کشمیر یونیورسٹی کے شمالی کیمپس میں ذہنی صحت سے متعلق پروگرام

بارہ مولہ//ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار اُن تمام لوگوں کی مدد کرنے کیلئے اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے ،جو ذہنی دبائو کا شکارہیں اوراس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ خود کوالگ تھلگ یا کسی طور دھتکارے ہوئے محسوس نہ کریں۔اس بات کااظہار ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئرپروفیسررئیس احمدقادری نے کشمیر کونیورسٹی کے شمالی کیمپس بارہ مولہ میں ذہنی صحت سے متعلق ایک ورکشاپ وبیداری پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔یونیورسٹی کے شمالی کیمپس اور ڈیپارٹمنٹ آف سٹوڈنٹس ویلفیئر کے باہمی اشتراک سے منعقدہ اس پروگرام میں ڈائریکٹر شمالی کیمپس پروفیسر پرویزاحمدنے اس پروگرام کی اہمیت اور افادیت اُجاگر کی۔انہوں نے کہا کہ جاری عالمگیر کورونا وباء نے صف اول پر کام کرنے والے صحت کارکنوں سمیت بزرگوں،اورجوانوں میں ذہنی مسائل پیدا کئے ہیں کیوں کہ کسی کی موت،الگ تھلگ رہنے اور نفسیاتی دبائو نے اُنہیں اس کاشکار بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے ہم شرکاء پر زوردیتے ہیں کہ وہ سماج میں یہ پیغام عام کریں کہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار لوگوںکوعزت اوراحترام کے ساتھ ہماری پرواہ کی ضرورت ہے اور انہیں الگ تھلگ یاقبول نہ کرنانہیں ہے۔انہوں نے ذہنی صحت کے مسائل کو کوئی عیب نہیں سمجھنا ہے ۔ اپنے کلیدی خطبے میں  سکمزمیڈیکل کالج کے شعبہ نفسیات کے سربراہ پروفیسرعبدالمجید نے کووِڈ- 19کی موجوگی کے اس دور میں ذہنی صحت کے مسائل اور مشکلات کواُجاگر کیااورایسے بیداری پروگراموں کی اہمیت بھی بیان کی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں میں ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہونے کے پیچھے مختلف وجوہات ہوتی ہیں ۔لوگوں کو معقول نیند لینی چاہیے  اور متوازن غذا کااستعمال کرنا چاہیے اوردوستوں اور اہلخانہ سے رابطہ رکھنا چاہیے ۔اس کے علاوہ باضابطہ ورزش بھی ذہنی مسائل کیلئے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے ذہنی مسائل کے بارے میں ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے ۔ اس دوران سوال وجواب کا ایک سیشن بھی منعقد ہواجس میں طلبہ اور اسٹاف نے ڈاکٹر مجید سے استفسارات کئے جن کے پروفیسرمجید نے اطمینان بخش جواب دیئے۔۔اس ایک روزہ پروگرام کے دوران منشیات کی لت کے بارے میں بھی سیرحاصل بحث ہوئی۔