لندن//برطانیہ میں برمنگھم یونیورسٹی کے سائنسدان نے ناک میں چھڑکنے والی دوائی تیارکی ہے جس سے کورونا وائرس سے 2 دنوں تک بچا جاسکتا ہے۔ سنڈے ٹیلی گراف اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوائی کی بڑے مقدار تیار کرنے پر کام شروع کیا گیا ہے اوراُمید کی جارہی ہے کہ چند دنوں کے دوران یہ ہر ایک ادویات کی دکان پر دستیاب ہوگی۔ تحقیق کی سربراہی کرنے والے سائنسدان رچیرڈ موکس نے اخبار کو بتایا ’’ہم پر اعتماد ہیں کہ سپرے سے سماجی دوری کو ختم کرنے اور سکولوں کو دوبارہ کھولنے میں مدد ملے گی‘‘۔نیسل سپرے ان اجزات سے بنایا گیا ہے جو پہلے سے ہی طبی استعمال کیلئے منظور شدہ ہے اور انسانوں پر استعمال کیلئے محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا ’’ ادویات کی دکانوں میں رہنے والے نیسل سپرے کی تقسیم کیلئے ہم نے ایسی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت کی ہے جو اس سپرے کو تمام لوگوں تک پہنچائیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ عام دوا سے جلد اثر انداز ہوگا اور مجھے اُمید ہے کہ یہ فارمولہ کامیاب ہوگی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم جند سے اس جو سامنے لائیں اور اُمید ہے کہ امسال گرمیوں میں یہ دستئیاب ہوگا‘‘۔اپریل 2020سے کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے کام کرنے والے سائنسدانوں نے نومبر میں علاج کیا تھا کہ لیبارٹری میں تجربات کے ذریعے ایک ایسا سپرے تیار کیا جارہا ہے جو کورونا وائرس کو 48گھنٹوں تک داخل ہونے سے روک سکتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دن میں چار بار سپرے استعمال کرنے سے عام لوگ کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں حالانکہ یہ سپرے ہر 20منٹ بعد استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ یہ زیادہ آبادی والے علاقوں خاصکر سکولوں میں کافی کار آمد ہوسکتا ہے۔ سپرے میں وائرس مخالف دوائی carrageenanکا استعمال ہوا ہے جو عام طور پر خوراکوں میں موٹا بنانے کیلئے استعمال ہوگا ہے اور عام الفاظ میں اس کو gellan کہا جاتا ہے۔ خوراکوں کو موٹا بنانے کیلئے استعمال ہونے والے gelling agentناک کی خلیوں سے چپک جاتا ہے اور ان کو اندر جانے سے روکتا ہے۔