سید مصطفیٰ احمد
اس دنیا میں ہر انسان تندرست رہنا چاہتا ہے۔ ’تندرستی ہزار نعمت ‘ کے تحت ہر فردِبشر اپنے آپ کی دیکھ ریکھ کرتا ہےاور بیماریوں سے بچنے یا دور رہنے کے لئےوقتاً فوقتاً صحت بخش ادویات کا استعمال کرتا ہے ،یہاں تک کہ کئی چیزوں کے کھانے پینے سے پرہیز بھی کرتا رہتا ہے۔لیکن بدقسمتی کہئے یا یہ ہماری نااہلی ہے کہ ہم ہمیشہ جسم کے تقریباًتمام اعضاء کو تندرست رکھنے کی کوشش توکرتے ہیںکی مگر جس عضو کی طرف ہماری توجہ زیادہ ہونی چاہئے تھی،اُس کی طرف بہت کم توجہ دیتے ہیںاور وہ عضو ہے ہمارا دماغ۔ دماغ سے میری مراد ذہنی صحت ہے۔ ہمارے اندرایک مرض کے کچھ آثار ایسے ہوتے ہیں ہے جو بظاہر دکھائی تو نہیں دیتے ،لیکن یہی سب بیماریوں کےجڑ ہوتے ہیں، جنہیںبعد میں ذہنی امراض کا نام دیا جاتا ہے، جو انسانی جسم کے اندرسلگتے رہتے ہیں اور کسی بھی وقت اچانک ایسےپھوٹ پڑتے ہیں ،کہ مختلف اعضاء سے بنی انسانی عمارت ڈھ جاتی ہے اور پھر ایک انسان محض سانس لیتی ہوئی نعش بن کے رہ جاتا ہے۔ آج دنیا بھرانسانی جسم کے جس عضو کی صحت پر زور دیا جاتا ہے، وہ ہے ذہنی صحت۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ اس صحت کی خرابی کا مطلب ہے سارا وجود کا بے کار ہونا۔ بے شک اُس باہری خوبصورتی کا کوئی فائدہ نہیں، جب دماغ بدصورت دنیا کی آماج گاہ ہو۔ہمارے یہاں تو چند عشرے قبل ذہنی مریض نفی کے برابر ہوا کرتے تھے ۔مگر پچھلے پانچ چھ برسوں میں ان امراض نے جو رفتار پکڑلی ہے وہ انتہائی تشویش ناک ہے،جبکہ آج ہمارے یہاںذہنی امراض میں مبتلا لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جس میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔بچے ،بوڑھے،نوجوان ،مردو زَن ان امراض کی زد میں آچکے ہیں۔ ذہنی امراض کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے بہت سارے وجوہات کا عمل دخل ہیں۔جن میں سے کچھ کا ذکر آنے والی سطورمیں کیا جارہا ہے۔
پہلی وجہ ہے کووڈ وباء۔ اس وباء نے موت کا ایسا ناچ کھیلا کہ آج بھی اس کے اثرات کم نہیں ہورہے ہیں۔ کسی کے ماں باپ، کسی کی اولاد اور کسی کا عزیز ،کسی کاسہارا کووِڈ وباء کے شکار ہوئے۔ ہلاکتوںکے علاوہ اس وباء کی لہرنے لوگوں کی جمع پونجی بھی اُڑاڈالی، کروڑوں کے کاروبار بند ہوئے، کمانے کے ذرائع محدود ہوئےاور مہنگائی کی مارنے لوگوں کو دیوالیہ بنا ڈالا۔وبائی دور میں قرضے دینے کے لیے بھی لوگ تیار نہ تھے،ساتھ ہی افواہوں کی گرم بازاری سے بھی لوگوں کو دَم بخود کرکے رکھ دیاتھا۔ عصری و دینی تعلیمی اداروں کے بند رہنےسےبھی لوگوں کے ذہن مفلوج ہوگئے۔ جس کسی کی زندگی پرہڑتالوںکا اثر نہ پڑا تھا، اُسےبھی دس بارہ مہینوں تک گھر کے اندر ہی گھٹ گھٹ کر جینا پڑا۔ گھر کیسے چلتا ہے، بہت سارے مردوزَن کو پہلی باراس کا پتہ چلا۔ اُکتاہٹ کے ماحول میں گھر سے نکلنا موت کو دعوت دینے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا پرچتائوںمیں جلتی ہوئی نعشیں، دریاؤں میں تیرتی ہوئی لاشیں، آکسیجن کے لئے تڑپتے ہوئے مریضوں کی اموات دیکھنا،یہاں تک کہ اپنے مرے ہوئے عزیزوں کوچھونے تک کی ممانعت نے لوگوں کے دل و دماغ پر دردو کرب کے اتنے پہاڑ توڑے کہ بیشتر لوگ ان کے نیچے دب کر رہ گئے جس کا نتیجہ اس شکل میں آیا کہ آج بھی انہیں بچھڑے ہوئے اپنے پیاروں کی یاد ستاتی اور رُلاتی ہے۔اپنے بڑے بزرگوں کی نصیحت آموز باتیں ،چھوٹوں کے بول بوش اور معصوموں کی کلکاریاںاُن کے دلوں کو چیرکرراتوں کی نیند اُڑاتی رہتی ہیں۔گویا بے بسی کے اموات کی ہمارے اذہان میں وہ دُھند موجود ہے جو چمکتے سورج سے بھی زائل نہیں ہوتی۔ آج بھی جب کووِڈ کی قہر آمیز کارستانیاںیاد آتی ہیںتو انسان کانپنے لگتا ہے، ایک سرد آہ منہ سے نکلتی ہے۔ اس طرح وباء نے ذہنی امراض کو بڑھاوا دینے میں اہم رول ادا کیا۔
دوسرا وجہ ہےبےروزگاری۔ کووِڈ وباء کی وجہ سے جہاںلا تعداد ملازموں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا،وہیں محنت کش طبقے کو اپنے روزگار سے محروم ہونا پڑا۔اگرچہ وباء سے قبل بھی بےروزگاری کی شرح بڑھ گئی تھی تاہم وباء نے بے روزگاری کے پارے کو حد سے پار چڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس طرح لوگ بے کار و بے روزگار ہوئے۔بیشتر مقروض ہونے کے ساتھ ساتھ نوکریوں کی برخواستگی سے پستی کے عالم میںچلے گئے اور خودکشی کرنے پرمجبور ہوگئے۔بے کاری ،بے روزگاری ،تنگدستی ،مایوسی کی اس صورت حال میں گھروں کے گھر تباہ ہوگئے اور بے یارو مددگارذہنی امراض کاشکار ہونے لگے۔ظاہر ہے کہ ایک بے بس اور لاچار انسان کا ذہنی مرض میں مبتلا ہونا طے ہے۔کیونکہ بےروزگاری زیادہ سوچنے پر مجبور کرتی ہےاور مشکلات و مصائب میں مبتلا انسان وہم ،مخمصے اورلاحاصل خیالات کے جال میں ایساپھنس جاتا ہے کہ جس سے نکلنا بے حد مشکل ہوجاتا ہے۔ دباؤ کی اس حالت میں انسان اندر ہی اندر سے بھسم ہوکر سڑنے لگتا ہے۔ ا س کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں اور آخر کار یہ بے روزگار انسان زندہ لاش کی مانند ہوجاتا ہے۔
تیسروجہ ہے عالمی غربت۔ ہندوستان میں بیس سے لے کر تیس کروڑ لوگ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔ کووِڈ وباء نے پوری دنیا کے علاوہ ہندوستان میں بھی غرباء کی ایک اور بڑی تعدادکو جنم دیا۔ اگرچہ پہلے ہی غربت نے لوگوں کو بری طرح متاثر کر دیا تھا مگر کووِڈ کے زہریلے پنجوں نے غرباء سے بچا ہوا نوالہ بھی چھین لیا۔ وہ دور دراز علاقے جہاں عام حالات میں پہنچنا ناممکن ہے، وباء کے دور میںدنیا کی آنکھوں سے اوجھل رہے، وہاں کے باشندے گھاس پھوس پر گزارا کرنے لگے۔ اسی طرح وہ علاقے جہاں پر جنگ کےبُرے اثرات پہلے سے ہی نمایاں تھے، وہ اور بھی بھیانک صورت حال کا شکار ہوگئے۔ اس کی مضبوط گرفت تب سے جب تک جاری ہےاور سلسلہ انسان کوانسان رہنے نہیں دیتی ہے،وہ ایسا سب کچھ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہےجو کہ وہ کرنا نہیں چاہتا ہے۔ جسم فروشی ،بھیک مانگنا،چوری چکاری میں ملوث ہونا اس کی مکروہ شکلیں ہیں۔
چوتھی وجہ ہے دولت کا مخصوص ہاتھوں میں جمع ہونا۔ دنیا کی اَسی فیصد آبادی غریب سے غریب تر ہورہی ہے اور باقی بیس فیصد امیر سے امیر تر ہورہی ہے جبکہ حد سے زیادہ دولت کچھ ہاتھوں میں جمع ہورہی ہے جو اقتصادیات کے لحاظ سے خطرےکی گھنٹی ہے۔ غرباء یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر اس سرمایہ داری کے پیچھے کن نظر نہ آنے والے ہاتھوں کا رول ہے جو امیروں کی تجوریاں بھرتے رہتے ہیں مگر غرباء کو دانے دانے کا محتاج بناتے ہیں۔ ان حالات میںعام لوگوں کا مایوس ہونا فطری بات ہے۔ ہر آن کوئی نہ کوئی غریب خودکشی کرتارہتا ہے، اس کے برعکس ہر سیکنڈ میں ایک کھرب پتی کروڑوں کماتا ہے۔ یہ تضاد بھی لوگوں کو ذہنی مریض بنانے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ یہاںایک پڑھا لکھا نوجوان خود کو سہارا دینے سے قاصر ہے مگر دوسری طرف امریکہ یا انگلستان میں بیٹھا ہوا نوجوان دن میں لاکھوں اور کروڑوں کا کاروبار کرتا ہے۔
پانچویں وجہ ہے ہمارا اپنا رویہ۔ ہم نے فانی زندگی میں اتنی خواہشات کو پکڑکے رکھا ہے جو سات جنموں تک پوری نہیں ہوسکتی ہیں۔ خواہشات ہر گناہ کی جڑ ہیں۔ اس سے مایوسی کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں اور آخرکار یہی مایوسی اور ناامیدی ہمیں لے ڈوبتی ہے۔ ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم کبھی بھی ان چیزوں کا شکر ادا نہیں کرتے ہیں جو ہمیں مفت میں ملے ہیں۔ ہم صرف ان چیزوں کی آس لگائے بیٹھے ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیں ہے جس کے نتیجہ میںملی ہوئی رحمت بھی ہم سے منہ موڑتی ہے۔ خواہشات کی فکر کرنا تب ٹھیک تھا اگر زندگی لافانی ہوتی۔ البتہ دنیا فانی ہے، یہاں حالات کا کوئی بھروسہ نہیں ہیں، پھر بھی ہم نے خواہشات کو اپنا خدا بنا کر اپنے سینوں کے ساتھ لگائے رکھا ہے ۔ ہم ذہنی افراتفری کا شکار ہوئےجہاں سے لوٹ کر آنا ناممکن تو نہیں مگر بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت ساری وجوہات ہیں مگر مضمون کی طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان چند وجوہات پر اکتفا کرنا کافی ہیں۔ اب بات کرتے ہیں ان تدابیر کی جو اس ذہنی امراض کے طوفان کو روک سکتے ہیں۔
سب سے پہلی تدبیر ہے دولت کی منصفانہ تقسیم۔ اگر پوری دنیا میں دولت کو کم از کم برابری کے معنوں میں تقسیم کیا جائے تو امید ہے کہ ان امراض کی شدت میں کمی آسکے۔ ہر کوئی اچھا خوراک، اچھے لباس، اچھی تعلیم، اچھی دوائیاں وغیرہ خرید اور حاصل کرسکتا ہے ۔ اس سے لڑائی جھگڑے بھی کم ہونگے اور بہت سارے امراض کا قلع قمع بھی ہوجائے گا۔ دوسری تدبیرہے جنگی سامان بنانے اور خریدنے پر پابندی ۔ جنگی سامان پر اتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے کہ حساب لگانا مشکل ہے۔ یہ قیمتی پیسہ ملک کی بہبودی اور سب سے بڑھ کر عالمی ترقی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ تیسرا ہے مزید روزگار کے مواقع تلاش کرنا۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر بیشتر آبادی کو روزگار دیا جاتا ہے، تو ملک ترقی کی نئی راہوں پر نکل پڑتا ہے۔ خوشی چار سو پھیلتی ہے اور بیماریوں کے امکانات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔ چوتھی اور آخری تدبیر ہے کہ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں جس نے یہ خوبصورت زندگی ہمیں مفت میں دی ہے۔ شکرگزاری کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں۔ دوسروں کی ترقی کو دیکھ کر اپنی جھونپڑی سے نفرت کارویہ ترک کریں۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو گننا شروع کریں اور زیادہ ہونے کی لالچ سے دور رہیں۔ یہ کچھ حل ہیں جن سے ہماری حالت سدھر سکتی ہے۔ ذہنی امراض کے چھپے ہوئے آتش فشاں کو اور آگ دینے کے بجائے ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہے۔ زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں دلچسپی لینے سے اس سیلاب کی شدت کم ہوسکتی ہے۔ سماج سے خفا ہونے کے بجائے اپنے اندر سماج سے لڑنے کی طاقت بڑھائیں۔ مزید برآں سماج سے لڑنے سے بہتر ہے کہ اپنے اندر میں گہرائی اور برداشت کے اوصاف پیدا کریں اور جاتے جاتے تجربہ کار کائونسلروں کی خدمات ہر گاؤں اور شہر میں مہیا رکھیں۔ ایسا ماحول ترتیب دیا جائے جہاں ذہنی مریض اپنے دل کی بات کہہ سکے۔ ایسے ہسپتال بنائے جائیں جہاں پر ذہنی مریض کو جینے کی رمک دکھائی دے ۔ جو زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ بھی زندگی کو پھر سے جینا شروع کریں۔ ذہنی مریضوں کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آنا بھی ایک صحت مند انسان کی ذمہ داری ہے۔ ان مریضوں کی حوصلہ افزائی کرنےاور انہیںایک کامیاب زندگی کی بشارت دینے سے ان کے زخموں کا مداوا ہوسکتا ہے ۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔
پتہ۔حاجی باغ، ایچ ایم ٹی، سرینگر ۔۔فون نمبر۔9103916455
(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)