پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس جیسی مہلک وباء کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوچکی ہے اور اس سے بچائو کیلئے کوششیں بھی کی جارہی ہیں تاہم ابھی تک اس عالمگیر وبا سے بچنے کیلئے ’سماجی دوری ‘(Social Distincing)ہی ایک واحد حل نکل کر سامنے آسکا ہے جس کو دیکھتے ہوئے لگ بھگ ہر ایک ملک سماجی دوری کو برقرار رکھنے کیلئے ٹریفک اور عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر رہا ہے اوروزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ملک میںپہلے 21دنوں کے لاک ڈائون کا اعلان کیاتھا ۔سابقہ مدت پوری ہونے کے بعد اس میںمزید 19دنوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔لاک ڈائون اور وائرس کے مزید پھیلائو کو روکنے کیلئے ضلع سطح پر انتظامیہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور عوام کو گھروں میں ہی رہنے کی تلقین کی گئی ہے ۔جموں و کشمیر یوٹی کا ایک بڑے سرحدی علا قے میں پہلے سے ہی لوگوں کے کھلے عام چلنے پر پابندی عائد تھی اور ان کئی سرحد ی دیہات میں تار بندی کی وجہ سے ایک بڑی آبادی کشمیر کے دونوں حصوں کو تقسیم کرنے والی ’صفرلائن ‘اور تار بندی کے درمیان قیدیوں جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ۔ان علا قوں میں دونوں ممالک کی افواج کے مابین اب فائرنگ روز کا معمول بنتی جارہی ہے جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوچکا ہے ۔ابھی تک گولہ باری کی وجہ سے جموں سے پونچھ اور وادی کے سرحدی علاقوں میں روزانہ کی بنیادوں پر ہونے والی گولہ باری کی وجہ سے جہاں سینکڑوں انسانوں کی جانیں ضائع ہو ئی ہیں وہائی ہزاروں افراد زخمی اور معذور ہو چکے ہیں جبکہ فائرنگ زون میں آنے والے سرحدی دیہات میں اس وقت تک ہزاروں مویشی لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔عالمگیر وباء کے سامنے آنے کے بعد جہاں پوری دنیااس مہلک وبا ء سے نمٹنے میں لگی ہوئی ہے وہیں ہند وپاک کی افواج کے مابین سرحدی علاقوں میں گولہ باری کا تبادلہ بغیر کسی روک ٹوک کے جاری ہے ۔متاثرہ خاندان ہر دن فائرنگ کے عمل پر روک اور حکومتوں کے مابین آپسی معاملات بات چیت کے ذریع حل ہونے کی امید و دعا بھی کرتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود 2019ا گست سے فروری 2020تک سرحدی علاقوں میں فائربندی معاہدہ کی3,479 مرتبہ خلاف ورزی ہوئی ہے جبکہ رواں برس یکم جنوری سے 23فروری تک کل 54دنوں میں 646مرتبہ فائر بندی معاہدہ کیخلاف ورزی کی گئی ہیںاورفوج کے مطابق 2020میں فائرنگ کی رفتار اور بھی زیادہ ہو چکی ہے اور مارچ ماہ میں ہی 411مرتبہ سیز فائر معاہدے کیخلاف ورزی کی گئی ہے۔ حدمتارکہ پربغیر کسی وجہ کے ہونے والی فائرنگ کی وجہ سے ایک بڑا غریب طبقہ متاثر ہورہا ہے ۔
5اگست 2019سے قبل پانچ برسوں کااگر موازنہ کیا جائے تو اس میں ایک واضح فرق دکھائی دے رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم ہونے کے بعد اس عمل میں زیادہ تیزی آچکی ہے ۔یوٹی کے ایک بڑے سرحدی علا قہ میں درجنوں دیہات ایسے ہیں جن میں جانے کیلئے فوج کی جانب سے بنائے گئے مخصوص راستوں کے ذریعہ نے ہی گزرنے کی اجازت ہے جبکہ دیگر راستوں اور گائوں میں تار بندی کی گئی ہے ۔اس سرحدی پٹی میں بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور ان میں سے زیادہ تر تعداد زراعت پیشہ ہے جبکہ مذکورہ دیہات میں یا تو کوئی تعلیمی ادارہ موجود ہی نہیں ہے اور اگر موجود بھی ہے تو اس میں بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان پایا جارہاہے جس کی وجہ سے ان علا قوں کے زیادہ تر طلباء بالخصوصی لڑکیاں اعلیٰ تعلیم سے ہی محروم رہرہی ہیں ۔تار بندی کے اندر اور ملحقہ علاقہ جات میں لوگ ہمیشہ گولیوں کی گن گرج اور بھاری گولہ باری میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کے دوران ان سرحدی دیہات کے لوگوں اب ’’ڈبل لاک ڈائون ‘‘میں قیدہیں ۔اندریہات میں نہ تو کوئی رابطہ سڑکیں موجود ہیں اور نہ ہی پانی کی لفٹ سکیمیں چلائی گئی ہیں ۔لوگ پینے کا صاف پانی فائرنگ کے خوف کے باوجود قدرتی چشموں سے لاتے ہیں تا ہم کچھ جگہوں پر فوج کی جانب سے بھی گاڑیوں کے ذریعہ صاف پانی سپلائی کیا جاتا ہے ۔اسی طرح فوج کی جانب سے ان علا قہ میں بنائی گئی کچھ سڑکیں ہی لوگ استعما ل کرتے ہیں ۔تار بندی کے اندر کوئی بڑا ہسپتال موجود نہ ہونے سے زخمی ہونے والوں کی کئی گھنٹوں تک ابتدائی مرحم پٹی تک رسائی بھی نہیں ہوتی اور کئی افراد موت کے منہ میں بھی چلاے جاتے ہیں ۔دنوں ممالک کے مابین بنائی گئی کئی سو کلو میٹر حدمتارکہ اورانٹر نیشنل باڈر پر حالات کشیدہ رہنے سے دونوں جانب لوگ جہاں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں وہیںہر گزرتے دن ان کو جانی ومالی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑرہاہے ۔حالیہ دنوں میں پونچھ اور راجوری کے سرحدی علا قوں میں بھاری توپ خانے کا استعمال بھی کیا گیا ہے اور اس کی زد میں کئی مزید دیہات بھی آ چکے ہیں ۔اسی طرح وادی کے کپواڑہ ضلع کے سرحدی علاقہ میں بھی فائرنگ کا دائر ہ وسیع کر دیا گیا ہے ۔فوج کی جانب سے ہر دفعہ پاکستانی افواج پر با اشتعال فائرنگ کرنے کا الزام عائد کرنے کساتھ ساتھ معقول جوابی کارروائی بھی عمل میں لانے کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان علاقوں میں رہائش پذ یر عام لوگوں کے درد کو کوئی نہیں سمجھ سکتا جو کہ اپنی دوسری نسل کا مستقبل اپنی آنکھوں کے سامنے تاریک ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔
اعداد و شمار کے مطابق دفعہ 370کے خاتمے کے بعدکچھ ہی ماہ میں 1,565 مرتبہ سرحدین گونجی ہیں جن میں سے گزشتہ برس اکتوبر میںسب سے زیادہ 398مرتبہ نومبر میں 333،اگست میں 323 جولائی میں 314اور ستمبر میں 308فائرنگ کی وارداتیں ہوئی ہیں ۔ان سے صاف ظاہر ہے کہ حالیہ کچھ عرصہ میںحد متارکہ پر روزانہ کی بنیادوں پر فائرنگ کی جارہی ہے جس کے دوران فوجی چوکیوں کیساتھ ساتھ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔اس عمل سے نہ صرف لوگوں کی جانوں کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے بلکہ فصلیں اور بچوں کی پڑھائی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔فائرنگ کی اس بڑھتی ہوئے شرح کی وجہ سے مکینوں کی مشکلات کا دائرہ واسیع ہوچکاہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے بنکروں کی تعمیر بھی شروع کی گئی تھی لیکن ابھی تک ایک بڑے علا قے میں مذکورہ ڈھانچے مکمل نہیں ہو سکے اور کسی بھی مشکل وقت میں لوگ اپنے کچے گھروں میں ہی محصور رہتے ہیں ۔دونوں ممالک کی حکومتوں کوچاہئے کہ وہ تمام مسائل آپسی مفاہمت کے ذریعہ حل کر کے لوگوں کو خوف سے نجات دلانے میں اپنا رول ادا کریں اور کم از کم کورونا وائرس کی اس عالمگیر وباء کے دوران سرحدی بستیوں کو سکون سے رہنے دیںکیونکہ وہ ایک طرف کورونا سے بھاگ رہے ہیں اوراب دوسری طرف انہیں مسلسل گولہ باری سے بھی بھاگنا پڑرہا ہے۔