عالمی ادارہ صحت نے عالم انسانی کو خبردار کیا ہے کہ کروناوائرس کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوچکا ہے جو پہلے سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ 50سال سے کم عمر کے وہ لوگ پھیلا رہے ہیں جن میں وائرس کی کوئی علامت نہیں ہوتی ہے، اس لئے دنیا کو اب اورزیادہ چوکس ہونے کی ضرورت ہے ۔عالمی ادارہ صحت کی یہ تنبیہ اس وقت آئی جب روس کرونا ویکسین بناکر اس کو دنیا کے مختلف ملکوں کو فروخت کرنے کے آرڈر بھی حاصل کرچکا ہے ۔ اس سے دنیا کے خوف زدہ انسانوں میں امید کی جو کرن پیدا ہوئی تھی وہ وائرس کے رو پ بدلنے کے نئے انکشافات سے ماندپڑنے لگی۔ ابھی تک مسلسل ایسا ہی ہوا۔امید کی کوئی کرن جب بھی روشن ہوئی ایک نیا خوف بھی ظاہر ہوا۔ اس لئے عالمی ادارہ صحت کی نئی تنبیہہ ایک نئی دہشت کو جنم دے رہی ہے ۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بھی اگر موثر ویکسین تیار کریں گے تب بھی دنیا کے ہر انسان تک اسے پہونچنے کے لئے مہینوں نہیں سال لگ سکتے ہیںتب تک اگر اسی طرح سے کرونا کا پھیلاو جاری رہا تو آبادیوں کی آبادیاں متاثر ہونے کا قوی امکان ہے ۔ اس لئے خطرہ کم ہونے کے بجائے اورزیادہ بڑھ رہا ہے ۔کرونا جو روپ بدل رہا ہے اس کا ہر روپ پہلے سے زیادہ خوفناک ، تباہ کن اور مختلف ہوتا ہے اس لئے اس بات کا بھی امکان ہے کہ جو ویکسین تیار ہوا ہے وہ ہر روپ کیلئے موثر نہیں ہوسکتا ۔جاپان اور دوسرے کئی ممالک میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ کرونا کی نئی شکل کسی علامت کے بغیر ہے اور یہ پچاس سال سے کم عمر کے لوگوں میں ظاہر ہورہا ہے جو اسے تیزی کے ساتھ پھیلا رہے ہیں ۔علامت چاہے معمولی ہو یا بڑی ہو اس سے کم از کم مریض کی شناخت تو ہوسکتی تھی لیکن ایک بھلے چنگے صحت مند انسان کی شناخت ایک مریض کے طور پرکیسے ہوسکتی ہے اور ایسا انسان اعتماد کی اس سطح پر ہوتا ہے جہاں اسے سماجی دوری کا بھی احساس نہیں رہتا ۔اس لئے انسانی دنیا تیزی کے ساتھ اس تباہی کی طرف جارہی ہے جو ایٹم ،ہیٹروجن و نائٹروجن بموں کے استعمال ، عظیم تر زلزلوں اور سیلابوں سے بھی نہیں ہوسکتی ۔یہ ناگہانی آفات دیکھتے ہی دیکھتے ملکوں اور خطوں کو ملیامیٹ کرڈالتی ہیں لیکن پھر بھی بہت کچھ باقی بچتا ہے مگرکروناوائرس چپکے سے ہلاکتوں اور تباہیوں کے وہ ساماں کررہا ہے جو پورے عالم انسانی کو نابود کر دے گا ۔
دنیا میں اس وقت بائیس کروڑ سے زیادہ لوگ کرونا سے متاثر ہیں جبکہ سات کروڑ سے زیادہ لوگ فوت ہوچکے ہیں ۔بے شک پندرہ کروڑ لوگ شفا یاب بھی ہوئے ہیں لیکن ہر روز مثبت معاملات میں زبردست اضافہ یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے کہ انسان اس وائرس پر قابو پانے یا اس کا پھیلاو روکنے میں ابھی تک ناکام ہوا ہے ۔ترقی یافتہ ملکو ں میں اس کے زیادہ پھیلاو کی اپنی وجوہات ہیں لیکن ترقی پذیر ملکوں میں اس کے پھیلاو کی ایک بڑی وجہ لوگوں کی جہالت ہے ۔ مختلف علاقوں کے لوگ مختلف ذہنی رویوں اور توہمات میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے وہ نہ سماجی دوری کو کوئی اہمیت دے رہے ہیں اور نہ ہی ماسک پہننا گوارا کررہے ہیں ۔یورپ میں لاک ڈاون بھی وائرس کو روکنے میں ناکافی ثابت ہوئے اور اس کے نتیجے میں اقتصادی حالت ابتر ہونے کے بعد لاک ڈاون کو ختم کرنے پر حکومتوں کو مجبور ہونا پڑا۔ اس کے بعد روزانہ سامنے آنے والے کیسوں میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا ۔دنیا کے بہترین دماغ ایسی کوئی تدبیر ڈھونڈ نکالنے میں ناکام ہوئے جو اس وائرس کا پھیلاو روکنے میں موثر ثابت ہوتا ۔یہاں تک کہ امیر ترین ملک بھی اقتصادی دباو میں مبتلا ہوئے ۔کروڑوں لوگ بیکار اور بے روزگار ہوئے ۔ کروڑوں تاجر مالی بحران سے دوچار ہوئے ۔ بڑے بڑے صنعتی گھرانے بھاری خسارے کا سامنا کرنے لگے ۔لاتعداد لوگ دانے دانے کو محتاج ہوئے۔لیکن کوئی چارہ نہیں کہ یہ سب کچھ برداشت کیا جائے ۔ لاک ڈاون ختم کئے جائیں ۔ سکول اور کالج کھول دئیے جائیں اور زندگی کو کرونا وائرس کی مہا ماریوں کے ساتھ آگے بڑھایا جائے ۔لوگ اگر سمجھ سکتے کہ یہ کوئی ایسی بھلا نہیں ہے کہ جس سے کسی بھی صورت میں بچا نہیں جاسکتا تو وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اسے اپنے پاس بھٹکنے نہیں دیتے ۔صرف سماجی دوری اور ماسک ہی ایسے ہتھیار ہیں جن سے اس قاتل وائرس کو ہرایا جاسکتا ہے لیکن لوگ اس وائرس کو جان بوجھ کر نظر انداز کررہے ہیں اور ان کا یہی رحجان اس وائرس کے پھیلاو میں اضافہ کررہا ہے ۔
ہندوستان میں اب کرونا متاثرین کی تعداد دو کروڑ نو لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے اور مرنے والوں کی تعداد55 ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی ہے لیکن جو بات بہت سے لوگوں کو پریشاں کررہی ہے وہ یہ ہے کہ روز بروز متاثرین کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔دیہات کے لوگ تو عام طور پر اور شہروں کے کئی علاقوں میں بھی لوگ کرونا سے بچنے کے لئے سماجی دوری اور ماسک پر بھروسہ کرنے کے بجائے مندروں میں جاتے ہیں اور بھگوان سے التجا کرتے ہیں کہ وہ انہیں اس وائرس سے محفوظ رکھے ۔ایک دوسرے کو دھکا دے کر وہ بھگوان کی مورتی کے پاس پہونچ جانا چاہتے ہیں تاکہ کرونا سے بچاو کی سند حاصل کریں ۔مسلمانوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو کرونا وائرس کو ایک سازش قرار دیتے ہیں ۔ان کے خیال میں یہ سازش مسلمانوں کے خلاف ہی ہے ۔اس لئے وہ سماجی دوری کو کوئی خاص اہمیت نہیں د رہے ہیں ۔جموں و کشمیر میں بھی کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ابھی تک تین ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہیں اور مرنے والوں کی تعداد پانچ سو سے زیادہ ہوچکی ہے ۔اب روزانہ متاثرین کی تعداد بڑھ کر آٹھ سو تک پہونچ چکی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں صوبہ جموں میں متاثرین کی تعداد کشمیر کے مقابلے میں بہت محدود ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ اب تک وائرس سے مرنے والے 599افراد میں جموں کے صرف 144افراد ہیں ۔یہ بہت بڑا فرق ہے اس کے ساتھ ساتھ جموں میں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے کیسز میںمزید کمی آرہی ہے جبکہ کشمیر میں تعدار میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ستر لاکھ کی آبادی میںتیس ہزار متاثرین تو کوئی معنی نہیں ر کھتے، وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ یہ متاثرین وہ ہیں جن کے ٹسٹ ہوچکے ہیں، ان کے علاو ہ نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جنہیں پتہ بھی نہیں ہوگا کہ کرونا نے انہیں جکڑ لیا ہے اور ایک متاثر ایک دن میں کم سے کم دس افراد کو وائرس منتقل کرتا ہے ۔ ان حالات میں بھی ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو کہتے پھر رہے ہیں کہ یہ یہودیوں کی سازش ہے ،وہ دنیا کو دہشت زدہ کرکے اپنے منصوبے پورے کرنا چاہتے ہیں ۔اگر یہ سچ بھی ہے تو بھی لوگوں کو اس وائرس سے بچنے کی تدبیر تو کرنی چاہئے لیکن کوئی نہیں ہے جو وائرس کو ہرانے کی بات کرتا ہے ۔لوگ نہ جانے کیوں یہ یقین کربیٹھتے ہیں کہ وائرس ان کے جسموں میں داخل نہیں ہوسکتا۔ہمارے نوجوان خاص طور پر ماسک پہننے سے احتراض کررہے ہیں ۔کیمسٹوں کی دکانوں پر ادویات خریدنے والوں کی بڑی بھیڑ ہوتی ہے لیکن ان میں سے چند لوگ ہی ماسک پہنے ہوتے ہیں وہ بھی سماجی دوری کا کوئی پاس نہیں کرتے۔ ایک دوسرے سے چپک کر دوائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اب دکانیں بھی کھل چکی ہیں اورمسجدیں بھی ۔مذہبی جماعتوں، مبلغوں اور اماموں کی بار بار کی تنبیہات کے باوجود کوئی احتیاط نہیں برتی جارہی ہے ۔آج جمعہ کے روز مساجد میں کافی بھیڑ تھی اور لوگ پہلے ہی کی طرح کندھے سے کندھا ملا کر صفیں باندھے ہوئے تھے ۔ یہ درست ہے کہ انہیں یہ اعتماد ہے کہ اللہ کے آگے سربسجود ہوتے وقت ان پر کوئی آفت نہیں آسکتی لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ ہمارا کعبہ بھی اس آفت کی وجہ سے بند ہے اور مسجد نبوی ؐ بھی ۔وہ یہ بھی بھول رہے ہیں کہ جلیل القدر صحابی حضرت ابوعبیدہ ؑاور دوسرے کئی صحابی بھی وباء کی وجہ سے ہی نیا سے رخصت ہوئے ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو عقل سلیم عطا کی ہے۔ اس کا کام یہی ہے کہ وہ ہر آفت کا مقابلہ کرنے کی تدبیر کرے ۔ اللہ نے ہی آفات بھی پیدا کی ہیں اور ان سے نمٹنے کے راستے بھی موجود رکھے ہیں ۔دنیا کا جو نظام اس نے پیداکیا ہے، اس میں امراض بھی ہیں اور انہیں دور کرنے کی دوائیں بھی موجود ہیں ۔ انسان فطرت کے اصولوں کے خلاف زندگی گزارے گا تو آفات اور امراض اسے پلیٹ میں لیں گے ۔ اب تک جو بھی ہلاکت خیز امراض سامنے آئے ہیں وہ انسان کی اپنی غلطیوں کا ہی شاخسانہ ہے ۔ ایڈس جیسا مرض انسان کی بدکاری کی دین ہے ۔ کینسر بھی غلط عادات کا ہی شاخسانہ ہے ۔ انسان شراب پیتا ہے تو اس کے گردے خراب ہوتے ہیں ۔ سگریٹ پیتا ہے تو اس کے جسم کا ہر حصہ متاثر ہوتا ہے اور وہ کینسر کا شکا ر ہوتا ہے ۔ کرونا وائرس بھی انسان کی اپنی ہی پیدا وار ہے ۔ ابھی ا س وائرس کے پیدا ہونے کی اصل وجہ دریافت نہیں ہوئی ہے، جب ہوگی تو انسان کو پتہ چلے گا کہ یہ اس کی کس غلطی کا شاخسانہ ہے ۔ اب وہ لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں جو فطرت کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے کہ لوگ اس وائرس سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ہر وہ احتیاط کریں جو ضروری ہے ۔