ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ عوام جموں و کشمیرمیں بغیر کسی سیاسی رہنمائی و قیادت کے دن گزارے جا رہے ہیں۔گہما گہمی کے اس دور میں کسی شہری کو نہیں معلوم کہ کیا بیانیہ لے کر چلنا ہے، کس ڈگر پر چلنا ہے اور کون رہنمائی فرمائے گا۔ بس اگر لوگوں کو کچھ پتہ ہے تو وہ ہے غیر معینہ غیر یقینی کی سی صورت حال۔ کوئی لیڈر نہیں جو آئے اور لیڈ کرے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کبھی کبھار ٹی وی وغیرہ پر آتے ہیں اور یہ کہہ کر غائب ہو جاتے ہیں کہ 5 اگست 2019 والا فیصلہ قابل قبول نہیں اور گپکار ڈیکلریشن کی یاد دہانی کرکے چلے جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس ضمن میں خود ان کی اپنی جماعت نیشنل کانفرنس کا بھی واضح لائحہ عمل نظر نہیں آتا ۔ اگر وہ واقعی ہی دل و دماغ سے گپکار اعلامیہ پر کاربند ہیں تو اب تک ان کی جماعت کی طرف سے جے اینڈ کے و لداخ کو متحد کرنے اور خصوصی پوزیشن کو واپس دلانے کے لئے کوئی پارٹی پالیسی واضح کیوں نہیں ہے؟ وہ بیماری کی تشخیص تو کر رہے ہیں لیکن بیماری کا علاج کیسے کیا جائے یہ نہیں بتا رہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بھی منظر سے غائب ہے ۔آدھی پی ڈی پی نے تو الطاف بخاری کی قیادت میں الگ "اپنی پارٹی" بنا لی۔ سینئر پی ڈی پی رہنما مظفر بیگ "پدم بھوشن" لے کر خاموش ہو گئے ۔ محبوبہ مفتی ابھی بھی قید میں ہیں ۔کون نہیں جانتا ون مین آرمی کہے جانے والے انجینئر رشیدپابند سلاسل ہیں۔انجینئر رشید کی کچھ باتوں سے شدید اختلاف کر سکتے ہیں لیکن وہ اسمبلی کے اندر ریاست بھر کے پسے ہوئے لوگوں کی آواز تھے۔ 370 کی منسوخی کے ملبے کے نیچے سے انکی آواز کہیں باہر آنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔شاہ فیصل تو خیر میدان ہی چھوڑ کر بھاگ گئے اور جاتے جاتے عوام کو تلقین بھی کر گئے کہ اب جو ہوچکا اور جو ہو رہا ہے، عوام اس پر لبیک کہتے جائیں۔ سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی بھی رہائی کے بعد کہیں چار دیواری میں ہی روپوش ہیں۔پینتھرس پارٹی کے ہرش دیو سنگھ کبھی کبھار بے روزگاری، مہنگائی اور کچھ دیگر معاملات پر جموں پریس کلب کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروا کے اوجھل ہو جاتے ہیں۔انڈین نیشنل گانگریس بھی منظر سے کم وبیش غائب ہے ۔ سیف الدین سوز، طارق قرہ، رمن بھلا، غلام احمد میر کہیں نظر نہیں آ رہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ،جو جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کو ہی ہر مرض کا علاج سمجھتی تھی، کی حالت بھی کافی دلچسپ ہے۔ شروع شروع میں اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے اسکو جموں و کشمیر کی سیاسی فیصلہ سازی میں مرکزی کردار ملے گا لیکن وہ شاید یہ بھول گئے تھے کہ سیاسی جماعتیں عوام کی ترجمان ہوتی ہیں۔ جو پارٹی عوام میں جتنی زیادہ مقبول ہوتی ہے، سیاسی فیصلہ سازی میں اسی کا کردار اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ بہت سارے فیصلے جو اسوقت جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کی طرف سے ہو رہے ہیں، کا جے اینڈ کی بی جی پی کو میڈیا سے پتہ چلتا ہے۔
ایک چیز جو ان پارٹیوں میں قدرے مشترک ہے،وہ ہے عوام سے دوری۔ جمہوری نظام میں سیاسی جماعتیں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ جمہوریت کی اقدار یہیں سے پروان چڑھتی ہیں ۔سیاسی نظریات سیاسی پارٹیوں کا اثاثہ ہوا کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں اپنا یہ اہم ترین فریضہ پوار کرنے میں نا کام رہی ہیں۔ مثلاً پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کا نظریہ ہے 'سیلف رول' لیکن یہ بات اس نے اپنے ہر کارکن تک نہیں پہنچائی اور یہی وجہ سے کہ پارٹی کے عام کارکن پر 05 اگست 2019 والے واقعے کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا اور کچھ ہی دنوں میں وفاداریاں بدلے جانے کا عمل شروع ہو گیا ۔ اسی طرح نیشنل کانفرنس کی کور آئیڈیالوجی جموں و کشمیر کی 'اندرونی خود مختاری' ہے لیکن جموں و کشمیر کی ایک پرانی جماعت ہونے کے باوجود این سی کا ہر کارکن اس لفظ سے پوری طرح آگاہ نہیں ہے۔دوسری جماعتوں کی مثالیں بھی ایسے ہی ہیں۔پارٹیوں کے اندر اختلاف رائے، جی حضوری اور اقربا پروری وہ عوامل ہیں جو اپنے کارکنان کو نظریات کے بجائے مفادات کا پجاری بنا دیتے ہیں ۔جموں و کشمیر میں اسکی ایک وجہ شاید پلانٹڈ نظام کا ہونا بھی ہے جو اس چیز کو جان بوجھ کر ہونے ہی دیتا ہے تا کہ لوگوں کو حقیقت سے دور رکھا جائے۔اور یوں ہی اندھیرے میں پردے کے پیچھے رکھ کرحکمرانی کرتے رہو۔
بہر حال جموں و کشمیر کی عوام بری طرح سے پٹ رہی ہے۔بی جے پی جے اینڈ کے تو چھوڑیں ،وہ تو جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم ہونے پر عوام کو نوکریوں، خوشحالی اور ترقی کے سبز باغ دکھانے پر اب اخلاقی طور پر عوام کی آنکھوں میں آنکھیں بھی نہیں ملا سکتی۔ آرڈی نینس کے ذریعے مرکز کی طرف سے نت نئے قوانین لائے جا رہے ہیں لیکن دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی سیاسی مزاحمت نہیں ۔ ابھی کل ہی وزارت داخلہ نے قانونی ترامیم کے ذریعے میونسپل کارپوریشن کو ایک حکم نامہ صادر فرما کر پراپرٹی ٹیکس اکٹھا کرنے کا کہا ہے۔ ڈومیسائل اسناد جوق در جوق اجراء کی جا رہی ہیں ۔سوائے بھارتیہ جنتاپارٹی کے جموں و کشمیر کی دوسری سیاسی جماعتوں نے تو ریاست کا خصوصی درجہ بحال کرنے کا اعادہ بھی کر رکھا ہے۔ظاہر ہے پارلیمانی طریقہ کار اور ڈائیلاگ کے عمل سے تو ان جماعتوں کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔اب احتجاج کے لئے یا عوام کی بہتری کے لئے کونسا طریقہ اپنانا ہے؟۔اس لئے یہ وقت ہے کہ سب سیاسی جماعتیں جملہ بازی کے بجائے میدان میں آئیں، ٹھوس لائحہ عمل بنائیں اور عوام کے غموں کا مداوا ڈھونڈیں۔یہ پر اسرار خاموشی دن بدن عوام کے لئے مزید حوصلہ شکنی کا باعث بنتی جا رہی ہے ۔
ای میل ۔ [email protected]