سرینگر //کرناہ ٹنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کی طرف سے اتوار کو ایک روڑ شو کا اہتمام کیا گیا جس میں علاقے کے معزز شہریوں نے گھر گھر جا کر لوگوں کو ٹنل کی افادیت اورموجودہ دور میں بڑھتی ہوئی ضروریات کے حوالے سے آگاہ کیا ۔معلوم رہے کہ کرناہ کے عوام کا برسوں سے یہ مطالبہ ہے کہ نستہ چھن گلی پر ایک ٹنل تعمیر کی جائے تاکہ شاہراہ پر نہ صرف لوگوں کا سال بھر سفر آسان ہو اور ساتھ میں انسانی جانوں کے زیاں پر بھی روک لگ سکے ۔اتوار کو کوآرڈی نیشن کمیٹی جس میں سیول سوسائٹی کے ممبران بھی شامل تھے ،گبرہ ، ہجراہ، ٹاڈ ،دھنی ،ٹنگڈار، چترکوٹ ، چھمکوٹ اور دیگر علاقوں کا مارچ کیا اور گھر گھر جا کر لوگوں سے بات کی۔عہدیداروں کا کہنا تھا کہ لوگوں سے بات چیت کے دوران ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ جب تک ٹنل کی تعمیر کے حوالے سے حکام کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کریں گے تب تک ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔ کمیٹی کے ایک ممبر عبدالرشید لون نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نستہ چھن گلی پر آج تک سینکڑوں افراد برفانی تودوں اور حادثات کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ایسا کوئی سال نہیں گزرتا جب اس شاہراہ پر انسانی جانیں تلف نہیں ہوتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سردیوں کے موسم میں جب بھی کبھی یہ شاہراہ بند ہو جاتی ہے تو یہاں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جبکہ یہاں مریض بھی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ دیتے ہیں ۔کمیٹی کے صدر ولی احمد قریشی نے بتایا کہ ٹنل کی مانگ کو لیکر لوگوں نے کئی بار احتجاجی مظاہرے کئے اور ایک وفد بھی دلی گیا جہاں پر مرکزی سرکار نے انہیں یقین دلایا کہ نستہ چھن گلی پر ٹنل کو تعمیر کیا جائے گا لیکن وہ وعدہ وفا نہیں ہوا اور یہاں کے لوگ اس انتظار میں ہیں کہ اس مطالبہ کو کب عملی جامہ پہنایا جائے گا ۔کرناہ سیول سوسائٹی کے چیئرمین پیر زادہ ایس ڈی قریشی نے روڑ شو کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا کہ ٹنل کرناہ کے عوام کیلئے انتہائی ضروری ہے، اس سے علاقے کی اقتصادی حالت بھی بہتر ہو گی اور ساتھ میں ہر موسم میں لوگوں کی آمد ورفت یقینی بن سکے گی ۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اس جانب خصوصی دھیان دیا جائے تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازلہ ہو سکے ۔