سوال:قرآن اور احادیث مبارکہ کے پرنور اصول اور ضابطہ کے مطابق جواب مطلوب ہے۔ سوال ہے وراثت کے متعلق :مفتی صاحب کشمیر کے مروجہ طریقہ اصول وراثت سے آپ بخوبی واقف ہوں گے کہ یہاں لڑکیوں (بیٹیوں)کو اس طریقے سے وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے کہ شادی کے بعد وہ میکے تب ہی خوشی خوشی جاسکتی ہیں یا بھائی اُن کو(یا اُس کو) تب ہی دعوت پر اپنے گھر(یعنی اُن کے میکے) بلاتا ہے یا بلائے گا جب وہ (بہنیں یا لڑکیاں) باپ کے ترکہ میں سے یا باپ کی زندگی ہی میں ملنے والا اپنا حق بھائیوں کو بخش دیں۔مختصراً عرض اس طرح سے ہے کہ کیا بہن اپنے باپ کے ترکہ میں سے ملنے والا حق اپنے بھائی کو بخش سکتی ہے یا نہیں؟ کیا ایسی کوئی حالت ہے کہ بہن اپنے بھائی کو اپنا حق بخش سکتی ہے؟ اگر بہن نے اپنا حق بخوشی یا ایسی ہی کوئی مجبوری کے تحت، جو اوپر بیان کی گئی، بھائی کو بخش دیا ہو تو کیا وہ بھائی کے لئے حرام کی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کے تحت جتنے بھی نکتے وضاحت طلب ہوں اُمید ہے کہ آپ اُن سمیت جواب تحریر فرمائیں گے۔
شوکت احمد …پلوامہ کشمیر
میکے اوربیٹی کا رشتہ…وراثت کا نہیں نسب کا
جواب:قرآن نے فوت ہونے والے شخص، چاہے مرد ہو یا عورت، کے فوت ہونے پر جیسے اُس کے بیٹے کو مستحق وراثت قرار دیا ہے اُسی طرح اُس کی بیٹی کو بھی وراثت کا حقدار قرار دیا ہے چنانچہ قرآن نے اس کو اللہ کا لازم کردہ فریضہ قرار دیا ہے۔اب کسی بھائی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی بہن کو وراثت سے محروم کر دے۔
میکے کے ساتھ بیٹی کا تعلق وراثت کی بناپر نہیں بلکہ نسب کے محکم اصولوں پر قائم ہے۔بیٹی ہرحال میںبیٹی، اور بہن ہر حال میں بہن ہے اور ان کیساتھ حسن سلوک وصلہ رحمی کرنا فرض ہے اور قطع رحمی حرام ہے اور بہرحال یہی شرعی ضابطہ ہے۔ بہن کے ساتھ حسن سلوک اگر وراثت نہ لینے سے مشروط کر دی جائے او ربھائی کا رویہ بہن کے ساتھ ایسا ہو کہ اگر اُس نے اپنا حق وراثت طلب کرلیا تو پھر اُسے میکے سے قطع تعلق کا خدشہ ہو اور وہ اگر اپنے حق وراثت کے متعلق مجبوراً چپ اختیار کرے تو پھر اُس کو بھائی کی طرف سے آئو بھگت ہو تو اس طرز کا یہ تعلق نہ شرعی طور پر قابل تحسین ہے نہ اخلاقی طور پر اور نہ ہی یہ کوئی اخلاص و حقیقی محبت کی بنیاد پر قائم ہے۔
اس لئے شرعی حکم یہ ہے کہ بھائی اپنی بہن کو اُس کا پورا پورا حق وراثت فریضہ جان کر ادا کرے اور پھر اُس کے ساتھ ہر طرح سے حسن سلوک وصلہ رحمی کامعاملہ بھی اپنائے رکھے۔اگر بہن اپنے بھائی کو اپنا حق وراثت اس لئے بخش دے تاکہ وہ اپنے میکے آنے جانے کا دروازہ کھلا رکھ سکے ورنہ اُس کو بے رخی اورقطع تعلق کا خطرہ ہو تو بھائی کے لئے محض اس طرح بخشا ہوا حق وراثت ہرگز بھی حلال نہیں ہے کیونکہ یہ استحصال ہے، لیکن اگر بہن نے بغیر کسی شرط کے بلا کسی خارجی دبائو یا خطرہ کے اور اپنی دلی رضامندی سے حق وراثت اپنے قبضہ میں کر لینے کے بعد اور پنے بھائی کا حسن تعلق ملاحظہ کرنے کے بعد محبت کی بناء پر اصرار سے اپنا حصہ اپنے بھائی کو بخش دیا تو پھر یہ جائز ہوگا اور اس صورت میں بھائی کے لئے یہ حصہ بھی غیر مشکوک ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:-غسل میں نیت کیا کرنی چاہئے؟غسل کن کن چیزوں سے فرض ہوتاہے ؟غسل میں کتنے فرض ، سنت اور مکروہ ہیں ؟کیا فرض چھوٹ جانے سے غسل ہوتاہے ؟غسل کا صحیح (مسنون)طریقہ کیاہے ؟کیا عورت کے بال بھی غسل میں دھونے ہیں؟ روزے میں کس طرح غسل کریں ؟جمعہ کے دن غسل کرنا کیساہے ؟اس کاثواب بتائیں ۔
شبیر احمد …اسلام آباد ،کشمیر
غسل کی فرضیت اور مسائل
جواب:-کسی مسلمان کو جب ناپاکی لاحق ہوجائے، جس کی بناء پر وہ نماز پڑھنے اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے کے لائق نہیں رہتا۔ اُس ناپاکی سے پاک ہوکر نماز کے قابل بننے کے لئے بھی غسل لازم ہوتاہے اور کبھی وضو لازم ہوتاہے ۔ اب چاہے وضو کرنا ہو یا غسل دونوں میں ایک ہی نیت کرنی ہوتی ہے ۔غسل کرنے میں دل سے یہ ارادہ کریں کہ میں اپنے جسم کو شریعت اسلامیہ کے بتائے ہوئے حکم کے مطابق پاک کرتاہوں تاکہ میں نماز کے قابل ہوجائوں ۔یہی غسل کی نیت ہے ۔غسل لازم ہونے کی وجوہات یہ ہیں : احتلام ہونا ۔ یہ مرد کوہو یا عورت کو ۔ اگلی شرمگاہ سے شہوت کے ساتھ منی خارج ہونے کواحتلام کہتے ہیں ۔ اس سے غسل کرنا فرض ہوجاتاہے ۔ دوسرے مرد وعورت کا ہمبسترہونا۔اس میں صرف دخول کرنے سے دونوں پر غسل لازم ہوتاہے چاہے انزال ہوا یا نہ ہوا ہو۔ان دوامور کے علاوہ عورتوں پر غسل لازم ہونے کی دو وجوہات اور بھی ہیں ۔ ایک حیض آنا ، دوسرے نفاس آنا۔حیض ہرماہ آنے والے نسوانی عذر کو کہاجاتاہے اور نفاس اُس خون کو کہتے ہیں جو بچہ پیدا ہونے کے بعد آتاہے ۔اس حیض ونفاس میں حکم یہ ہے کہ اس خون کے ختم ہونے کے بعد غسل کرنا لازم ہوتاہے ۔ حیض زیادہ سے زیادہ دس دن اور یا پھرعادت کے ایام کے بقدر ہوتاہے اور نفاس زیادہ سے زیادہ چالیس دن ایامِ عادت کے بقدر ہوتاہے ۔
غسل میں تین فرض ہیں ۔ اچھی طرح غرغرہ کے ساتھ کلی کرنا ، ناک میں نرم ہڈی تک پانی پہنچانا،سارے جسم کے ہر ہر حصے کو پانی سے تر کرنا ۔ غسل میں یہ چیزیں سنتیں ہیں ۔ بسم اللہ پڑھنا ، دونوں ہاتھوں کو دھونا پھر استنجاء کرنا ۔جسم پر اگر ناپاکی لگی ہو تو اُس کو دھونا پھر پورا وضو کرنا ۔پھر سر پر پانی بہانا ۔ اُس کے بعد پہلے دایاں کندھاں پھر بایاں کندھا دھونا۔ پھر پورے جسم پرپانی بہانا ۔ تسلسل کے ساتھ غسل کرنا۔ جسم کو رگڑنا اور مَل مَل کردھونا۔ پورے جسم پر تین بار پانی بہانا ۔ کم سے کم پانی خرچ کرنا یعنی پانی کے اسراف سے بچنا ۔غسل کرنے کا مسنون طریقہ یہی ہے جیسے غسل کی سنتیں بیان ہوئیں ۔ اسی ترتیب کے مطابق غسل کرنا سنت ہے ۔ غسل کے اخیر میں پھر دوبارہ وضو کرنا ہرگز لازم نہیں ہے ۔ ہاں اگر غسل کے فارغ ہونے پر پیشاب کا قطرے نکل آئیں تو پھر غسل کرنے کے بعد وضو بھی لازم ہوگا ۔عورت کو اپنے غسل میں سارے جسم کے ساتھ سراور سر کے سارے بال دھونا بھی لازم ہے ۔ ایک بال بھی یا اُس کی جڑ بھی اگر خشک رہ جائے تو غسل نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہربال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتاہے ۔
البتہ اگر عورت نے بالوں میں بہت ساری مینڈیاں گندھی ہوں جن کو کھولنا دقت طلب بھی ہو اور وقت طلب بھی جیسے کہ عام طور ہمارے کشمیر میں بکروالوں کی خواتین کرتی ہیں تو اس صورت میں وہ مینڈیاں(لٹیں) کھولنا ضروری نہیں ۔البتہ بالوں کی جڑوں کو ترکرنا ضروری ہے اور یہ ہرحال میں ضروری ہے ورنہ غسل نہ ہوگا ۔
روزے میں غسل اُسی طرح کرناہے جس طرح باقی ایام میں ۔ البتہ کلی میں غرارہ ضروری نہیں ہے ۔ اس لئے جب روزے کی حالت میں غسل کیا جائے تو غرارہ نہ کیا جائے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پانی حلق سے نیچے چلا جائے اور روزہ فاسد ہوجائے ۔
جمعہ کے دن غسل کی بہت فضیلت ہے اور تاکید کے ساتھ غسل کرنے کا حکم احادیث میں موجود ہے ۔ چنانچہ ایک حدیث میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کا غسل ہرمسلمان بالغ پر لازم ہے ۔ (بخاری ومسلم)
اس لئے حدیث پر عمل کرنے اور سنت انجام دینے کی نیت سے جمعہ کے دن ضرور غسل کرنا چاہئے ۔ ہاں بیماری ، سفر یاپانی سرد ہونے کے باعث غسل نہ کرپائیں تو کم ازکم اس کا احساس اور افسوس ہونا چاہئے کہ ایک سنت پر عمل نہ ہوپایا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:- بعض لوگ کہتے ہیں کہ آج کل قرآن کریم جو حفظ کیا جارہاہے اور بلاترجمہ پڑھا جارہاہے اور بلا سمجھے اس کو رٹتے ہیں ۔ یہ سب منتر کے برابر ہے کیونکہ قرآن کا سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا قرآن بلا سمجھے پڑھنا اور حفظ کرنابیکارہے ؟
جاوید احمد …ڈوڈہ جموں
تلاوت یا حفظ قرآن کا منکر
قرآن کی حقیقت سے ناواقف
قرآن کی حقیقت سے ناواقف
جواب :-قرآن کریم اللہ کی نازل کردہ وہ واحد کتاب ہے جو اپنے الفاظ وکلمات کے ساتھ محفوظ ہے۔اس کے الفاظ وکلمات کو بغیر سمجھے بھی اگرتلاوت کیا جائے تو اس پر عظیم اجربھی ملتا ہے اور صرف پابندی سے یہ تلاوت بھی انسان کی ہدایت کا سبب ہوتی ہے۔ خود قرآن کریم میں بھی تلاوت کرنے کا حکم ہے ۔قرآن حفظ کرنا قرآن کا امتیاز ہے۔ اس کا پہلا حافظ خود اللہ کی ذات اقدس پھر حضرت حضرت نبی کریم علیہ السلام ۔اُس کے بعد ہزاروں صحابہ ولاکھوں تابعین اور پھر یہ تعداد کروڑوں میں ہوگی۔
الحمدللہ آج بھی پورے عالم میں ہزار وں نہیں کروڑوں مسلمان حافظ قران اور کروڑوں مسلمان بچے حفظ قرآن کی دولت حاصل کرنے کے لئے مصروف سعی ہیں ۔ جو شخص تلاوت یا حفظ قران کا منکرہے وہ خود قرآن کی حقیت سے واقف نہیں ہے اور اگر کوئی اس کو منتر کہے تو ایمان ہی خطرے میں ہے ۔ یہ شخص فاسق سے بڑھ کر ہے اور خطرہ ہے کہ زندیق نہ ہو ۔اس لئے کہ جو یہ کہے بغیر سمجھے قرآن پڑھنا غلط ہے وہ دراصل قرآن سے امت کو محروم اور تلاوت کی نعمت سے دور کرنے کی بات کہہ رہاہے۔ ساتھ ہی یہ ان تمام احادیث کا انکار ہے جن میں قرآن کریم کے بغیر سمجھے پڑھنے میں بھی عظیم اجرکی بشارت ہے ۔ ایک حدیث میں ہے چنانچہ حافظ قرآن کے باپ کو قیامت میں پہنایا جائے گا ۔ایک حدیث میں حافظ قرآن سے کہاجائے گا قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں میں چڑھتا جا ۔ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کریم کے ہر ہر حرف کے پڑھنے پر دس نیکیاں ہیں ۔الم ایک حرف نہیں بلکہ الف ایک حرف ،لام ایک حرف ،میم ایک حرف ہے ۔
ظاہرہے الف لام میم کو کوئی سمجھ کر نہیں پڑھتا ۔ نہ ہی یہ حروف مقطعات پڑھنے کے لئے سمجھنے کی شرط ہے ۔
دراصل قرآن کریم کے پانچ حقوق ہیں :
تعلیم قرآن:یعنی قرآن کریم معریّٰ پڑھنا آجائے۔ یہ قرآن کا لازمی وہ حق ہے جو ہر ہر مسلمان پر فرداً فرداً لازم ہے ۔
تلاوت قرآن: یہ بھی ہر ہر مسلمان پر لازم ہے اور چار ماہ میں ایک ختم کرنا قرآن کا حق ہے ۔
فہم قرآن : یہ بھی اُن کا حق ہے ۔ مستند اہل علم سے ترجمہ وتفسیر سننا ،مستند تفاسیر کا مطالعہ کرنا اور سب سے بہتریہ ہے کہ عربی زبان کی اتنی صلاحیت پیدا کرنا جوفہم قرآن کے لئے لازم ہے ۔
عمل قرآن :قرآن کے فرائض پر عمل ، اُسی کی حرام کردہ اشیاء سے اجتناب اور اس کا احکام کی پیرو ی۔
دعوت ِ قرآن:مسلمانوں کو قرآن پر عمل پیرا ہونے کی دعوت اور غیر مسلم اقوام تک دعوت قرآن پہنچانے کی عظیم محنت ۔ یہ قرآن کے حقوق ہیں ۔
اس لئے جو شخص امت کے بچوں کو قرآن ناظرہ پڑھاتاہے ۔پھر کچھ کو کچھ سورتیں یاد کراتاہے اور کچھ کو پورا قرآن حفظ کراتاہے اور پھر اُن میں کچھ کو معانی قرآن سکھاتاہے ، عربی گرائمر صرف ونحو کی تعلیم دے اس کا کام فہم قرآن کا صحیح ومستند سلسلہ قائم کرناہے۔
یہ عظیم محنت میں لگا ہواہے اس لئے سب سے بڑی بشارت خود حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے ۔آپ نے فرمایا ’’تم سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے او رسکھائے ۔‘‘( بخاری )