ساری دنیا میںکرونا وائرس کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔اب تک دو لاکھ سے زائد انسانی جانیں تلف ہوئیںاور تیس لاکھ لوگ وائرس سے متاثر ہیں،جس کے پیش نظر لاک ڈائون نافذ ہے ۔کاروباری نظام بُری طرح مفلوج اور لوگ گھروں میں محصورہیں ۔ جموں و کشمیر میں بھی تاحال یہی صورت حال ہے اورانہی حالات میںماہ ِ رمضان المبارک کا آغاز بھی ہوا ہے، رحمتوں والا پہلا عشرہ رواں دواں ہے۔ مسلما نانِ عالم شوق و جذبہ اورعقیدت و احترام کے ساتھ عبادات میں مشغول ہیں، احتیاطی تدابیر کے تحت اپنے اپنے گھروں میں مقید ہیں۔ذرائع ابلاغ سے کرونا سے ہونے والی اموات کی خبریں تواتر کے ساتھ سننے کومل رہی ہیںاور بے بسی کے عالم میں دنیا بھر کے لوگ اس حقیقت کو ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ سپر پاور صرف وہ ذات ِ پاک ہے،جس نے ایک نظر نہ آنے والے باریک ذرے کو دنیا پر مسلط کر کے اپنے بندوں کو اپنے وجود کا احساس دلا یا ہےتاکہ وہ سنبھل جائیں، اپنے گناہوں پر نادم ہو جائیں، توبہ کرلیں اور اُسی واحد ذات کی طرف رجوع کریں،جس نے اس کائنات کو بنایا ہے، جو اس کو چلا رہا ہے۔بلا شبہ یہی وہ رب ِ کائنات ہے،جس نے آدم کو اپنی عبادت اوراطاعت کے لئے تخلیق کیا اور زمین پر بھیج کر اُسے اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے۔ یہی وہ واحد ذات ہے، جس نے حضرت ابراہیم ؑ کو نار نمرودی میں محفوظ رکھا ، یہی وہ رب ہے جس نے حضرت موسیٰ ؑکو دریا میں راستہ دے کر موجوں کے تلاطم سے محفوظ رکھا،یہی وہ ذات ِ پاک ہے، جس نے حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ میں محفوظ رکھا ،یہی وہ اللہ ہے جس نے اپنے گھر بیت اللہ کو ہاتھی والوں سے محفوظ رکھا،اوریہی وہ سُپر پاور ہے جو جب چاہے، جسے چاہےاور جہاں چاہےاُسے اِس وبائی وائرس سےہلاک کرسکتا ہے اور محفوط بھی رکھ سکتا ہے ۔
اُمت ِ مسلمہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اسلامی تعلیمات میں وَبا سے بچنے یا محفوظ رہنےکے بارے میں بھی واضح اور روشن حکمتیں و ہدایات درج ہیں ۔جن پر اگر عمل کیا جاتا تو دنیا اتنی بھیانک پریشانی سے ضروربچ جاتی۔مگر افسوس !اسلام کو نہ ماننے والے تو غیر مسلم ٹھہرے ،مسلمانوں نے بھی ان تعلیمات پر عمل نہیں کیااور نہ کسی ایک رائے پر متفق رہےاور نتیجتاً وہ بھی اس وَبا کی گرفت میں آگئے ہیں اور تاحال خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
کرونا کے پھیلائو کو روکنے کے لئے لاک ڈاون اور سماجی دوریوں کی جو صورت حال پیدا ہوگئی ہے ،اُس کی وجہ سے آج ماہ رمضان کے مبارک مہینے میںہمارے لئے نماز ِبا جماعت کی ادائیگی کے لئے جمع ہونااگر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، تو اسلامی تعلیمات میں اس کی راہ بتائی گئی ہے کہ نماز گھر میں بھی پڑھی جاسکتی ہے۔اگر اس آفت سے بچنے کے لئے کسی کے لئےروزہ نہیں رکھنا ناگزیرہو تو اس کا بھی متبادل رکھا گیا ہے۔بغور دیکھا جائے تو موجودہ صورت حال نے مسلمانوں کو دین پر عمل کرنے کے لئے ہر سطح کے علم کو تازہ کردیا ہے۔ اس لئے ہمارا یقین ہے کہ کائنات کے واحد سُپر پاور رب العزت کے منشا ئِ اِذن سے ہی عنقریب کروناسے نجات ہماری مقدر ہو گی،جس کے لئے ضرورت ہے اُس پر پختہ ایمان لا نے کی اور اُسی کی طرف توجہ و رجوع کی، کیونکہ اس کی رحمتیں آج بھی ہر سو بٹ رہی ہیں ۔
رمضان المبارک ایک ایسا مقدس مہینہ ہے جو انسانوں کے اجر وثواب کو بڑھانے ،گناہوں کو معاف کرنے ، نیکیوں کی راہوں کو ہموار کرنے ،بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھانے،نافرمانیوں کے دلدل میں پھنسے ہوؤں کو نکالنے ،جذبہ اطاعت و عبادت کو پروان چڑھانے ،ذکر ومناجات کی لذتوں کو پیدا کرنے ، قرآن کی نورانی تلاوت کو عام کرنے ،ایثار وہمدردی کے جذبوں کو جگانے ،بھوکوں کو کھلانے اورانسانوں کو نارِ جہنم سے نجات دلانے کے لئے مہمان بن کر آتا ہے اور رحمت الٰہی سے سب کے لئے بہت کچھ لٹاکر جاتا ہے ۔اسی لئےہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مبارک مہینہ کی آمد سے قبل ماہِ رجب سے ہی اس کے انتظار میں رہا کرتے تھے اور جہاںلوگوں کو اس کی اہمیت و عظمت سے آگاہ فرماتے تھےوہاں ہدایات بھی دیا کرتے تھے کہ رمضان المبارک کا استقبال کس طرح کیا جائے ،اِس مبارک مہینہ کو کیسے گزاراجائےاور اس کی قدر دانی کیسے کی جائے؟
اب ذرا غور کیجئے ۔کیا ہم اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن ہدایات و تعلیمات پر عمل کرتے ہیں،جن کی آپ ؐ نے تاکید فرمائی ہیں۔جبکہ عام طور پر ہمارے یہاںیہی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ رمضان کی آمد سے پہلے ہم اس کے استقبال کے لئے تو ضرورفکر مند ہوتے ہیں مگرہمارے دل و دماغ میں استقبال ِ رمضان کا کوئی تصور ہی نہیں ہوتا اور نہ ہمارے ذہن و دماغ میںرمضان المبارک کی عظمت پیوست ہوتی ہے۔شاید اسی لئے ابتدائی چند دنوں تک اس ماہ کی عقیدت و احترام کا جوش و خروش سے مظاہرہ کرتے ہیںاوردینی شوق و جذبہ دکھاتے ہیں لیکن جوں ہی چند دن یا پہلا ہفتہ گزر جاتا ہے یا پہلا عشرہ گزرنے نہیں پاتا ہےتو ہمارے جذبات سرد اور فکر و شوق ماند پڑجاتے ہیں۔مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد انہی چند دنوں کے روزوں کو کافی سمجھتے ہوئےباقی با برکت دنوں کوبغیر روزہ معمول کے مطابق گزاردیتی ہے ۔لوگوں کی ایک تعداد تو محض جمعہ کو روزہ رکھنے پر مکتفی ہے جوکہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ حقیقت تویہ ہے کہ رمضان المبارک کے حقیقی استقبال اور اس کی آمد کی صحیح فکریہ ہے کہ پورے رمضان المبارک کو ایک مکمل نظام العمل کے ساتھ گزارنے کےلائحہ عمل پر عمل درآمد ہو،صبح و شام کے معمولات ترتیب کے مطابق انجام پذیر ہوں ،احکام وا طاعات کی بجا آوری کے لئے کمر کس لی گئی ہواور ہر فارغ وقت کو عبادت میں صرف کرنے کا تہیہ کرلیا ہو۔یاد رہے کہ ہمارے لئےانفرادی یا اجتماعی طور پر جو بھی مسائل پیدا ہوتے ہیںہمارے دین ِ اسلام نے اس کا بہتر حل پیش کیا ہےالبتہ احکام خداوندی اور فرمان نبوی پر عمل کے بغیر کوئی بھی بہتر حل ممکن نہیں ۔ اسلام کی تعلیمات نے لوگوں کو رب کی بندگی کرنے اور انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ و رسول کی غلامی کا بیش قیمتی طریقہ بتایا ہے اور اسی پر عمل پیرا ہونا دونوں جہاں میں سر خ روئی و کامیابی کی ضمانت ہے اور جو لوگ اس پر عمل پیرا ہیں وہ دونوں جہاں میں کامیاب ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور قرآن کریم میں یہ بات مختلف پیرائے میں بار بار کہی گئی ہے کہ انسان کی کاوش و جستجو کا اصل نتیجہ آخرت میں سامنے آئے گا اور آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔آخرت پر یقین اسلام کے ان تین بنیادی عقیدوں میں سے ایک عقیدہ ہے جن کے بارے میں بے یقینی کی معمولی سی کیفیت بھی ایک طرف اللہ کی نگاہ میں مسلمان کے ایمان کو بے وقعت کرسکتی ہے اور دوسری طرف دنیا میں اس کے اعمال و اخلاق کی کیفیت ان سے متاثر ہوتی ہے ۔چنانچہ اسلامی عقاید کا تعلق آخرت کی نجات اور دنیا کے معاملات دونوں سے ہے اور اسلام کے بنیادی عقیدے ایک فلسفہ زندگی کی حیثیت رکھتے ہیں،لہٰذا مسلمان کے فکر و عمل کا تعلق آخرت سے وابستہ ہوتا ہے اور مسلمان کی سوچ اور رویہ ان انسانوں سے قطعی مختلف ہوتا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ،یا اللہ کی رہنمائی کے نظام یعنی رسالت کی پیروی کو نہیں مانتے یا جن کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے لئے ہی ہوتی ہے۔غرضیکہ اس بنیادی عقیدے اور فلسفہ زندگی کے حوالے سے ہم مسلمانوں کا رویہ بالعموم افراط و تفریط کا شکار ہے ،ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کی دوڑ دھوپ اور سرگرمیوں کو خالص ایک دنیاوی کام سمجھ لیا ہے اور آخرت کی کامیابی کے لئے عبادات ،وضائف اور صدقات و نوافل کو اصل و کافی مان لیا ہے ،دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو زندگی کی ترقیوں کے لئے زندگی کی اس طرز پر چلنے اور چلانے کا رجحان رکھتے ہیں جس میں آخرت کی کامیابی کی شرائط پوری نہیں ہوتیں ۔آخرت کی کامیابی کی بنیادی شرط اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت ہے اور اس عبادت و اطاعت کا امتحان زندگی کے عملی رویوں میں ہوتا ہے ۔جو لوگ زندگی کے عملی میدان میں مسابقت کی جدوجہد سے دور رہ کر عبادت و اطاعت کے جذبات کی تسکین کرتے ہیں وہ میدان امتحان سے دور ہیں اور بغیر امتحان کے آخرت میں سرفرازی کی امیدیں رکھتے ہیں لیکن جو لوگ زندگی کے عملی میدان میں جدو جہد کا چیلینج قبول کرتے ہیں مگر اس جدوجہد کے لئے خود کو اللہ و رسول کی رہنماہدایات کا پابند نہیں بناتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی کامیابی ان کا اصل ہدف نہیں بلکہ ان کا مطمع نظر دنیا تک ہی محدود ہے۔
آج دنیا کی حرص اور ایک دوسرے پر دنیاوی سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں ہم اطیعو اللہ و اطیعو الرسول سے بہت دور ہوچکے ہیں اور دنیاوی کامیابی کو ہم نے اصل کامیابی سمجھ لیا ہے جبکہ دین کی خدمت کو چھوڑ کر، اسلام کی تعلیمات سے دور رہ کر ہم اس کروناوَبا کی زد میں آگئے ہیں۔ یہ بات ہمیں ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے اور یہ کامیابی ہمیں قرآن و حدیث کے مطابق عمل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ سیرت رسول اکرمؐ،، عالم اسلام اور عالم انسانیت کے لئےتا قیامت راہ ِمشعل ہےاور راہ نجات بھی ہے۔ آج مسلمان ممالک پر بھی کرونا منڈلا رہا ہے مگر دنیا کے کئی ملکوں میں مسلمانوں کا ہی عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ، ہر جگہ مسلمانوں کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور دنیا کی ہر قوم مذہب اسلام کی شبیہ کو بگاڑنے پر تلی ہوئی ہیں اور ہم ہیں کہ اللہ کے قرآن اور نبی ؐکے فرمان سے دور ہوکر قوم اغیار کے دستار سجا رہے ہیں اور اپنی تاریخ کو بھلا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر معجزات کا انتظار کر رہے ہیں۔
یا رکھیئے! ہم عبادت اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں عبادت کرنے کا حکم ملا ہے ،جس کا مقصد انسان اور خدا کے رشتے کو مستحکم بنانا ہے تاکہ انسان اپنی حقیقت اور فطرت سے زیادہ سے زیادہ قریب رہ کر ایک ایسے معاشرے کا قیام عمل میں لائیں ،جس میںکسی بھی درجے میں ان رشتوں کو کمزور ہوجانے کا اندیشہ لاحق نہ رہے ۔جدید دور میں اس حوالے سے دنیا کے کئی خطوں میں مسلمان مفکرین نے ایک فکر انگیز لٹریچر تیار کیا، جو اسلامی معاشرے کے خدو خال کو بڑی وضاحت سے بیان کرتا ہے ۔اس فکری لٹریچر کے عالمگیر سطح پر جو اثرات مرتب ہوئے اُن کو دیکھ کر اس کے سوا کچھ نہیںکہا جاسکتا کہ یہ تاثرات صرف ان بڑی شخصیتوں کی فکر کا نتیجہ نہیں ہوسکتے بلکہ اس فکر کی پرورش اور پھیلائو پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بھی سایہ فگن ہے۔اللہ تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم اس رمضان کی قدر کریں۔یہ مبارک مہینہ جہاں اللہ کا مہمان ہے وہیں اس کی طرف سے ایک عظیم الشان نعمت بھی کیونکہ یہ مہینہ رحمت ،مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے۔جس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر ملتا ہے اور فرض کا ثواب ستر گناملتا ہے۔موجودہ صبر آزما اور مشکل حالات میں ہم سبھی اپنے گھروں میں ہی مقیم ہیں،موقع غنیمت ہے کہ ہم زیادہ وقت عبادت و ریاضت میں ہی گزاریںاور جہاں ہم اپنے اور اپنے اہل ِ خانہ کی سحری و افطاری کے لئے ضروریات ِزندگی کی سہولیات کا بندو بست کریں وہاں اُن لوگوں کو ہرگز نہ بھولیں جنہیں اِن مشکل اور صبر آزما حالات میںسحری اور افطاری کے موقعوں پرچند لقمے کھانےکے لئے ہماری ضرورت ہے ۔