کورونا قہر کا شاخسانہ | شری ماتا ویشنو دیوی مندر کی یاترا میں کمی واقع

جموں// کورونا کی دوسری لہر کی تیزی سے جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی ترکوٹہ پہاڑیوں میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی مندر کی یاترا بھی از حد متاثر ہوئی ہے ۔ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کورونا کی دوسری لہر کی تیزی کی وجہ سے شری ماتا ویشنو دیوی مندر کی یاترا کے لئے روزانہ بنیادوں پر کٹرہ پہنچنے والے یاتریوں کی تعداد میں کافی کمی واقع ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماتا ویشنو دیوی مندر کی یاترا صرف کچھ سو یاتری ہی کر رہے ہیں، ان میں سے بیشتر مقامی یاتری ہیں، جن کا تعلق جموں و کشمیر کے مختلف حصوں سے ہے ۔ایک مقامی دکاندار نے بتایا کہ پوتر مندر کی طرف جانے والے ٹریک سنسان نظر آ رہے ہیں دونوں روٹس پر قائم سبھی کھانے پینے کے پوائنٹس بند ہیں تاہم ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کی طرف سے چلائے جانے والے فوڈ پوائنٹس کھلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یاتریوں کی سہولیات کے لئے ہیلی کاپٹر، کیبل کار اور بیٹری کار خدمات بھی جاری ہیں۔شرائن بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر رمیش کمار نے یو این آئی کو بتایا کہ یاتریوں کو بورڈ کی طرف سے تمام تر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بورڈ یاتریوں کے تحفظ کے لئے تمام تر اقدام کر رہا ہے یاتریوں کی آمد پر ان کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے ۔موصوف نے کہا کہ روزانہ بنیادوں پر اوسطً تین سے چار سو یاتری پوترا مندر کی یاترا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے بیچ گزشتہ سال روان کے پہلے چار ماہ کے دوران زائد از 16 لاکھ یاتریوں نے شری ماتا ویشنو دیوی مندر کی یاترا کی۔ان کا کہنا تھا کہ سال رواں کے پہلے دو ماہ کے دوران یاتریوں کی تعداد میں کافی اضافہ درج ہوا اور روزانہ بنیادوں پر یاتریوں کی تعداد 15 سے 20 ہزار تک پہنچ گئی تھی لیکن کورونا میں تیزی کے ساتھ ہی اس میں کمی واقع ہونا شروع ہوئی۔موصوف نے کہا کہ سال رواں کے پہلے چار ماہ کے دوران 16 لاکھ45 ہزار 3 سو 33 یاتریوں نے شری ماتا ویشنو دیوی مندر کی یاترا کی۔