کورونا وائرس نے اس وقت پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے اور موت کا تانڈو جاری ہے۔ہر روز دنیا میں ہزاروںکے حساب سے اموات ہورہی ہیںاور بے گور وکفن لاشوں کے اندوہناک ویڈیو سامنے آرہے ہیں،وہ دل کو پسیج کر رکھ دیتے ہیں۔فی الوقت دنیا بھر میںکورونا متاثرین کی تعداد25لاکھ سے متجاوز ہوچکی ہے جبکہ مہلوکین کی تعداد بھی پونے دو لاکھ کے آس پاس تک پہنچ چکی ہے ۔بھارت میں متاثرین کی تعداد 20ہزار اور مہلوکین کی تعداد500سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ جموںوکشمیر میں 300سے زائد لوگ کورونا کی زد میں آچکے ہیں اور اب تک پانچ اموات بھی ہوئی ہیں۔
یہ تو کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کا ایک پہلو ہے ۔اس تباہ کاری کے بیچ میں کورونا کے چلتے ہمہ گیر لاک ڈائون کے باعث دنیا بھر سے کچھ اچھی خبریں بھی آرہی ہیں اور ان میں سب سے بڑی مالوحیاتی توازن میں بہتری کا نمودار ہے ۔ پچھلے ایک ماہ سے کووڈ 19کی وجہ سے زندگی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہے جس کے نتیجہ میں ماحولیاتی اور صوتی آلودگی میں 25سے30فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔جموںوکشمیر بھی اس تبدیلی سے اچھو تا نہیں رہا اور یہاں بھی مسلسل لاک ڈائون کے نتیجہ میںفطری حسن کیلئے خطرہ بن چکی ماحولیاتی اور صورتی آلودگی میں 50سے60فیصد کی کمی درج کی گئی ہے ، جبکہ انسانوں کیلئے آزمائش بنا کورونا وائرس بے زبان جانو روں اورنایاب پرندوں کیلئے مفید ثابت ہو رہا ہے تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ جونہی معمولات زندگی بحال ہونگے تویہ آلودگی پرانی سطح پر لوٹ آئے گی۔آج کل لاک ڈائون کی وجہ سے فیکٹریوں اور ٹریفک نہ چلنے کی وجہ سے زمین کی حرکت کے شور اور ارتعاش میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کارخانوں، گاڑیوں، ٹرینوں، ہوائی جہازوں،بسوں اور انسانوں کی روز مرہ مصروفیات سے زمین کی سطح پر شور وغل پیدا ہوتا تھااور اس سے ماحولیاتی آلودگی بھی پیدا ہو جاتی تھی لیکن اب سنسان سڑکیں ، ویران شاپنگ مالز، سڑکوں پر نہ ہونے کے برابر ٹریفک، ویران ہوائی اڈے اور جہاز قطاروں میں پارک نظر آتے ہیں جوجہاں ایک طرف انسان کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیںوہیں کچھ مثبت اثرات بھی لیکر آیا ہے۔
جموں وکشمیر کی دونوں شہروں کی اگر بات کریں تو ان شہروں کو ماحولیاتی اور صوتی آلودگی کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا تھا ،لیکن ا ب ان شہروں میں محکمہ پو لیوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق فضائی اور صوتی آلودگی میں 50سے 60 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے ۔ لوگ آلودگی کے خاتمے کے باعث سینکڑوں کلومیٹر دور سے پہاڑوں کو دیکھنے کے قابل ہوگئے ہیں،کیونکہ آلودگی سے پیدا ہوئی دھند اب کہیں نظر نہیں آتی ہے ۔ فضاء میں آلودگی کم ہونے سے نایاب پرندے پھر سے دکھائی دے رہے ہیں جو برسوں سے غائب تھے ۔محکمہ پو لیوشن کنٹرول بورڈ کے ڈائریکٹر سید ندیم حسین کے مطابق پہلے 100سے130مائیکرو گرام پی ایم 10 فضاء میں تھا ،اب 60سے70رہ گیا ہے۔وہ کہتے ہیںکہ اس وقت تمام کاروبار بند ہے ،لوگوں گھروں میں ہیں اور فضاء صاف ہو رہی ہے ۔کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ ڈاکٹر شکیل رامشو کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ انسانی عمل دخل ، انڈسٹریز ، کارخانے، فیکٹروں اور گاڑیوں کے بند ہونے سے نہ صرف جموں وکشمیر میں بلکہ پوری دینا میں فضائی اور صوتی آلودگی میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ان کے مطابق کشمیر میں تو پھر بھی کبھی کبھار آسمان دکھائی دیتا تھا ،لیکن ماحولیاتی آلودگی سے باقی جگہوں پر آسمان ہی اب دکھائی نہیں دے رہا تھاتاہم اب وہاںبھی آسمان صاف نظر آتا ہے ،کیونکہ مائیکران سائز کے ذرات فضاء میں بہت کم ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پرندے بھی اب دکھائی دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ آلودگی کے کم ہونے سے گم ہوئے پرندے واپس آئے ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے فضاء میں کافی حد تک بہتری کے بعد ان پرندوں کی فضاء میں دوبارہ چہچہایٹ نظر آرہی ہے جو برسوں غائب تھے۔ملک کے معروف سائنس دان اور یمنا بائیو ڈائیورسٹی پارک کے سربراہ ڈاکٹر فیاض احمدخودسر کہتے ہیں ’جہاں کرونا وائرس انسانوں کیلئے آزمائش بنا ہے وہیں بے زبان جانوروں کیلئے بہتر دکھائی دے رہا ہے۔ کشمیر ، جالندھر ، دہرادون میں جنگلی پرندوں کا سڑکوں پر نکل آنا ، نایاب اور گم ہوئے پرندوں کا پھر سے فضا میں نمودار ہونااس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ماحولیات میں بہتری کے ساتھ ہی یہ پرندے آسمان پر کھلے عام چہچہاتے پھررہے ہیں ۔ماہرین کہتے ہیں کہ ایسا تب ممکن ہو سکا ہے جب فضائی اور صوتی آلودگی میں کمی واقع ہوئی ۔ماہرین کے مطابق یہ پرندے اور جنگلی حیات ہی ہیں ،جنہوں نے زمین کا توازن برقرار رکھا ہے۔باہر اگر نظرڈالیں تو آسمان پہلے سے صاف نظر آرہا ہے، دور دور تک پہاڑیاں اب پاس اور صاف نظر آرہی ہیں۔ہوا پہلے کے مقابلے میں تروتازہ ہے۔
کورونا لاک ڈائون کا ایک اور فائدہ نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس کے اخراج کا کم ہونا ہے۔محالجین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی خطرناک اور زہریلی گیس ہے جو گاڑیوں کے انجن، فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں اور دیگر چیزوں سے نکلتی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اگر یہ گیس 2سو مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ ہے تو یہ ہمارے اندر داخل ہوگی جس سے ہمیں سانس لینے میں کافی دقتیں درپیش آسکتی ہیں لیکن اس لاک ڈائون کی وجہ سے جب گاڑیاں چلنی بند ہوگئیں، فیکٹریاں بند ہو گئیں ،تو ہوا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بھی کم ہو گئی ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیش کے مطابق پوری دنیا میں پی ایم 2 یعنی ٹھوس ذرات ہوا میں پائے جانے کی وجہ سے 4ملین لوگ مر جاتے ہیں ۔لاک ڈائون کی وجہ سے پوری دنیا میں پی ایم 2 کی سطح بھی کم ہوئی ہے اور کسی حد تک لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مثبت تبدیلیاں وقتی طور انسان کیلئے باعث راحت بن چکی ہیں تاہم انہیں خدشہ ہے کہ یہ عمل دیر پا نہیں رہے گا کیونکہ جیسے ہی دوبار گاڑیاں سڑکوں پر دوڑنے لگیں گی ، جہاز چلیں گے ، فیکٹریاں پھر سے شروع ہوں گی تو آلودگی میںپر سے اضافہ ہوگا اور اس کا سب سے زیادہ اثر عوام پر پڑ سکتا ہے ۔ماہرین کہتے ہیںکہ پوری دینا میں یہ دیکھا جا تا تھا کہ ہر سال دھند پائی جاتی تھی اور پھر ہزاروں کی تعداد میں لوگ مر جاتے تھے کیونکہ وہاں لوگ از خود ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ دار تھے ۔ اس سال جموں و کشمیر میں اس قدر دھند پائی گئی کہ دھند کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی اورقریب 1ماہ تک لگاتار ہوائی جہازوں کی پروازیں متاثر رہیںاورسڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کو آنے جانے میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کی جانب سے پھلائی جا رہی آلودگی تھی ۔
جو بھی ہوتا ہے، اس میں خدا کی مصلحت ہوتی ہے اور جو ہوتا ہے،اچھے کیلئے ہوتا ہے۔ کوروونا وائرس کی وجہ سے قدرت نے ہمیں ایک موقع دیا ہے۔ ہماری زمین آلودگی کی وجہ سے ختم ہو رہی تھی۔ اس وائرس اور لاک ڈائون کے باعث ہماری زمین کو دوبارہ سانس لینے کا موقع مل رہا ہے۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نوول کورونا وائرس کی عالمی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر کی معیشت متاثر ہے اور لاکھوں چھوٹے بڑے کارخانے بند ہیں لیکن اسی وجہ سے عالمی فضائی آلودگی میں بھی ڈرامائی طور پرکمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اوزون کی سطح بہتر ہوئی ہے اور گرین ہائوس گیسوںکا اخراج کم ہوچکا ہے ۔کچھ لوگوں کے نزدیک کورونا قدرت کاانتقام ہے ۔فطرت کے ساتھ انسان نے اپنے آرام کیلئے جو کھلواڑ کی ،اب فطرت اس کا حساب لے رہی ہے اور اسی انتقام کی وجہ سے زمین سانس لے پارہی ہے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس وباء نے ہمیں جو اسباق سکھائے ،کیا ہم ان پر عمل کریںگے اور کیا ہم ایک نئے خوشگوار کل کی جستجو میں ماحولیاتی بگاڑ کو روکنے کے جتن کرینگے ۔ایسا کم ہی امکان نظر آرہا ہے تاہم ایک بات طے ہے کہ کورونا وائرس جہاں موت و تباہی کا سامان بن کر آیا وہیں یہ عبرت بھی ہے اور سبق بھی ۔اگر ہم نے ہوش کے ناخن لئے اور قدرت کے بنائے ہوئے نظام کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش نہ کی تو قدرت ہمیں پھر سے نوازے گی تاہم اگر ہم نے قدرت کے سامنے یہ بے بسی دیکھنے کے باوجود مادیت کے اندھے پن کا شکار ہوکرپھر وہی غلطیاں دہرائیں تو کورونا کی شکل میں ہی کوئی دوسرا عذاب ہمارا منتظر ہوگااور اُس وقت ہم کف افسوس ہی ملتے رہیں گے لیکن جب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔