یو این آئی
نئی دہلی//مرکزی حکومت نے آفات کی صورت میں کسانوں کو راحت فراہم کرنے کیلئے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی ہے۔ 50فیصد کے بجائے اب کسانوں کو صرف 33فیصد کے نقصان پر ریلیف دیا جائے گا۔ مزید برآں اگر کوئی کسان یا ان کے مویشیوں کی بدقسمتی سے بعض آفات میں موت ہو جاتی ہے، تو امداد کا انتظام کیا گیا ہے۔وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے لوک سبھا میں ایک ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے اناج کی پیداوار میں اضافہ کیلئے کسانوں کی تعریف کی اور کہا کہ قدرتی آفات کے باوجود ملک میں فصلوں کی پیداوار پہلے کے مقابلے بہت زیادہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے متاثرہ کسانوں کو تمام ریاستوں میں ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور مرکز سے ریلیف پیکج فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ ریاستی حکومتیں اپنے کسانوں کو مناسب مدد فراہم کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلے قدرتی آفات کے تناظر میں 50 فیصد نقصان پر ہی راحت فراہم کی جاتی تھی، لیکن اب حکومت نے 33 فیصد نقصانات پر ریلیف دینے کے لیے اس شق کو بڑھا دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر آفت میں کسی شخص کی موت ہوجاتی ہے تو چار لاکھ روپے کی رقم دی جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی بیل یا بھینس مر جائے تو حکومت 33 ہزار 500 روپے اور مرغی وغیرہ کی موت پر بھی حکومت سے راحت کا انتظام کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاستی حکومتیں ان اسکیموں کو نافذ کرتی ہیں۔وزیر زراعت نے کہا کہ حکومت فصلوں کے نقصان کا اندازہ لگاتی ہے اور کسانوں کو ریلیف فراہم کرتی ہے۔ مہاراشٹر میں کسانوں کے لیے راحت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہاں بھی فصلوں کے نقصان کا بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے اور اس کے بعد راحت فراہم کی جائے گی۔ چوہان نے کسانوں کی فصلوں کو کیڑے مار دوا سے ہونے والے نقصان پر حکومت کی چوکسی کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایسی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کا التزام کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کسان کو جنگلی جانوروں سے نقصان ہوتا ہے تو پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے تحت اس نقصان کی تلافی کی جائے گی۔