کورونا کا قہر | دنیا میں 13.17 کروڑ سے زائد افراد متاثر

واشنگٹن//یواین آئی// دنیا میں کورونا وائرس (کووڈ-19) سے متاثرہ افراد کی تعداد13.17 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے ، جبکہ تقریباً 28.59 لاکھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سینٹر فار سائنس اینڈ انجینئرنگ (سی ایس ایس ای) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، دنیا کے 192 ممالک اور خطوں میں متاثرہ کورونا کی تعداد 13 کروڑ 17 لاکھ سات ہزار 267 ہوگئی ہے ، جبکہ اب تک وائرس انفیکشن کی وجہ سے اموات کی تعداد 28 لاکھ 59 ہزار 868 ہوگئی ہے ۔عالمی طاقت کے طور پر سمجھے جانے والے ، امریکہ میں کورونا وائرس کی تباہی بڑھ رہی ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ ملک میں متاثرہ کورونا کی تعداد تین کروڑ سات لاکھ 77 ہزار 336 ہوگئی ہے جبکہ 5 لاکھ 55 ہزار 403 مریض دم توڑ چکے ہیں۔برازیل دنیا کے تین ممالک میں ایک کروڑ سے زیادہ کورونا متاثرین کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔ اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ 13 ہزار 601 افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ یہاں تین لاکھ 32 ہزار 752 مریض فوت ہوچکے ہیں۔ہندوستان میں بھی ، کورونا انفیکشن کے معاملات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور یہ دنیا میں تیسرے مقام پر ہے ۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کے 96982 نئے معاملے ہوئے ۔ اس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 26 لاکھ 86 ہزار 049 ہوگئی ہے ۔سرفہرست تین ممالک کے بعد ، انفیکشن سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں فرانس چوتھے نمبر پر آگیا ہے ۔
 
 
بنگلہ دیش :لاک ڈائون مخالف مظاہروںمیں3 افراد زخمی
ڈھاکہ //بنگلادیش میں کورونا پابندیوں پر عمل درآمد پر پولیس کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ضلع فرید پور میں پولیس کے تشدد سے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع پر لوگوں نے تھانے پر حملہ کردیا، مشتعل افراد نے ایک مکان اور 2 گاڑیاں بھی جلا دیں۔پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 3 افراد زخمی بھی ہوئے۔یاد رہے کہ بنگلا دیش میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہونے کے باعث حکومت نے گزشتہ روز سے ایک ہفتے کا لاک ڈاون نافذ کردیا ہے۔بنگلا دیش میں کورونا وائرس سے 9155 اموات جبکہ 6 لاکھ 24 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ادھرفلپائن میں کورونا کی پابندیوں کی خلاف ورزی پر ملنے والی ورزش کی سزا کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
 
 

فرانس: لاک ڈاون کے دوران وزرا ء ریستورانوں میں پکڑے گئے

پیرس // فرانس کے بعض سیاست دانوں اور ارکان پارلیمان نے پابندی کے باوجود چوری چھپے بڑے ریستورانوں میں کھانا کھایاہے۔ فرانسیسی ٹی وی چینل ایم 6 کے مطابق اس نے معاملے کی فلم بندی کی ہے۔ بعض ارکان پارلیمان اور وزرا نے پیرس میں خفیہ طور پر کھلے ان ریستورانوں میں کورونا کی پروا کیے بغیر پابندیاں توڑیں اور وہاں کھانا کھایا۔ادھربرطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں ریستوران اور بار اگلے ایک ہفتے میں آؤٹ ڈور سروسز کے لیے کھولے جا سکتے ہیں تاہم بین الاقوامی سفر کی بحالی پر انہوں نے محتاط انداز اختیار کیا۔پیر کو نشر کی گئی پریس کانفرنس میں بورس جانسن نے بتایا کہ آگے بڑھنے کے لیے دوسرے مرحلے میں طے کیے گئے اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور وبا سے بچاؤ کی پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔