کشتواڑ //قصبہ کشتواڑ و اسکے گردنواح کے علاقوں میں اے روز آوارہ کتوں و پالتوں جانوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے عام عوام کیلے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے جبکہ ضلع انتظامیہ کوئی سنجیدہ قدم اٹھانے سے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔جسکے سبب انکی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اور آئے روز انسانوں پر حملہ کرنے کی شکایتیں موصول ہوتی رہتی ہے۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ قصبہ کی ہر گلی ،کوچے میں گندگی کے ڈھیر کے سامنے کتوں و پالتو جانوروں کی ٹولیاں موجود ہوتی ہیں اور ان گلی کوچوں و بازار سے چھوٹے بچوں، عورتوں و بزرگوں کا گزرنا مشکل ہوتا ہے۔ صبح و شام کے وقت بازاروں کا رخ کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ کتے ٹولیوں کی شکل میں حملہ کرنے کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔زیادہ تر یہ کتے قصابوں کی دوکانوں کے اس پاس گومتے رہتے ہیں کیونکہ گوشت فروش و مرغے والے گندگی کو نالیوں کے اندر پھینک دیتے ہیںاور اگر کوئی شخص شام کے وقت ہاتھ میں سامان لیکر انکے سامنے سے گزرے تو اس پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاﺅن میں ضلع میں کتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔امتیاز احمد نامی دوکاندار نے بتایا کہ میونسپل کمیٹی کو چاہے کہ وہ کتوں کو آبادی والے علاقوں سے اٹھاکر قصبہ کے باہر لے کر چھوڑ دیںتاکہ انکے حملوں سے بچاجا سکے۔ کشتواڑ شہر میں آوارہ گائیوں اور کتوں کو ہر گلی اور سڑک و چوہراﺅں پر دیکھا جاسکتا ہے ، جہاں وہ راہگیروں اور گاڑی چلانے والوں کیلئے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں اگر چہ لوگوں نے میونسپلٹی کے عہداران اور منتخب کونسلروں کی نوٹس میں یہ بات متعدد مرتبہ لائی مگر ابھی تک ان آوارہ گائیوں اور کتوں سے عوام کو محفوظ رکھنے کیلئے کوئی بھی اقدامات نہیں کیا گیا ۔مقامی لوگوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کےلئے اقدامات کئے جائیں اور آوارہ جانواروں کے مالکان کو جواب دہ بنایا جائے تاکہ وہ اپنے جانواروں کو آوارہ چھوڑنے سے گریز کریں ۔وہیں قصبہ کے ساتھ ساتھ ضلع کے دیگر علاقہ جات پاڈر، دچھن، مڑواہ ، ٹھاٹری ، چھاترو سے بھی آے روز آوارہ کتوں کے انسانی جانوں پر حملوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں ۔