یہ کربلا ہے
یہاں سخاوت کا مرحلہ ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
حسین جیسا یہاں سخی ہے
عباس جیسا یہاں اخی ہے
کہ ٹوٹے دل کا یہ آسرا ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
یہاں حسینی جواں ہیں سوئے
یہاں پہ زہرا نے لال کھوئے
سکینہ بابا سے بھی جدا ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
عطا کرے گا وہ جھولی بھر کے
خدا سے مانگو انہی کے صدقے
قبول یاں پہ ہر اک دعا ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
مدینے والوں سے ہو محبت
شہیدِ کربل کی ہو عقیدت
تبھی تو راضی میرا خدا ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
لہو سے رنگیں اذان سن لو
شہد سے شیریں اذان سن لو
جوان اکبر کی یہ صدا ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
یہاں مظاہر حبیب بھی ہے
حسین جیسا طبیب بھی ہے
بیمار روح کی یہاں دوا ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
یہ خاک اتنی عظیم وللہ
ہے سب سے اعلیٰ حکیم اللہ
ہاں اس کے ذروں میں بھی شفا ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
یہیں پہ گونجی تھی بے زبانی
یہاں پہ اکبر نے دی جوانی
کہ ننھا دامن یہاں جلا ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
ہزار خنجر اور اک عبادت
وہ نوکِ نیزہ سے بھی تلاوت
قبول رب کو ہر ایک ادا ہے
یہ کربلا ہے یہ کربلا ہے
فلک ریاض
حسینی کالونی چھتر گام کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109
نوحہ
نوحہ
کربلا صحرا میں زھرا کا گھرانہ لٹ گیا
اسے مسلمانو! نبیؐ کا آشیانہ لٹ گیا
کوفے والوں نے بلایا تھا نبیؐ کے لال کو
چل پڑا زھرا کا پیارا ساتھ لے کر آل کو
کیا بتادوں کوفیوں نے پھر سے دھوکہ کردیا
کربلا صحرا میں زھرا کا گھرانہ لٹ گیا
آل یاسین کے لئے تھی وہ قیامت کی گھڑی
موت بن کے سامنے تھی شام کی لشکر کھڑی
آلِ احمدؐ پہ خدایا بند پانی ہوگیا
کربلا صحرا میں زھرا کا گھرانہ لٹ گیا
ساقی کوثر کا بیٹا یوں رہا تشنہ دہان
اُف خدایا کِس قدر تھی حلق تک سوکھی زبان
راہ حق میں جس نے آخر آج اپنا سر دیا
کربلا صحرا میں زھرا کا گھرانہ لٹ گیا
بے خطا مارا گیا وہ فرزند زھرا بتول
عرش سے آیا زمیں پر راکب دوشِ رسولؐ
زین پہ تھا نازمین پہ وارثِ مشکل کُشا
کربلا صحرا میں زھرا کا گھرانہ لٹ گیا
نوجواں اکبر کو دیکھا سامنے مرتے ہوئے
تھک گئے مقتل سے اُس کا گلبدن لاتے ہوئے
پیری میں کاندھے پہ بیٹے کا جنازہ آگیا
کربلا صحرا میں زھرا کا گھرانہ لٹ گیا
ایک ھَل مِن کی صدا پہ اصغربے شیر نے
حُرملا کا تیر کھایا کس طرح ہنستے ہوئے
ہائے وہ ننھا مجاہد کام اپنا کر گیا
کربلا صحرا میں زھرا کا گھرانہ لٹ گیا
چھن گئی زینبؓکی چادر ہائے وہ شامِ غریب
آگ خیموںمیں لگی تھی رات تھی کتنی مہیب
آلِ یاسین کے جہاں میں یوں اندھیرا ہوگیا
کربلا صحرا میں زھرا کا گھرانہ لٹ گیا
حکیم مظفر حسین مظفر
باغبان پورہ لعل بازار سرینگر
موبائل نمبر؛9622171322
نوحہ
نوحہ
وہ جگر گوشۂ نبیؐ سرور شہید کربلا
وہ حسینؑ ابنِ علی؍، وہ فاطمہؑ کا لاڈلا
زیرِ سجدہ دشمنِ حق، شمر کا خنجرچلا
سر مدی سر کٹ گیا، کون و مکان سارا ہلا
نوکِ نیزہ پہ ہے سر، لب پہ ہے کلمہ لا اِللہ
دستِ باطل خود ہی حق کا سربلند کرتا چلا
خون ٹپکا ریت پر ہر بوند نے لکھ ہی لیا
لا إله إلا الله محمد رسول الله
ریگزارِ کربلا میں لالۂ صحرا کِھلا
خونِ شہیداؑ نے جو سینچا، باغ حق پھولا پھلا
آج بھی یہ دور دہراتا ہے جورِ کربلا
آج بھی شیدائے حق مرتے ہیں حق پر برملا
یاد کیوں آئے نہ شبیرؑ و شبّر کا سلسلہ
دورِ امام خامنائی کا حسینی حوصلہ
اُنکے غم میں دل ہے زخمی، نم ہیں آنکھیں وَللہ
وہ امام حسنؑ کے ہی نسب کا ہیں سلسلہ
وہ حسنؑ ابن علیؑ مشہور ہے جنکا صلح
وہ حسنؑ جنکا پسر موجود تھا در کربلا
ہاں وہ قاسمؑ دولہا جو جانبِ مقتل چلا
ہائے کاٹے دست و پا، چھنی انگوٹھی وہ چھلا
یاد کیوں آئے نہ مسلمؑ ہ ’’سفیرِ کربلا‘‘
کوفیوں کے دھوکوں سے جو پڑ گیا اکیلا
ہر جگہ قدغن لگی، ہر دُکھ، اَلم وہ جھیلا
دشمنوں نے موت کے منہ میں اُسے دھکیلا
اُسکے دو معصوم بیٹے کیسے بُھولیں گے بھلا
جنکے سر کاٹے گئے ناحق، اے عاشقؔ بُھلا
عاشق حسین عاشق
شالیمار، سرینگر ،کشمیر
موبائل نمبر؛9018995790