کشمیر میں انتخابات

پولنگ بوتھوں پر اُلو بول رہے ہوں یا اُمید وار نظر نہ آئیں یا لوگ ووٹنگ کے دن کو تعطیل سمجھ کر اپنے گھریلو کام کاج میں مصروف ہوں،شام کو پھر بھی  ’’جموں کشمیر‘‘ میں ووٹنگ کی شرح کا اعلانِ عام ہوتا ہے۔ بھارت کی رائے عامہ اور عالمی برادری کے لئے یہ خبر محض ایک سُرخی ہوتی ہے جس میں لکھا رہتا ہے کہ ’’تشدد، عسکریت پسندوں کی دھمکیوں اور حریت کی بائیکاٹ کال کے باوجود ووٹنگ ہوئی‘‘۔ ریاست کا طبعی جغرافیہ جیسا بھی ہے لیکن سیاسی اور نظریاتی جغرافیہ بھی اس طرح کا ہے کہ وادی میں چاہے ایک فی صد بھی ووٹنگ ہو، گنتی پوری ریاست کی ہوتی ہے اور باہر جانے والی خبر حکومت ہند کے لئے باعث خجالت نہیں بلکہ باعث افتخار ہوتی ہے۔ پنچایتی اور بلدیاتی اداروں کے انتخابات بھی اسی فارمولے کے تحت منعقد ہوئے، حالانکہ جس دوران یہ انتخابات منعقد ہوئے اس میں چالیس سے زیادہ عسکریت پسند، درجن سے زیادہ عام شہری اور کئی پولیس و فوجی اہلکار مارے گئے۔ زمینی حالات پر ان انتخابات نے کوئی اثر نہیں ڈالا، لیکن گورنر ستیہ پال ملک ان انتخابات کو ایک لینڈ مارک فتح سے تعبیر کررہے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب حریت کانفرنس کے ایک حلقے نے الیکشن کو ’’نان ایشو‘‘ قرار دے کر لوگوں کو ایک اشارہ دیا تھا کہ انتظامی امور اور بنیادی سہولات کی خاطر اپنی پسند کے اُمیدواروں کو چننے میں کوئی مضائقہ نہیں، تاہم اس فیصلے پر حریت کے دھڑوں میں گھمسان کی نظریاتی جنگ چھڑ گئی تھی۔الیکشن کے انعقاد میں حکومت ہند کا مقصد مزاحمتی سوچ کو شکست دینا ہوتا ہے اور جب الیکشن کو مزاحمت یا مسلہ کشمیر کے ساتھ نتھی کیا جاتا ہے تو حکومت کا کام اور بھی آسان ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بائیکاٹ اور خوف کی کتنی ہی دیواریں کھڑی کی جائیں، حکومت پورے ملک کے وسائل کشمیر میں جھونک کر یہ کام کرہی لیتی ہے۔
 یہ بات مسلمہ ہے کہ جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے گزشتہ ستر برس کے دوران مسلہ کشمیر کی تاریخی ہیت کو بدلنے کے لئے خوب قانون سازی کی ہے ، اور یہی وہ ادارہ ہے جس کے ذریعہ نئی دلی نے کشمیریوں کو مزید بے سیاست کرنے کے متعدد آپریشن کئے۔2005میں ایون میں تقریر کرتے ہوئے اُسوقت کے وزیرخزانہ مظفر حُسین بیگ نے واشگاف الفاظ میں بتایا کہ اس اسمبلی کی وقعت ہی کیا جسے آئی بی کے ایک حوالدار کی رپورٹ پر تحلیل کیا جاسکے۔ یہ وہی اسمبلی میں جس میں سید علی گیلانی جیسے قدآور لیڈر کی موجودگی کے باوجود حکومت نے انتخابات میں دھاندلی کا منصوبہ بنایا اور مسلم متحدہ محاذ کی جیت کو ہار میں بدل دیا۔ یہ وہی اسمبلی ہے جس کے ایوان میں ککہ پرے اور جاوید شاہ جیسے ضدانقلاب لوگ قانون سازی کرتے رہے، یہ وہی اسمبلی ہے جس کی نشتوں پر بیٹھ کر اراکین اسمبلی نے کشمیریوں کی قربانیوں کا مزاق اُڑایا ہے۔ جمہوریت کے لبادے میں گویا ایک ’’وار رُوم ‘‘ ہے جو کشمیریوں کے غالب احساسات اور خواہشات کو دبانے کی سبیل ڈھونڈتا رہتا ہے۔ ان حقائق سے فرار ممکن ہی نہیں۔ 
لیکن اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ انتخابی عمل کو مزاحمت کاٹارگٹ بنا کر کشمیری معاشرہ براہ راست دو خانوں میں بٹ جاتا ہے۔جب واضح اور غیر مبہم الفاظ میں مزاحمتی قیادت یہ اعلان نہیں کرپاتی کہ سیاسی وابستگی یا ووٹ ڈالنے کا جرم ’’واجب القتل ‘‘ نہیں ہے ، تو سیاسی اکھاڑے کے پہلوانوں کے لئے اپنے حریفوں کے خلاف سازش رچانے کا اچھا موقع مل جاتا ہے، اور جب کوئی سیاسی قتل ہوتا ہے تو پولیس یک لخت اسے عسکریت پسندوں کے کھاتے میں درج کرلیتی ہے۔ 
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اقتدار کی سیاست کرنے والے قوم کے غمخوار نہیں ہیں۔ جمہوریت کی بنیادی خمیر ہی یہی ہے کہ جو لوگ مسند اقتدار پر قابض ہوں انہیں جوابدہ بنایا جائے، لیکن کشمیر کا جمہوری عمل دلی کے نیشنل انٹرسٹ کے ساتھ منسلک ہے، اور یہاں جوابدہی کا مسلہ اہم نہیں بلکہ یہ بات اہم ہے کہ کون اس عظیم سیکورٹی ایسٹیبلشمنٹ کے راگ پر مطلوبہ رقص کرسکتا ہے۔ جو حلقے اس بات کے قائل ہیں کہ کشمیر میں اقتدار کی سیاست کو مزاحمت سے الگ کرکے انتخابی عمل کی سماجی اعتباریت بحال کی جائے، وہ شائد اس حقیقت سے نابلد ہیں کہ کشمیر میں سیاست کوئی ارتقائی عمل نہیں ہے، بلکہ اس کے کرداروں کا انتخاب دلی میں ہوتا ہے ، اور اس کا لہجہ بھی حکومت ہند کے پالیسی ساز ہی طے کرتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ کشمیری ووٹ ڈالے تو بھی خسارے میںرہتا ہے، اور نہ ڈالے تو بھی خسارے میں رہتا ہے۔ پنچایتی انتخابات سے جو تجربہ کیا گیا اس کی بنیاد پر وادی کو ’’ووٹنگ بیلٹ‘‘ اور ’’نان ووٹنگ‘‘ بیلٹ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حالانکہ ووٹ ڈالنے والوں لوگوں کی قربانیاں بھی بے پناہ ہیں، اور اُن کی سیاسی خواہشات حساس علاقوں سے مختلف نہیں ہیں، لیکن اُن مسائل اس قدر دیرینہ اور پیچیدہ ہیں کہ الیکشن کے وقت وہ یہ خطرہ مول لیتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے پیچیدہ پس منظر میں الیکشن کے انعقاد کا ردعمل محض بائیکاٹ کی کال ہے؟ 
مزاحمتی قیادت نے دفعہ 35Aاور 370کے دفاع کو بھی باقاعدہ مزاحمت کا حصہ بنادیا ہے۔ اس پر کافی باتیں ہوئیں۔ حریت کے حریف کہہ رہے ہیں کہ یہ مزاحمت بھارتی آئین کے اندر داخل ہوگئی ہے۔ لیکن اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ انتخابات یا اسمبلی کے ساتھ بعض ایسے امور جڑے ہیں جن پر کشمیریوں کی اجتماعی شناخت اور مذہبی بقاء کا دارومدار ہے۔ چند ماہ میں انتخابی بگل بجایا جائے گا، اور مزاحمتی قیادت وہی بیان کاپی پیسٹ کرے گی جو بیس سال سے اس کا رویہ رہا ہے۔تین دہائیوں سے کشمیر میں عسکری مزاحمت جاری ہے، عالمی اداروں نے بھی وقتاً فوقتاً اس کا نوٹس لیا، ہزاروں لوگ مارے گئے، گھر گھر ماتم ہے، کم سن بچے موت کو گلے لگا رہے ہیں، گھر اُجڑ رہے ہیں، زندگیاں برباد ہورہی ہیں۔ اس سب کے باوجود اسمبلی اپنی جگہ سالم حالت میں ہے، اس کے ذیلی ادارے سرگرم ہیں، انتخابات کا اعلان ہوتا ہے، پھر بھاری فوج کی موجودگی میں ان کا انعقاد بھی ہوتا ہے، نئی چہرے سامنے لائے جاتے ہیں، وہ چکنی چپڑی باتیں کرکے درون خانہ وہی سب کرتے ہیں جو اُن سے کروایا جاتا ہے۔ نہ حکومت ہند ان سے لوٹ کھسوٹ اور اقرباء پروری کا حساب مانگتی ہے، نہ مزاحمتی قیادت ان سے پوچھتی ہے کہ انہوں نے ووٹروں کے ساتھ جو وشواس گھات کیا اس کے نتائج کیا ہونگے۔ 
گزشتہ دس برس سے یہ پیٹرن رہا ہے کہ جب کوئی مزاحمتی عمل طول پکڑتا ہے تو حریت قائدین مشاورتی اجلاس بلاتی ہے، لوگوں سے تجاویز طلب کرتی ہے۔ ہڑتال کے سلسلے میں یہ سب اعلانات کئے گئے، لیکن کشمیر میں انتخابات ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ ہر الیکشن کے بعد کشمیر میں زمینی سطح پر کوئی نہ کوئی عوام دشمن تبدیلی لائی جاتی ہے ۔ لیکن لوگ چاہ کر بھی کچھ نہیں سکتے، کیونکہ انتخابی عمل کو اس قدر کرمنلائز کیا گیا ہے کہ اب اس عمل میں شرکت سماجی غیض و غضب کا باعث لگتا ہے۔ کیااس مخمصے سے قوم کو نکالنے اور اس باپت کوئی مناسب حکمت عملی ترتیب دینے کا وقت ابھی تک نہیں آیا؟ قیادت کو وقت نکال کر دنیا بھر کی مزاحمتی تحریکوں کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ اسے اہل اقتدار اور اہل مزاحمت کے درمیان الیکشن کی سپیس کی اہمیت کا اندازہ ہو۔اگر آپ کا حریف اس سپیس کو استعمال کرکے آپ کو کمزور کررہا ہے، آپ محض بیانات اور اپیلوں پر تکیہ نہیں کرسکتے۔ عجیب بات ہے کہ یونیفائیڈ کمانڈ کی سربراہ ہونے کے ناطے محبوبہ مفتی کشمیر میں ہلاکتوں کے لئے براہ راست ذمہ دار ہیں، اور آج یہی خاتون عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کی ہمدردی بٹورنے کے لئے وہی حربہ آزما رہی ہیں جو انہوں نے کشمیر کی سیاست میں قدم رکھنے کے لئے آزمایا تھا۔نئی دلی کشمیر کی سیاست کا ڈی این اے تبدیل کرنا چاہتی ہے، اگر مزاحمتی قیادت لکیر کا فقیر بنی رہی عجب نہیں کہ یہ منصوبہ کامیاب بھی ہو۔ 
 بشکریہ: ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر