کشمیری سیاحت کی کمر لگاتار تیسرے سال بھی ٹوٹ گئی

سرینگر //کورونا وائرس کی دوسری لہر نے وادی کے سیاحتی شعبہ کی کمر مزید توڑ کر رکھ دی ہے۔ 2019میں اُس وقت کے گورنر ستیہ پال ملک کی جانب سے سیاحوں کو وادی سے نکل جانے کی ایڈوائزری کے بعد مزید کئی اقدامات کی وجہ سے وادی کی سیاحت کی سرگرمیاں بیٹھ گئی تھیں۔اسکے بعد 5اگست کے فیصلے نے ری سہی کسر پوری کردی اور جموں کشمیر میں زندگی کی  ہر شعبے میں رفتار ٹھپ ہوگئی تھی۔2020میں مارچ کے مہینے سے ہی کورونا وائرس کے بعد پورے 7ماہ تک لاک ڈائون کے بعد موسم سرماہ میں کچھ حد تک سیاحیی شعبے میں جان آگئی تھی لیکن تیسرے سال 2021کے مارچ مہینے سے ہی کورونا کی دوسری لہر نے سیاحت کے شعبے کو پھر زوردار جھٹکا دیا۔ اس وقت جھیل ڈل اور آنچار کے علاوہ دریائے جہلم میں940ہاوس بوٹ خالی پڑے ہیں۔7814 شکارے بھی ڈل کے کنارے کھڑے ہیں اورگاہکوں کا انتظار کیا جا رہا ہے۔کشمیر ہاوس بوٹ اونر س ایسوسی ایشن کے سکریٹری جنرل عبدالرشید نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جھیل ڈل اور دیگر آبی ذخائر میں 940کے قریب ہاوس بوٹ موجود ہیں جو سب خالی پڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امسال صرف 5اپریل سے 12اپریل تک 7دن ان کا کام چلا ،اس بعد وہ مکمل طور پر بیکار بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرما کے موسم میں کشمیر میں سیاحوں کی بڑی تعداد پہنچی ،لیکن جھیل ڈل منفی درجہ حرارت کی وجہ سے منجمد تھی ،لہٰذااس قدر شدید سردی میں کون ہاوس بوٹوں میں رہنے کیلئے آتا۔انہوں نے کہا کہ سرما میں گلمرگ اور پہلگام کے ہوٹلوں میں کام ہوا  اور سرینگر کے ہوٹلوں میں بھی تھوڑی بہت گہما گہمی رہی لیکناسکے بعد رونقیں بحال نہیں ہوسکیں۔انکا کہنا تھا کہ گرمیوں کے موسم میں سیاحوں کی بڑے پیمانے پر آمد کی امید پیدا ہوئی تھی کیونکہ مئی جون تک بکنگ کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ940شکاروں میں 35فیصد بکنگ ہوئی تھی اور انہوں نے ملازمین کو بھی واپس کام پر بلایا تھا لیکن وہ بھی منسوخ ہو گئی۔ کئی ایک ہاوس بوٹ مالکان نے جو پیسے بکنگ کے ایڈوانس میں لئے تھے ،وہ انہیں واپس کرنے پڑے ہیں۔عبدالرشید نے مزید کہا کہ گذشتہ سال کورونا وائرس کی وجہ سے ہاوس بوٹ مالکان کو ڈیڑھ ارب کا نقصان اٹھانا پڑا تھا اور اس سال بھی کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے ۔سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ کشمیر میں اے، بی اور سی کے تحت ہاوس بوٹوں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔چھوٹے ہاوس بوٹ سالانہ سیزن کا 2لاکھ اور بڑے ہاوس بوٹ 5لاکھ تک کمائی کرتے تھے لیکن 5اگست 2019سے ہاوس بوٹ مالکان کی حالت خراب ہے اور حکومت کی جانب سے کوئی بھی بڑا مالی پیکیج نہیں دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی اور پانی کی فیس بنا کچھ کام کے ادا کرنی پڑ رہی ہے جو ان پر اضافی بوجھ بن چکا ہے ۔ کشمیر شکاراایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کشمیر وادی کے جھیل ڈل میں اس وقت 7ہزار 8سو14شکارے موجود ہیں لیکن یہ بھی کورونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے پچھلے ایک ماہ سے ایک ہی جگہ پر کھڑے ہیںاور پورا ڈل خالی خالی سا لگ رہا ہے ۔ایسوی ایشن کے صدر ولی محمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گذشتہ سال کچھ ایک لوگوں کو حکام کی جانب سے ماہانہ تین ماہ کیلئے صرف ایک ایک ہزار روپے امداد فراہم کی گئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اب شکارامالکان ڈل کے کناروں پر بیٹھے مچھلیاں پکڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5اگست کے فیصلے کے بعد یہاں سیاخ نہیں آئے لیکن رواں سال سرما میں سیاحوں کی بھاری تعداد آنے سے کچھ مثبت امکانات پیدا ہوئے تھے لیکن کورونا نے سب کچھ بدل دیا۔محکمہ سیاحت کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال سیاحوں کو کشمیر راغب کرنے کیلئے بڑے پیمانے پرکام کیا گیا تھا اور ملک کی مختلف ریاستوں میں روڑ شو، پروگرام اور سمینار بھی منعقد کئے گئے تھے اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ سرما کے مہینے میں 60ہزار کے قریب سیاح کشمیر کی سیر کو آئے، جو ایک ریکارڈ ہے لیکن اسکے بعد کورونا کی غیر متوقع دوسری لہر نے سب کچھ چوپٹ کردیا۔