عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//عوامی اتحاد پارٹی نے جمعرات کو کہا کہ بارہمولہ کے ایم پی انجینئر رشید نے اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے وزرائے اعلیٰ کو دو تفصیلی اور سخت الفاظ میں خط لکھے ہیں، جن میںکشمیریوں کی تذلیل اور ان پر حملہ کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطوط رشید کے قانونی مشیر کے ذریعے پارٹی کو پہنچے ہیں۔اے آئی پی ترجمان نے کہا کہ ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے اپنے خط میں انجینئر رشید نے ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے ٹی وی ویڑولز پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ کشمیری شال بیچنے والوں پر حملہ آور عناصر کی طرف سے حملہ اور تذلیل کی جا رہی ہے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ بار بار عدم فعالیت شمولیت اور سیکولرازم کے دعووں پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے اور نہ صرف متاثرین بلکہ جموں و کشمیر کے تمام لوگوں کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے۔اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے خط میں انجینئر رشید نے اپنے حلقے کے ایک کشمیری شال بیچنے والے پر حملہ کو تکلیف دہ اور انتہائی پریشان کن قرار دیا۔ خط میں رشید نے دو ٹوک سوال کیا کہ کیا ملک میں کشمیری ہونا جرم بن گیا ہے؟ انہوں نے اتراکھنڈ حکومت کو یاد دلایا کہ کشمیریوں کا سیاحوں اور باہر کے لوگوں کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ سلوک کرنے کا قابل فخر ریکارڈ ہے، اور سوال کیا کہ اسی طرح کی اقدار کو کہیں اور کیوں برقرار نہیں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ منتخب خاموشی اور کمزور ردعمل غنڈوں کو حوصلہ دیتے ہیں اور لاقانونیت کو معمول پر لاتے ہیں۔