر فیس بْک کے ذریعے کشمیری زبان میں متعلقہ ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرکے عوام تک کافی اچھی اورتکنیکی جانکاری پہنچارہا ہے۔ اسی طرح دیگر ادارے بھی دوسرے امورات انجام دیتے ہیں، مگر بقولِ شاعر ’ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں ‘ کے مِصداق اِن چیزوں سے اگر فائیدہ نہ اْٹھایا جاتا ہے تو وہ ایک اور بدقسمتی کی بات بنتی ہے۔
ہمارے ائمہ حضرات کا بیداری میں ایک انتہائی اہم کردار بنتا ہے۔ وہ جمعہ کے موقعے پر خاصکر اِس وبا سے بچنے کی تدابیر کے بارے میں ہی ترجیحی طور پر براہ راست بات کریں، کیونکہ اب وہ مرحلہ کوئی دْور نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ دِلی ابھی دْور ہے، بلکہ ہر ایک کو اولین فرصت پر یہی کام انجام دینا ہے۔ تاہم ائمہ حضرات اِس موضوع پر تب ہی بات کرسکتے ہیں جب وہ باخبر ہوں، جسکے لئے اْنکو خصوصی طور پر محنت اور لگن کے ساتھ مطالعہ کرنا ہوگا۔ پھر جاکر وہ اپنے خطاب میں معقول اور اثر انداز طور پر پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ محکمہ صحت نے پہلے ہی اس سلسلے میں علمائے کِرام کو تربیت دے رہا ہے۔ اسکے بعد اساتذہ آن لائین کلاسز پڑھاتے وقت یا فارم وصول کرنے کے وقت "ایس او پیز" پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں بلکہ طلاب یا امتحان دینے والے امیدواروں کو سختی سے تلقین کریں کہ وہ ایس او پیز پر عمل کریں۔ اور ان طلاب کیخلاف کاروائی انجام نہ دیں جو ایس او پیز کی عمل آوری میں سْست ہْوں۔ایک تیس منٹ کے آن لائین کلاس میں دو منٹ اگرکوویڈ سے متعلق باوثوق معلومات اور ہدایات پر بات کی جائے تو بہتر ہوگا۔
یہاں پر یہ بات کہنا خارج از بحث نہیں کہ اب کمیونٹی کلاسز کاچلن بھی رائج ہے، اگرچہ کمیونٹی کلاسز کا آن لائین اوقات کے حساب سے کلیش بھی اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے تاہم لمحہ فکریہ اور گھمبیر بات یہ ہے کہ کوویڈ مثبت کیسوں میں کمیونٹی کلاسز کا جاری رکھنا مذید مشکل میں پڑنے کے مترادف تو نہیں ہے۔ اور کیا اب جبکہ اکتوبر کا مہینہ چل رہا ہے اور نصاب تقریباً سارا پڑھایا جاچکا ہے اور امتحانات بھی نزدیک آرہے ہیں تو کیا کمیونٹی کلاسز امتحانی تیاری میں خلل تو نہیں۔ ان سب باتوں پر محکمہ تعلیم کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
محکمہ صحت کے ماہرین نے حال ہی میں یہ سفارش بھی کی ہے کہ سوشل میڈیا کو بھی بیداری کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے۔ تو سوشل میڈیا میں ماہرین نوجوانوں، ادیبوں، شاعروں،سافٹ وئیر ایپ بنانے والوں کا رول بنتا ہے کہ وہ اپنے فن کی حساسیت سے اِس مشکل دور میں اپنا رول ادا کرسکتے ہیں۔الغرض طوفان میں بچنے کے لئے جو کچھ بھی کیا جاتا ہے، اس سے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ دِن بھی بہرحال گزر جائیں گے بس دورانیہ لمبا ہو تو صبربھی لمبا ہونا چاہئے،پیمانہ صبر لبریز نہیںنہ ہو۔
رابطہ۔[email protected]
موبائل نمبر۔7006551196