عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// مرکزی حکومت نے مرکزی مسلح پولیس فورسز اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کیلئے گزشتہ تین برسوں کے دوران متعدد فلاحی اقدامات میں توسیع کرتے ہوئے جموں و کشمیر، بالخصوص وادی کشمیر میں تعینات اہلکاروں کیلئے کئی خصوصی سہولیات اور مراعات کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مشکل اور حساس علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے حوصلے، مالی تحفظ اور خاندانی فلاح کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یو این ایس کے مطابق راجیہ سبھا میں رکن پارلیمان نیرج شیکھر کے غیر ستارہ سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے بتایا کہ حکومت نے صحت، مالی امداد، رہائش، تعلیم، بحالی اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی فلاح سے متعلق متعدد اسکیمیں نافذ کی ہیں، جن سے سی اے پی ایف اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وادی کشمیر میں تعینات اہلکاروں کو مشکل اور حساس حالات میں فرائض انجام دینے کے پیش نظر رسک اینڈ ہارڈشپ الانس دیا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اہلکار اور ان کے شریک حیات سینٹرل گورنمنٹ ہیلتھ اسکیم اور سی اے پی ایف اسپتالوں میں طبی سہولیات یا ماہانہ میڈیکل الانس کے بھی حقدار ہوں گے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تعینات اہل سی اے پی ایف اور آسام رائفلز کے اہلکاروں کو فضائی سفر کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ اگر کوئی اہلکار اپنی فیملی کو سابق تعیناتی کے مقام پر رکھتا ہے اور سرکاری رہائش برقرار نہیں رکھتا تو اسے ‘وائی’ زمرے کے شہروں کے مطابق اضافی ہاس رینٹ الانس بھی دیا جاتا ہے۔ حکومت نے جموں و کشمیر میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے بچوں کیلئے اسکول بس سروس کا بھی انتظام کیا ہے۔نتیانند رائے نے ایوان کو بتایا کہ ملک بھر میں نافذ دیگر فلاحی اقدامات میں آیوشمان سی اے پی ایف اسکیم کے تحت نقدی سے پاک علاج، دورانِ ڈیوٹی جان بحق ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کیلئے 25 لاکھ سے 35 لاکھ روپے تک ایکس گریشیا امداد، حادثاتی بیمہ، پردھان منتری اسکالرشپ اسکیم، اہلکاروں کے بچوں کیلئے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس نشستوں میں ریزرویشن، سی اے پی ایف ای۔آواس پورٹل کے ذریعے رہائش کی فراہمی اور ریٹائرڈ اہلکاروں کیلئے ویلفیئر اینڈ ری ہیبلیٹیشن بورڈ شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردی یا دیگر کارروائیوں میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ کو “بھارت کے ویر” اقدام کے تحت بھی مختلف فوائد فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ آپریشنل ڈیوٹی کے دوران زخمی یا متاثر ہونے والے اہلکاروں کو آپریشنل کیڑولٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے ان کے اہل خانہ کو سفری رعایتیں اور آئل پروڈکٹ ایجنسیوں کی الاٹمنٹ سمیت دیگر مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ کانسٹیبل سے سب انسپکٹر تک کے اہلکاروں کیلئے ہمدردانہ بنیادوں پر تقرری اور اعزازی رینک کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد مرکزی مسلح پولیس فورسز کے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود، مالی تحفظ اور حوصلہ افزائی کو یقینی بنانا ہے، بالخصوص ان اہلکاروں کیلئے جو جموں و کشمیر جیسے حساس اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔