سرینگر //کشمیر میں فضائی آلودگی دوسرے علاقوں حتیٰ کہ جموں کے مقابلے میں بھی کم ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وادی کے ماحولیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ہے بلکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے پچھلے سال فضائی آلودگی 80فیصد تک کم ہوگئی تھی اور امسال بھی20سے25فیصد کم ہو چکی ہے۔وادی میں بڑے بڑے کارخانے نہیں ہیں، جن سے مضرصحت گیس کا اخراج ہوتا ہے۔لیکن کئی ایسے کارخانے ہیں جن سے دھویں کا اخراج ہوتا ہے جو فضا کو آلودہ کرتا ہے۔ان میں سیمنٹ کے کارخانے سب سے نمایاں ہیں۔اسکے علاوہ پلاسٹک کی ری سائکلنگ کے کارخانے بھی شامل ہیں جو محدود پیمانے پر کام کرررہے ہیں۔ پالی تھین بنانے کے کارخانے زیادہ تر جموں میں ہیں، جن سے گیس کا اخراج ہوتا ہے۔اسکے بعد اگر فضائی آلودگی بڑھتی ہے تو وہ انیٹ بٹھوں کے کارخانے ہیں۔پولیو شن کنٹرول بورڈ کے اعدادوشمار کے مطابق وادی میں اینٹ بٹھوں کی سب سے زیادہ تعداد ضلع بڈگام میں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع میں قریب 200ایسے کارخانے ہیں جن سے اینٹیں بنتی ہیں۔اسکے بعد56کیساتھ دوسرے نمبر پر اننت ناگ اور 35نمبر کیساتھ پلوامہ آتا ہے۔کولگام میں بھی کچھ اینٹ بٹھوں کے کارخانے موجود ہیں۔اینٹ بٹھوں کی چمنیوں سے نکلنے والی زہریلی گیس فضا کو بڑے پیمانے پر آلودہ کرتی ہے۔اسکے علاوہ لاکھوں گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں فضا کو آلودہ بنانے میں اہم رول ادا کررہا ہے۔وادی ماحولیات کے لحاط سے انتہائی حساس علاقہ ہے کیونکہ یہاں قدرتی آبی ذخائر کی بھر مار ہے، ندی نالوں کی بہتات ہے اور چشموں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیوشن کی سطح جانچنے کیلئے جو پیمانہ مقرر ہے اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وادی میں کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے کارخانے اور گاڑیاں بند ہونے سے کم سے کم 25فیصد تک فضائی آلودگی کم ہوئی ہے۔ محکمہ پو لیوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق فضائی اور صوتی آلودگی میں20سے25 فیصد کمی واقع ہونے سے سینکڑوں کلومیٹر دور سے پہاڑوں کو دیکھا جاسکتا ہے، جو اس سے قبل ناممکن تھا۔محکمہ پو لیوشن کنٹرول بورڈ کے ڈائریکٹر سید ندیم حسین نے اس ضمن میں کہا ہے کہ فضائی اور صوتی آلودگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون کے دوران اس میں 20سے25فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔ ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل 150سے200تک پی ایم 10فضاء میں تھا اب 100سے130تک رہ گیا ہے ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اگر یہ گیس 2سو مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ ہے تو یہ ہمارے اندر داخل ہوگی جس سے ہمیں سانس لینے میں کافی دقتیں درپیش آسکتی ہیں لیکن لاک ڈائون کی وجہ سے جب گاڑیاںاور، فیکٹریاں بند ہو گئیں ،تو ہوا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم ہو گئی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیش کے مطابق پوری دنیا میں پی ایم 2 یعنی ٹھوس ذرات ہوا میں پائے جانے کی وجہ سے 4ملین لوگ مر جاتے ہیں۔کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ ڈاکٹر شکیل رامشو کا کہنا ہے کہ انڈسٹریز ، کارخانے، فیکٹروں اور گاڑیوں کے بند ہونے سے نہ صرف جموں وکشمیر میں بلکہ پوری دینا میں فضائی اور صوتی آلودگی میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔تاہم یہ دیر پا ثابت نہیں ہو سکتی ۔انہوں نے کہا کہ کل جیسے ہی دوبارہ زندگی پٹری پر لوٹے گی تو دوبارہ وہی صورتحال پیدا ہوجائیگی۔ملک کے معروف سائنس دان اور یمنا بائیو ڈائیورسٹی پارک سربراہ ڈاکٹر فیاض احمدخودسر کہتے ہیں ’ کورونا وائرس انسانوں کیلئے آزمائش بنا ہے ،وہیں بے زبان جانوروں کیلئے بہتر دکھائی دے رہا ہے۔ کشمیر ، جالندھر ، دہرادون میں جنگلی پرندوں کا سڑکوں پر نکل آنا ، نایاب اور گم ہوئے پرندوں کا پھر سے فضا میں نمودار ہونااس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ماحولیات میں بہتری کے ساتھ ہی یہ پرندے آسمان پر کھلے عام چہچہاتے پھررہے ہیں۔