ہندوستان کورونا متاثرین کے عالمی گراف میں25مارچ کو25ویں نمبر سے چھلانگ لگا کر31مئی کوساتویں نمبر پر پہنچ گیاتھا ۔ہم کورونا متاثرین کی تعداد میں یومیہ تشویشناک اضافے کا رجحان دیکھ رہے ہیں اور تقریباً اب ہر روز دس ہزار نئے مریض سامنے آرہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ روزانہ 1لاکھ10ہزار جانچ کئے جانے والے نمونوں میں سے7فیصد مثبت پائے جاتے ہیں۔بھارت اب اٹلی کو پیچھے چھوڑ کر کورونا متاثرین کی عالمی فہرست میں چھٹے پائیدان پر پہنچ گیا ہے اور اب اس کے آگے صرف امریکہ ،برازیل ،روس،برطانیہ اور اسپین رہ گئے ہیں۔16مارچ کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تمام ممالک کے نام ’’صرف ٹیسٹ ،ٹیسٹ اور مزید ٹیسٹ ‘‘کرنے کے سیدھے سے پیغام یا ہدایت کے باوجود بھارت اپنی پالیسیوںکی وجہ سے ٹیسٹ کرنے میں بہت سست ہے ۔مزید یہ کہ ٹیسٹنگ کا عمل ایک بہت بڑے پالیسی سقم سے دوچار ہے جو مریضوں کے مفادات کے برعکس کام کررہا ہے۔
2 جون تک مجموعی طور پر بھارت میں 39,66,075 ٹیسٹ ہوئے تھے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملین کی آبادی میں سے 2876افراد کے ٹیسٹ کئے جارہے تھے۔یہ برازیل کو چھوڑ اُن تمام ممالک سے 6فیصد کم ہے جو کورونا متاثرین کی فہرست میں ہم سے آگے یا پیچھے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ 24مارچ کو فی ملین آبادی کیلئے محض35ٹیسٹوں سے آگے بڑھ کر بھارت بہت آگے نکل چکاہے تاہم اس خوف سے کہ جب ہم اگر ٹیسٹنگ کا عمل بڑھا دیں گے تو ہم عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہوں گے ، شاید ہمیں پیچھے رکھے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹیسٹ اور اعدادوشمارپر مرکزی حکومت کی سخت پکڑ ہے۔
کوویڈ۔19 جیسے کسی بھی انفیکشن کوچار T(ٹیسٹ،ٹریس ،ٹریک اور ٹیسٹ )کے ساتھ مکمل سائیکل میںنمٹنے کی ضرورت ہے۔یعنی ہمیں پہلے ایک ٹیسٹ کرنا ہے اور پھر اگر یہ مثبت آیا ہے جو اس کے ساتھ رابطہ میں آنے والوں کا پتہ لگانا ہے اور اس کو حاضر کرنا ہے جس کے بعد ان کا ٹیسٹ بھی کرناہے ۔ بڑے پیمانے پر ٹیسٹ یاجانچ کے لئے جانچ کرنے والوں کو آسان ٹیسٹس کی ضرورت ہے ۔تاحال ہندوستان میں دستیاب کوویڈ 19 ٹیسٹ انتہائی فنی اور مہنگے ہیںجسے ریورس ٹرانسکرپٹیس پولیمریس چین ری ایکشن (RT-PCR) کہتے ہیں۔
بھارت میں اس ٹیسٹ کی قیمت نجی سیکٹر میں 4500روپے ہیں اور ساتھ ہی کسی ڈاکٹر کے ذیعے معائنہ اور دیگر حکومتی پابندیوں جیسی سخت شرائط عائد ہیں۔یہ عوامی نجی سیکٹر میں ٹیسٹ کرانے کیلئے لوگوں کیلئے رکاوٹوںکا باعث بن رہے ہیں۔سرکاری مقامات پر عوام کو تکالیف کا سامنا کرناپڑتا ہے اور اکثر انہیں اس سروس سے محروم رکھاجاتا ہے۔
مزید یہ کہ 21 مارچ کے حکومت ہند کے حکم کے مطابق بڑی نجی لیبارٹریوں میں فی ٹیسٹ کی قیمت 4500 روپے تھی لیکن یہ سب کیلئے یکساں فیس بالکل ہی نہیں تھی۔اس سلسلے میں انڈین کونسل برائے میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے رہنما اصولوں کے من و عن الفاظ کچھ اس طرح تھے :’’نمونے کی جانچ کے لئے زیادہ سے زیادہ قیمت4500روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔اس میں مشتبہ معاملات کیلئے1500روپے کا سکریننگ ٹیسٹ اور اضافی 3ہزار روپے کا تصدیقی ٹیسٹ شامل ہوگا۔تاہم آئی سی ایم آر قومی صحت عامہ کی اس ہنگامی صورتحال میں مفت یارعایتی داموں پر ٹیسٹ کی ترغیب دیتا ہے‘‘۔
ہما ری جانکاری کے مطابق اگرچہ نامزد نجی لیبارٹریاں صرف ایک ہی یعنی پی سی آرٹیسٹ کررہی ہیں جس کی قیمت صرف 1500 روپے ہونی چاہئے ، لیکن انہوں نے ہمیشہ مقررہ معیاری فیس کے طور4500روپے مریضوں سے طلب کئے ۔یہ انتہائی غیر معقول اور خلاف وجدان ہے۔ یہ ایک ایسی منڈی میں پیسہ اینٹھنا ہے جس کا یومیہ بزنس 20کروڑ روپے اور ناجائز منافع کی شرح300فیصد ہے۔ان لیبارٹریوںکے پاس اب معمول کے دیگر ٹیسٹ کرنے کا وقت ہی نہیں ہے ۔نجی لیبارٹریوں میں کئے جارہے کووڈ ٹیسٹوںمیںسے اکریت نجی ہسپتالوں سے آتے ہیںجبکہ چند ٹیسٹ ان حاملہ خواتین،ڈیالیسس ،کیمو تھراپی اور ماقبل جراحی والے مریضوں کے ہوتے ہیں جن کے پاس دفاع کا کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے۔ اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ مریضوں کو جسمانی اور معاشی طور پر تکلیف د ینے کے علاوہ وہ اس وجہ سے ہراساں ہورہے ہیںکہ ہسپتالوں میں داخلہ سے قبل اُن سے ان ٹیسٹوںکا مطالبہ کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے اُن کا علاج تاخیر کا شکار ہورہا ہے۔
25 مئی تک آئی سی ایم آر نے 83 آر ٹی-پی سی آر کٹس کا تجزیہ کیا اور 35 کو اطمینان بخش پایا۔ ان میں سے 20 ہندوستانی کمپنیوںکے ہیں ، جن میں پونے کی میری لیبزنامی کمپنی بھی شامل ہے جس نے انتہائی کم قیمت پرہونے والا پہلا ہندوستانی ٹیسٹ ہونے کی وجہ سے سرخیوں میں جگہ پائی۔ آئی سی ایم آر نے سرکاری سطح پر چلنے والی لیبارٹریوں کیلئے آر ٹی-پی سی آر کٹس کی خریداری کے لئے فی ٹیسٹ کی قیمت 700-1100 روپے کی حد مقرر کی۔ عمومی طور اس طرح کے مہنگے ٹیسٹوں میں کمرشل اخراجات ری ایجینٹ کی قیمت خرید سے دوگنا ہوتے ہیں ، لہٰذا اوسط قیمت1400سے2200ہونی چاہئے تھی لیکن سفارش شدہ زیادہ سے زیادہ 4500روپے فی ٹیسٹ کی قیمت اب نجی سیکٹر کیلئے معمول بن چکا ہے جس سے وبائی امراض کے وقت لوگوں کو درپیش بوجھ میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔
تلنگانہ اور تامل ناڈو ریاستوں نے ہر ٹیسٹ کیلئے 2500 روپے کی قیمت مقرر کی تھی لیکن مہاراشٹر اور بریہان ممبئی میونسپل کارپوریشن3500روپے کی ادائیگی کرتے ہیں اور نجی ہسپتالوں و افراد کو 4500ادا کرنا پڑرہے ہیں۔ 25 مئی کو آئی سی ایم آر نے ایک برقی خط جاری کرتے ہوئے تمام ریاستوں سے کہا کہ وہ ٹیسٹ کی قیمت پر نظر ثانی کریں تاہم قیمت کی کم سے کم حد مقرر کرنے سے انکار کردیا۔ہم نہیں جانتے کہ آئی سی ایم آر قیمت کو کم کیوں نہیں کرسکتا ہے جب دوسرے ایسا کرنے میںکامیاب ہوگئے ہیں۔
فوری ٹیسٹوںیا انزائم لنکڈ امیونو سوربنٹ آسے (ELISA) ،جو COVID-19 کیلئے انٹی باڈیز کی جانچ کرتا ہے ، کی اہمیت اور طلب میں اب اضافہ ہوا ہے ۔گوکہ ایک مثبت پی سی آر ٹیسٹ وائرس کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے ، تاہم ایک مثبت الیسا ٹیسٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جس شخص کا تجربہ کیا گیا ہے وہ وائرس سے مقابلہ کررہا ہے (IgM پازیٹو) یا ماضی میں انفیکشن میں مبتلا تھا اور اسے اب مدافعت حاصل ہوگئی ہے (IgG پازیٹیو)۔
آج تک(4جون تک) پونے کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائیرولوجی (NIV) میں کل 23 اینٹی باڈی پر مبنی تیز رفتار ٹیسٹوں کی توثیق کی جاچکی ہے اور آئی سی ایم آر نے 14 کی منظوری دے دی ہے۔ ان میں سے نو کٹس بھارت میں تیار کی جاتی ہیں۔ ہر ٹیسٹ کی ہدف قیمت آئی سی ایم آر نے 600روپے فی ٹیسٹ مقرر کی تھی۔برق رفتار ٹیسٹ کٹس کی ابتدائی کھیپ دو چینی کمپنیوں سے درآمد کی گئی ہے ، جنہیں آئی سی ایم آر نے کمتر معیار کی وجہ سے 27 اپریل کوبلیک لسٹ کر دیا۔وہ بھی تنازعہ کا شکار ہوگیا تھا جبکہ خریداری میں کورپشن کا بھی شائبہ ہوا تھا کیونکہ 225روپے قیمت والا چینی کٹ 600روپے میں خریدا گیاتھااور اب یہ معاملہ بھی تحقیق طلب ہے۔ہم نے اتنے بڑے پیمانے پر بھاری دھاندلی میں ملوث کسی کے بھی خلاف کسی قسم کی کارروائی کے بارے میں اب تک نہیں سنا ہے۔
جھارکھنڈ اور تلنگانہ ریاستوں نے بڑے پیمانے پر 337فی کٹ قیمت کے حساب سے خریدے گئے کوریائی ریپڈ ٹیسٹوں کواکثر اور کثرت کے ساتھ استعمال کیاہے ۔ کووڈ۔19 شاید واحد انفیکشن ہے جہاں ٹیسٹ کی ٹارگٹ قیمت زیادہ حد پر طے کی جاتی ہے اور دونوں کی ٹارگٹ قیمتیں شبہات کو جنم دیتی ہیں ، کیونکہ انھیں پرجوش مذاکرات کاروں نے جلدی سے آدھا کردیا۔ 30 مئی کو آئی سی ایم آر نے ایک بیان جاری کیا جس میں ریاستوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس کیIgG (طویل مدتی اینٹی باڈیز موجود گی) ایلیسا ٹیسٹ کو وسیع پیمانے پر ایک وبائی امراض کے کے جانچ کے آلے کے طور استعمال کریں۔ مناسب تھا کہ مشترکہ IGM-IgG ایلیسا ٹیسٹوں کی سفارش کی جاتی۔آئی سی ایم آرسے سفارش شدہ یہ ایلیسا کٹ کوالٹیٹو (مثبت یا منفی) نتیجہ دیتا ہے ، لیکن اینٹی باڈیز کی سطح کو ظاہر کرنے کے لئے مقداری نتائج نہیں دیتا ہے لیکن نمبروں کی ضرورت ہے اگرشفایاب مریض پلازما تھراپی کے لئے پلازما عطیہ کرے جس کیلئے 1:1000یا اس سے زیادہ کے مطابق ایک لیٹر میں انٹی باڈیز کی اعلیٰ سطح ہونی چاہئے۔
اس مرحلے پروزارت جو کم سے کم کام کر سکتی ہے وہ یہ ہے:
(1) منظور شدہ ٹیسٹوں کی ایک فہرست شائع کریں ، کیا وہ پی سی آر پر مبنی ہیں یا ELISA پر،ریاستی حکومتوں اور نجی شعبے کو اخراجات ، خریداری اور استعمال کے معاملات پر بات چیت کرنے کی اجازت دے۔
(2) 21 مارچ کو جاری کئے گئے اپنے مبہم سرکیولر کو واپس لے جس سے بڑے پیمانے پر پیسہ لوٹا جارہا ہے اور اس کے بعد ایک تازہ سرکیو لر جاری کرے جس میں کوئی ابہام نہ ہو اور ہر معاملہ کی مکمل وضاحت کی گئی ہو۔
(3) آئی سی ایم آر کو یکساں طورنجی لیبارٹریوں کی جانب سے لی جانے والی اضافی رقوم کی وصولی کیلئے ہدایات کرنی چاہئیں۔ تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کو نجی لیباٹریوں کی ادائیگیوں کواپس وقت تک روکنا چاہئے جب تک نہ وہ پی سی آر کی قیمت کومعقول سطح پر نہ لائیںاور اُسی حساب سے اضافی رقم واپس کریں کیونکہ یہ منافع خوری کا وقت نہیں ہے۔ تمام گاہکوں کو بھی رقم واپسی دی جانی چاہئے ، کیونکہ نجی لیبارٹریوں کے پاس آدھار کارڈ سمیت ان کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔ اسی طرح سے ہمیںسرکاری اور نجی سیکٹر میں ریپیڈ اور ایلیسا ٹیسٹوں کے استعمال کی اجازت دی جانی چاہئے حالانکہ یہ نتائج سرکاری اعداد و شمار میں شامل نہیں ہیں جن میں صرف پی سی آر ٹیسٹوں کی گنتی ہوتی ہے۔ تمام منفی ٹیسٹوں کو منفی قرار دیا جاسکتا ہے اورمثبت ٹیسٹوں کو تصدیق کے لئے منظور شدہ مراکز کو بھیجا جاسکتا ہے اگر وہ اعداد و شمار سرکاری اعدادوشمار میں استعمال کرنے ہوں۔ اس سے یہ یقینی بن جائے گا کہ نجی طبی شعبہ حکومت کے اثاثہ کے طور پراس عمل میں شامل ہوگا۔ اگر ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے IgG مثبت پائے جائیںتو اُسے دوبارہ تعینات کیاجاسکتا ہے کیونکہ ان میں قوت مدافعت پیدا ہوچکی ہوگی۔ہم ٹیسٹوں کی طلب اور حقائق کو دبانے کی بجائے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہوسکتے ہیں اورٹیسٹ کرنے کے عمل کو بھی تیز کرسکتے ہیں جس میں پُو ل ٹیسٹنگ بھی شامل ہے جس سے قیمت 60سے70فیصد کم ہوجاتی ہے ۔
( ڈاکٹر ایشور گلاڈا ایچ آئی و ی و متعدی بیماریوں کے کنسلٹنٹ ہونے کے علاوہ ایڈس سوسائٹی آف انڈیا کے صدر اورانٹرنیشنل ایڈس سوسائٹی کے گورننگ کونسل ممبر بھی ہیں۔یہ مضمون بلین پریس کے شکریہ کے ساتھ شائع کیاجاتا ہے اور آپ اپنی آراء [email protected] پر بھی بھیج سکتے ہیں )