یواین آئی
کولمبو/کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں بدھ کے روز ہونے والا مقابلہ صرف دو ٹیموں کی جنگ نہیں، بلکہ دو متضاد کرکٹ فلسفوں کا ٹکراؤ ہے ۔ ایک طرف سری لنکا کا وہ اسپن جادو ہے جو بلے بازوں کو اپنی انگلیوں پر نچانے کی صلاحیت رکھتا ہے ، تو دوسری طرف نیوزی لینڈ کی وہ ہٹنگ مشین ہے جو کسی بھی بالنگ لائن اپ کو ملیا میٹ کرنے کا دم رکھتی ہے ۔سری لنکا اس وقت دباؤ میں ہے ، خاص طور پر انگلینڈ کے خلاف محض 95 رنز پر ڈھیر ہونے کے بعد ان کی بیٹنگ لائن اپ پر سوالیہ نشانات کھڑے ہو گئے ہیں۔
تاہم، ان کے اسپنرزدنیتھ ویلالگے اور مہیش تھیکشنا نے اپنی نپی تلی بالنگ سے ثابت کیا ہے کہ وہ کم اسکور کا دفاع کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔دوسری جانب، نیوزی لینڈ کی طاقت ان کے اوپنرز، فن ایلن اور ٹم سیفرٹ ہیں، جنہوں نے اب تک ٹورنامنٹ میں چھکوں کی برسات کر رکھی ہے ۔ کیوی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ وہ اسپنرز کے سیٹ ہونے سے پہلے ہی پاور پلے میں جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے میچ پر گرفت مضبوط کر لیں۔کولمبو کی پچ روایتی طور پر کھیل کے آگے بڑھنے کے ساتھ سست ہو جاتی ہے ، جو اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔ اس ورلڈ کپ میں پہلی اننگز کا اوسط اسکور 173 رہا ہے ۔ یہاں کھیلے گئے 5 میں سے 4 میچز ان ٹیموں نے جیتے جنہوں نے پہلے بیٹنگ کی۔ نیوزی لینڈ کا سری لنکا کی سرزمین پر ریکارڈ متاثر کن رہا ہے ، جہاں وہ اب تک 5 ٹی ٹوئنٹی میچز جیت چکے ہیں۔سری لنکا کے لیے یہ میچ سیمی فائنل کی دوڑ میں بنے رہنے کے لیے ‘کرو یا مرو’ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اگر کولمبو کے اسپنرز نیوزی لینڈ کی ہٹنگ مشین کو روکنے میں کامیاب ہو گئے ، تو میزبان ٹیم کے لیے راہیں ہموار ہو سکتی ہیں، ورنہ کیویز کی جارحیت انہیں سپر 8 میں مضبوط پوزیشن پر پہنچا دے گی۔