بین الاقوامی خبر رساں ادارے، ایسو سی ایٹیڈ پریس (اے پی) میں23 مئی کو شائع ایک تفصیلی رپورٹ میں کمال پیشہ ورانہ مہارت سے بھارت میں جاری کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے ۔اس رپورٹ میں ملک کے ایک سابق سفارتکار کے کورونا میں مبتلاء ہونے سے اس کی کربناک موت تک ایک ہفتے کی روداد کچھ اس طرح بیان ہوئی ہے کہ عام سے عام قاری کو بھی ملک میں مہلک وائرس سے پیدا صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی وبائی صورتحال میں کس طرح ایسے سارے مریض بلا لحاظ سماجی رتبہ ایک ہی صف میں بے یار و مدد گار کہیں طبی آکسیجن کی جستجو میں ہیں تو کہیں کسی اسپتال میں ایک بیڈ کی تلاش میں سرگرداں ۔ ہزاروں مریضوں کی لاشیں شمشان گھاٹوں کے باہر اس انتظار میں کہ کب کہیں سے کچھ لکڑیوں کا انتظام ہوکر اُنہیں راکھ میں تبدیل کیا جائے ۔
بھارت کے ایک سابق سفارتکار کے گھروالوں کو بھی کورونا وائرس کی اصل دہشت کا اندازہ اُس وقت ہوگیا جب ایک پرائیویٹ اسپتال کے باہری دروازے پر وہ مریض کے داخلے کیلئے بے بسی میں مبتلاء ہوگئے ۔ جب سوا سو کروڑ کی آبادی والے وسیع دیش میں یومیہ دو لاکھ سے زیادہ کورونا کیس سامنے آرہے ہیں ، کس طرح ایک ایسا گھر جس کے پاس پیسہ بھی ہے ،رتبہ بھی ہے اور ہر طرح کا اثر و رسوخ بھی ، اپنے آپ کو بے بس ، لاچار اور بے یار و مدد گار پارہا ہے۔ حقائق بتارہے ہیں کہ طبی بحران میں بری طرح مبتلاء اس ملک کے اندر انسان کسی مبالغہ آرائی کے بغیر سڑکوں پر ایڑیاں رگڑھ رگڑھ کر جانیں دے رہے ہیں۔
مذکورہ اے پی رپورٹ کے مطابق ریٹائرڈ سفارتکار اشوک امروہی اوراس کی بیوی نے کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لی تھیں اس لئے جب21اپریل 2021کے روز اشوک کو کھانسی آئی تو اُس نے اسے عام نزلہ و زکام سمجھ کر ٹال دیا۔سفارتکار بننے سے قبل ایک میڈیکل ڈاکٹر رہنے والے اشوک امروہی پوری دنیا گھوم آئے تھے۔انہوں نے الجیریا،موزمبیک اور برنی میں بھارت کے سفارتکارکے بطور فرائض انجام دئے ہیں۔ریٹائر ہونے کے بعد وہ دہلی کی ہمسائیگی میں واقع گرگاوں میں قیام پذیر تھے اور اپنے دن پیانو بجاکر اور گالف کھیل کر گذار رہے تھے۔اشوک امروہی کا شمار ایک اُوپری وسط طبقے کے امیر گھرانے کے عزت دار ارکان میں ہوتا تھا۔وہ ایک ایسا خاص شہری تھا جس کو عام حالات میں علیل ہونے کی صورت میں ملک کے کسی بھی اسپتال میں آرام سے داخلہ مل سکتا تھا۔
امروہی کا بخار تو جلد ہی غائب ہو گیا لیکن اس کو سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی یہاں تک کہ اس کے آکسیجن کی سطح گرنے لگی۔جانچ کرانے پر وہ کورونا مثبت ظاہر ہوئے اور اُس کی بیوی یامنی نے ،پاس ہی رہائش پذیراپنی بہن کی وساطت سے ایک آکسیجن سیلنڈر کا انتظام کرالیا۔یامنی نے اپنے شوہر کا علاج گھر پر شروع کرایا لیکن علیل امروہی کی آکسیجن کی سطح بتدریج گرتی رہی۔رشتہ داروں نے کسی اسپتال میں ایک بیڈ کی تلاش شروع کی تاکہ مریض کو وہاں منتقل کراکے اس کی مناسب اور بہتر دیکھ بال کو یقینی بنایا جاسکے لیکن حقیقت یہ تھی کہیں کسی اسپتال میں کوئی بیڈ میسر نہیں تھا۔امروہی کے میڈیکل ہم جماعتیوں کی مدد حاصل کی گئی تو کہیں سے ایک بیڈ کا انتظام ہوگیا۔
یہ26اپریل کا گرم دن تھا جب دہلی کا درجہ حرارت40ڈگری فارن ہائٹ تک پہنچ گیا تھا۔بیوی یامنی اور بڑے بیٹے انوپم نے اشوک امروہی کو کسی طرح اپنی قیمتی ایس یو وی گاڑی میں بھر لیا۔وہ کم و بیش ساڑھے سات بجے شام اسپتال کے باہر پہنچے ۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ملک کے سابق سفارتکاراشوک امروہی کو ہاتھوں ہاتھ اسپتال کے اندر لیجایا جائے گا لیکن اُن کا ندازہ غلط ثابت ہوا۔اُنہیں داخلے کیلئے لوازمات پوری کرنے کو کہا گیا اور اسپتال کا عملہ حد سے زیادہ مصروف تھا اس لئے اُنہیں انتظار کرنا پڑا۔انوپم قطار میں اپنی باری کا منتظر تھا اور یامنی اپنے شوہر نامدار کے پاس تھی جو گاڑی میں اپنی سانسیں قائم رکھنے کیلئے کوشاں تھے۔یامنی گاڑی کے ایئر کنڈیشن کی مدد سے اپنے شوہر کو ٹھنڈک پہنچانے کی کوشش کررہی تھی۔
امروہی خاندان کیلئے ایک گھنٹہ اسی انتظار میں گذر گیا۔پھر دوسرا گھنٹہ بھی نکل گیا جس کے بعد اسپتال سے کوئی ایک سویب لیکر اشوک مروہی کا نمونہ حاصل کرنے کیلئے آ گیا۔ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آگیا اور تب تک مریض کیلئے سانس لینا انتہائی دشوار ہوگیا تھا۔یامنی کے مطابق وہ تین بار اسپتال کے استقبالی کاونٹر پر گئی اور مدد کیلئے بھیک بھی مانگی۔وہ موجودحکام پر چلائی بھی لیکن کسی کا دل نہیں پسیجا۔
اسی اثناء میں لندن میں قیام پذیر اُن کی بیٹی نے بھی اُن سے فون پر رابطہ کیا۔وہ ایک ویڈیو کال تھی جس پر اشوک امروہی کے چار سالہ پوتے نے اشوک سے بات کرتے ہوئے کہا’’آئی لو یو پوپی‘‘۔اشوک نے اپنی ماسک اُتار کر پوتے کو ہیلو بولتے ہوئے جواب دیا’’پوپی لوز یو ٹو‘‘۔ ناقابل برداشت انتظار کے تین اور چار گھنٹے بھی گذر گئے۔اس دوران انوپم وقفے وقفے سے اپنے بیمار باپ کے پاس آکر اُسے اس بات کا اطمینان دلارہا تھا کہ بہت جلد انہیں اسپتال میں داخلہ مل جائے گا اور اس کا باضابطہ علاج شروع ہوگا۔انوپم سانس لینے کیلئے جد و جہد میں مصروف اپنے باپ کو تسلی دیکرکوشش کررہا تھا کہ اس کا حوصلہ بنا رہے ۔پانچ گھنٹے بھی گذر گئے اور اب آدھی رات کا وقت تھا۔علیل اشوک کی حالت بھی اب اس کے قابو میں نہیں رہی تھی ،اُس نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے انتہائی غصے ، کسمپرسی یا لاچارگی کی حالت میں اپنی آکسیجن ماسک اُتارکر ایک طرف پھینک دی اور اپنی بیوی کی گود میں بے حس و حرکت پڑگیا ۔ اگلے ہی لمحے ا شوک نے موت کے سامنے ہتھیار ڈال دئے۔ اپنے شوہر کی پھٹی پھٹی آنکھوں والے چہرے سے نظریں ہٹاکر یامنی اسپتال کے اندر داخل ہوگئی اور استقبالی ڈیسک کے سامنے کھڑی ہوکر انتہائی لاچارگی کے عالم میں حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’تم سب قاتل ہو‘‘۔یہ کہتے ہوئے شاید یامنی کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوگیا ہوگا۔
لیکن امروہی خاندان کیلئے خوف اور تکلیف دہ صورتحال کا اختتام اشوک کی موت کے ساتھ بھی نہیں ہوا۔علی الصبح اشوک کی پالی تھین بیگ میں سیل بند لاش شمشان گھاٹ پہنچائی گئی۔شمشان گھاٹ ہندئوں کیلئے ایک ایسی اہم جگہ ہے جہاں’’ ایک مردے کی روح کو اس کے جسم سے الگ کرکے دوسرا جنم لینے کیلئے آزاد کیا جاتا ہے‘‘۔عام حالت میں ہندئوں کی آخری رسومات ایک مذہبی سادھو انجام دیتا ہے،جس کے دوران دوست و احباب موجود رہتے ہیں اورسب سے بڑا بیٹا چتا میں آگ لگاتا ہے۔لیکن جب امروہی خاندان کے لوگ شمشان گھاٹ کے باہری دروازے پر پہنچے تو وہاں پہلے ہی لاشیں لیکر ایمبو لینس گاڑیوں کی لمبی قطار موجود تھی اور شمشان کے اندر کم سے کم نو مقامات پر انسانی لاشیں شعلوں کی نذر ہورہی تھیں۔بہر حال کافی انتظار کے بعد انوپم کو اپنے باپ کی چتا میں آگ لگانے کیلئے بلایا گیا۔گھر کے دیگر لوگوں نے کوشش کی کہ وہ چتا کے آس پاس موجود رہیں لیکن چاروں طرف بلند ہونے والے آگ کے شعلوں کی وجہ سے وہاں ٹھہرنا بھی دشوار ہورہا تھا، چونکہ استھیاں حاصل کرنے کیلئے انتظار ضروری تھا اس لئے وہ اپنے آپ کو آگ کی لپٹوں سے بچاتے رہے اور اشوک کی چتا سے اٹھنے والی راکھ فضا میں بکھر تی رہی۔یامنی وغیرہ گھر لوٹنے سے پہلے باہر اپنی کار کے پاس تب تک بیٹھے رہے جب تک اشوک کی لاش پوری طرح نہیں جلی۔ انوپم کو اپنے باپ کی استھیاں لینے کیلئے پھر شمشان جانا پڑا۔ معلوم نہیں اُسے اپنے ہی باپ کی استھیاں دیکر روانہ کیا گیا یا کسی اور کی، یا پھر اُسے محض جلی لکڑیوں کی راکھ دیکر ہی راضی کیا گیا ؟
اندازہ کیجئے کہ جب ملک میں ماہ اپریل کے آغاز میں کورونا وبا کی دوسری لہر نے سر نکالاتو دہلی میں رہائش پذیر امروہی خاندان کیلئے اپنے ایک مریض رکن کیلئے طبی انتظام کرنا کتنا دشوار تھا۔ یعنی وبا کی دوسری لہر کے ابتدائی ایام میں ہی ملک کا میڈیکل نظام بری طرح ناکام ہوکر دھڑام سے زمین بوس ہوگیا تھااور حکومت نے بھی لاچارگی کے عالم میں ہاتھ کھڑے کرلئے تھے۔ کورونا سے ملکی سطح کی تباہی کا اندازہ ان حقائق سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اول بڑے بڑے شہروں میں خاندانوں کے خاندان پہلے کوروبا ٹیسٹ کرانے اور ادویات کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ،اس کے بعد حصول ایمبو لینس یا طبی آکسیجن کے انتظام کا تکلیف دہ مرحلہ اور بعد میں کسی اسپتال کے اندر بیڈ حاصل کرنے کا تھکادینے والا عمل ،ان قابل رحم حالات میں آخر پر سینکڑوں افراد کا اپنے اپنوں کی لاشوں کی آخری رسومات کی انجام دہی کی فکر۔
ملک بھر میںکورونا وائرس سے پیدا پریشانیاں لہروں کی صورت میں ایک کے بعد ایک ظاہر ہورہی ہیں۔دہلی کو اس نے ماہ اپریل کے آغاز میں اپنا ہدف بنایا اور مذکورہ ماہ کے آخر تک اس نے چاروں طرف قیامت برپا کی تھی۔جنوبی شہر بنگا لورو کو سنگین حالات نے اس کے دو ہفتے بعد آگھیرا۔آج کل ملک کے متعدد قصبے کورونا کی زد میںبری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور چھوٹے گاوں دیہات میں ابھی تباہی شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔
ا بھی حال یہ ہے کہ کیا غریب اور کیا امیر، کیا سرکاری افسران ا ور کیا صفائی کرنے والے چھوٹے ملازم، ہر کوئی انتہائی بری طرح سے متاثر ہے۔دولتمند تاجر اسپتال میں علاج کیلئے ترس رہا ہے اور حکومت کا ایک با اثر حاکم بھی طبی آکسیجن کے حصول کیلئے ٹویٹ پر ٹویٹ کررہا ہے۔ وسط درجے کے گھرانے لاشوں کو لیکرشمشان گھاٹوں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور جنہیں لکڑی نصیب نہیں ہورہی ہے یا جو لاشوں کی آخری رسومات کی انجام دہی کیلئے بھاری رقم ادا کرنے سے قاصر ہیں، وہ لاشوں کو دریا برد کررہے ہیں۔ایسی سینکڑوں لاشیں مقدس گنگا نے پہلے ہی اُگل دی ہیں۔
شائع رپورٹ کے مطابق ملک میں بہت ہی اعلیٰ قسم کا اثر و رسوخ رکھنے والے افراد نے بھاری رقومات خرچ کرکے اپنے لئے آئی سی یو بیڈ تیار کرائے ہیں لیکن باقی ماندہ وسط طبقے کے امیر اور غریب ایک ہی نائو میں ہچکھولے کھارہے ہیں کیونکہ سرکاری اسپتال پہلے ہی بھرے پڑے ہیں اور پرائیویٹ طبی مراکز میں تل دھرنے کی جگہ بھی میسر نہیں ہے۔دہلی کے ایک شہری کے مطابق اسپتالوں میں جگہ نہ ملنا، طبی آکسیجن کیلئے بھیک مانگنا اور شمشان گھاٹوں میں لاشوں کی آخری رسومات انجام دلانے کیلئے پیر پڑنا اب اُن کیلئے معمولات میں شامل ہے۔دہلی کے دوسرے رہائشی کے مطابق ’ہر کوئی اپنے اپنوں کی زندگیاں بچانے کیلئے فکر مند ہے اور اس غرض کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار نظر آرہا ہے‘‘۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ رواں برس کے ماہ جنوری میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ’’ کورونا وائرس پر فتح حاصل‘‘ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مرکزی وزیر صحت نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک وبا کے ’’انڈ گیم‘‘ میں ہے۔ حالانکہ طبی ماہرین نے کئی ہفتوں پر مشتمل کورونا کی دوسری لہر سے خبردار رہنے کی تاکید کی تھی لیکن حکومت نے ایسے ہر انتباہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کمبھ میلے کی بھی اجازت دیدی جس میں لاکھوں عقیدتمند کاندھوں سے کاندھے ملاکر شامل ہوئے اور کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات بھی کرائے جن کے دوران بھاری ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔
�����