اظہر حسین
کولگام//وادی کشمیر میں جہاں قدرتی حسن ہر موسم میں اپنا رنگ بدلتا ہے، وہیں مئی اور جون کا مہینہ چیری کی سرخ و شیریں خوشبو سے فضا کو مہکا دیتا ہے۔ امسال ضلع کولگام سمیت پورے کشمیر میں چیری کی فصل مکمل طور پر تیار ہو چکی ہے اور کسانوں کے چہروں پر اطمینان اور خوشی نمایاں ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ اس سال موسم سازگار رہا، جس کی وجہ سے چیری کی پیداوار بہتر رہی ہے۔ چیری کی یہ خوش ذائقہ قسم نہ صرف مقامی بازاروں میں بلکہ بیرونِ کشمیر بھی خاصی مانگ رکھتی ہے۔ضلع کولگام کے گاؤں چھتہ پل کے ایک کامیاب کاشتکارعزمت علی خان نے اس روایت کو نئی سمت دینے کی مثال قائم کی ہے۔ عظمت علی خان نے اپنے بچوں کو بھی اس کام سے جوڑا ہے تاکہ یہ خالص کشمیری ثقافت اور زراعت کی روایت زندہ رہے۔عزمت علی خان نے روایتی چیری کے ساتھ ساتھ جدید اقسام (varieties) کو متعارف کرایا ہے، جو نہ صرف ذائقے میں بہتر ہیں بلکہ عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے’’ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنے آبا و اجداد کی روایت کو زندہ رکھیں، مگر ساتھ ہی جدید مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے نئی اقسام اور بہتر پیکجنگ پر بھی توجہ دیں‘‘۔انہوں نے کشمیر کے نوجوانوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ زراعت کو صرف پرانی روایت نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک باوقار، نفع بخش اور جدید کاروبار کی شکل میں اپنائیں۔چیری کی یہ فصل کولگام سمیت جنوبی کشمیر کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور ایسے افراد کی محنت اور وڑن کی بدولت یہ شعبہ روز بروز ترقی کی جانب گامزن ہے۔