کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ کے کنن پوشہ پورہ میں تیسرے روز بھی سرپنچ کی مبینہ لاپرواہی کے خلاف مقامی لوگو ں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ متا ثرین کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔تین روز قبل کنن پوشہ پورہ میں اس وقت کہرام مچ گیا جب ایک کمسن ایک گڑھے میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ کنن کے مقامی سر پنچ نے تین سال قبل اپنے مکان کے سامنے ایک غسل خانہ تعمیر کیا اور اس کے لئے جوگڑھاکھودا اُسے کھلا چھو ڑنے کی وجہ سے اُس میں کا فی پانی جمع ہوا ہے اور ان تین سالوں میں انہو ں نے اسے بند نہیں کیا جس کی وجہ سے اب تک تین حادثات رونما ہوئے ۔3روز قبل ایک کمسن ایان الطاف بٹ سکول جارہا تھا کہ وہ اس گڑھے میں ڈوب کر لقمہ اجل بن گیا ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ انہو ں نے کئی بار مقامی سر پنچ سے کہا کہ گڑھا بند کیا جائے لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔انہوں نے سر پنچ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ۔ مقامی لوگو ں نے زونل ایجو کیشن ا فسر ترہگام کو بھی اس سلسلے میں آگاہ کیا ہے۔اس حوالے سے مقامی سر پنچ خورشید احمد ڈار نے کہا ’’ میں نے اپنی زمین مسجد شریف کے لئے وقف کی تاکہ وہا ں پر مسجد شریف کے لئے غسل خانہ تعمیر کیا جائے گا اور غسل خانے کی تعمیر جب مکمل ہوئی تو اس کیلئے سر بنا یا گیا اور مقامی لوگو ں نے محکمہ دیہی ترقی میں شکایت درج کی کہ میں اپنے ذاتی مقصد کے لئے غسل خانہ تعمیر کررہا ہوں جس کے بعد محکمہ نے کام روک دیا‘‘ ۔انہو ں نے کہا کہ کئی بار معاملہ محکمہ دیہی ترقی کے اعلیٰ حکام کی نو ٹس میں لایا گیا لیکن تا حال انہو ں نے کوئی بھی کاروائی عمل میں نہیں لائی جس کی وجہ سے آج یہ حادثہ پیش آ یا ۔معاملہ کی نسبت بلاک ڈیو لپمنٹ افسر ترہگام نے کہا کہ انہوںنے کئی بار مقامی سرپنچ اور فیلڈ عملہ کو نو ٹس جاری کی تھی کہ غسل خانہ کوفوری طور مکمل کریں لیکن تا حال غسل خانہ کو مکمل نہیں کیا گیا ۔انہو ں نے کہا کہ جب کنن پوشہ پورہ میں ایک کمسن کی ہلاکت ہوئی تو انہو ں نے فیلڈ عملہ کو تاحکم ثانی اپنے دفتر سے منسلک کیا ہے اور ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تاکہ اصل حقیقت سامنے لائی جائے ۔انہوں نے مزید کہا جو کوئی اس لاپرواہی میں ملو ث پایا جائے گا اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔