سرینگر//پولیس نے شہر کے ہائی سیکورٹی زون سونہ وار علاقے میں واقع کرشنا ڈابہ حملے میں ملوث جنگجوئوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ 48گھنٹوں میں یہ معاملہ حل کرلیا گیا۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ یہ حملہ سیاحوںکو نشانہ بنانے کی خاطر کیا گیا ۔انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران کرشنا ڈابہ حملہ، جس میں ڈابہ کے مالک رمیش کمار گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئے، کی پولیس تحقیقات اور گرفتاریوں سے متعلق میڈیا کو جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ موٹرسائیکل پر سوار 3 نئے بھرتی ہونے والے جنگجوئوںنے مصروف ترین مقام سونہ وارمیں واقع کرشنا ڈابہ کے مالک پر اس دن حملہ کیا جب غیر ملکی ایلچی سرینگر میں موجود تھے تاکہ سیاحوں میں خوف و ہراس پھیل سکے۔ پولیس کنٹرول روم سرینگر میںآئی پی نے کہا کہ پولیس نے تیزی سے کام کیا اور ڈی آئی جی عہدے کے ا فسر کی نگرانی میںکئی ٹیموں کوتشکیل دیا گیا جن کی سربراہ ایس پی (ساؤتھ سٹی) کررہے تھے۔آئی جی پی نے کہا کہ ایک عام شہری نے ایس پی ساؤتھ کو فون پربتایا کہ حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھے، جس کے بعد ہم نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی اور دیگر معلومات کو بھی اکٹھا کیا۔انہوں نے کہا ’’ اننت ناگ پولیس کی مدد سے سر نگر پولیس نے کچھ اہم معلومات پر کام کیا اور اس کارروائی میں ملوث دو نوجوانوں کو گرفتار کیا جبکہ اس جرم میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل اور پستول بھی ضبط کرلیا گیا‘‘۔ آئی جی نے کہا کہ ان دونوں نوجوانوںسے پوچھ گچھ کے بعد انہوں نے تیسرے نوجوان کی نشاندہی کی، جو اس جرم میں برابر کا ملوث تھا۔، چنانچہ اسے بھی گرفتار کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ تینوں نوجوان جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہونے والی نئی بھرتی ہے اور ان میں سے ایک کو پہلگام کے جنگلاتی علاقے میں پستول کی تربیت دی گئی تھی۔ وجے کمار نے کہا کہ گرفتار شدہ نوجوانوں میں سے2کا تعلق پانپور اور ایک کا تعلق پلوامہ سے ہے۔گرفتار ملوثین کی شناخت سہیل احمد میر ولد فتح محمد میر ساکن ڈانگر پورہ نوگام، اویس منظور صوفی ولد منظور احمد صوفی ساکن ڈانگر پورہ نوگام( قصائی) اور ولایت عزیز میر ولد عبدالعزیز میر ساکن ہانی پورہ وانپورہ پلوامہ کے طور پر کی گئی ہے۔اویس منظور کیخلاف نوگام پولیس سٹیشن میں کیس زیر نمبر 46/2018درج ہے جس کا چالان بھی سیشن کورٹ بڈگام کی عدالت میں 4دسمبر 2018کو پیش کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ تینوںنوجوانوں کو لشکر طیبہ یا (ٹی آر ایف) کے ایک کمانڈر غازی نے تیار کیا اور تینوں کو کرشنا ڈابہ پر حملہ کرنے کا کام سونپا تھا، جہاں سیاحوں کا رش ہمیشہ زیادہ رہتا ہے اور ہڑتالوں کے دوران بھی یہ دکان کھلی رہتی ہے۔آئی جی پی نے کہا ’’اس حملے کا بنیادی مقصد سیاحوں میں خوف پھیلانا تھا جب یورپی یونین کے سفراء سری نگر میں تھے‘‘۔وجے کمار نے کہا کہ گرفتار تینوں نوجوانوں نے جرم قبول کرلیا ہے اور ’’ہم نے ان کے اعترافی بیان کو ایک ویڈیو میں ریکارڈ کیا ہے۔انہوں نے کہا ’’ہم نے 24 گھنٹوں میں اس معاملے کو حل کیا اور یہ ہمارے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ سیاحوں کا موسم آ رہا ہے اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کیا مزید حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں گے ، تو انہوں نے کہا کہ سرینگر اور دیگر جگہوں پر مصروف علاقوں میں مزید نگرانی اور تعیناتی ہوگی۔ انہوں نے کہاان علاقوں میں ضرورت پڑنے پر مزید بنکرز لگائے جائیں گے،اور ان عناصر پر گہری نظر رکھی جائے گی جو امن خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلاشیوں کے سلسلے کو بھی تیز کیا جائے گا۔
موسم گرما کی حکمت عملی
انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ موسم گرما کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور ’’کشمیر میں پرامن موسم گرما کو یقینی بنانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے گئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں سرینگر میں ایک اعلی اجلاس ہوا ،جس میں پولیس ، فوج اور دیگر سیکورٹی افسراں نے’’موسم گرما کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی ‘‘۔ انہوں نے کہا’’اجلاس کی تفصیلات بتانا ممکن نہیں ہے ، لیکن ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کشمیر میں پْر امن موسم گرما اور اچھا سیاحتی موسم ہو‘‘۔ وجے کمار کا کہنا تھا’’ہمارا پڑوسی کبھی نہیں چاہتا ہے کہ امن قائم رہے اور سیاحت فروغ پائے لیکن ہم تمام چیلنجوں سے نمٹنے اور پرامن موسم گرما کو یقینی بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی لیڈراںبھی افواہوں کو پھیلاتے ہوئے لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کشمیر پولیس چیف نے کسی سیاستدان کا نام لئے بغیر متنبہ کیا’’ہم کسی ڈوزئر کی تیاری میں دریغ نہیں کریں گے اور اگر ضرورت ہوئی تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔‘‘یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جنگجوئوں نے بارودی سرنگوں کا سہارا لے کر حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ڈوڈہ سے ایک اعلی جنگجوکمانڈر ظہور احمد کی گرفتاری سے انکشاف ہوا ہے کہ جنگجوفورسز کو نشانہ بنانے کے لئے بارودی سرنگوں کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہم ایسے تمام منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار ہیں ۔‘‘ آئی جی کشمیر نے مزید کہا’’ جنگجوئوں کی صفوں میں شامل چند بارودی سرنگوں کے ماہرین کے نام سامنے آئے ہیں اور انہیں جلد ہی گرفتار کیا جائے گا۔