۔ 2019ءکے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو شرمناک شکست ہوئی۔ یہ توقع کی جارہی تھی کہ 2014ء اور 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی عبرت ناک شکست سے کانگریس کچھ سبق لے گی اور خود کو مضبوط کرنے کیلئے موثر اقدامات کرے گی۔ ابھی ان باتوں پر غور کیا ہی جارہا تھا کہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے استعفیٰ دے دیا اب وہ اپنے استعفیٰ کو واپس لینے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ راہول گاندھی کے مستعفی ہونے کی وجوہات اب سامنے آرہی ہیں اِن میں سے اہم یہ ہے کہ کانگریس کے لیڈروں نے کسی بھی ریاست میں کھل کر راہول گاندھی کا ساتھ نہیں دیا اسی لئے راہول گاندھی نے کہا کہ بیشتر سینئر قائدین کو پارٹی کو کامیاب بنانے سے زیادہ دلچسپی اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو کامیاب کروانے سے تھی گوکہ راہول گاندھی نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن بیٹوں اور رشتہ داروں کے لئے کھل کر کام کرنے والے قائدین کے نام سب کو معلوم ہیں۔ راہول گاندھی کے استعفیٰ کے بعد کئی دن تک تو راہول گاندھی کو منانے کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن راہول گاندھی اپنے ارادہ میں اٹل رہے اور مستعفی ہونے کے فیصلہ پر قائم رہے۔
کانگریس کی حالتِ زار اس وقت انتہائی افسوس ناک ہے۔ پارٹی کی قیادت کے لئے اسے کوئی مناسب قائد نہیں مل رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو قائدین کانگریس کی صدارت سنبھال سکتے ہیں وہ وزیر اعلیٰ اور دیگر وزارتی عہدوں پر فائز ہیں۔ کوئی اپنا عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ملک کی سب سے قدیم پارٹی کے لئے یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اس کے قائدین میںقربانی اور ایثار کا جذبہ ختم ہوگیاہے۔ کانگریس کے دشمن تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ کانگریس بہت جلد ختم ہوجائے گی یا زیادہ سے زیادہ ایک علاقائی پارٹی بن کر رہ جائے گی۔ کانگریس میں ہر طرف، ہر سطح پر خاصہ انتشار نظر آتا ہے۔ کانگریس کو اگر اپنی حالت بہتر بنانا ہے تو اسے خود کو مستحکم کرنا ہوگا۔ اس کے لئے اسے اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانی ہوگی۔ کانگریس کے بعض قائدین جس طرح کہ بے تکے بیانات دے رہے ہیں اس سے ان کو پرہیز کرنا ہوگا۔ کانگریس بی جے پی کی طاقت کا مقابلہ ایسے احمقانہ بیانات سے نہیں کرسکتی ہے۔
کانگریس کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر کانگریس کا ’’نرم ہندوتوا‘‘ کی طرف میلان ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی کانگریس نے مسلمانوں سے بے رُخی برتنا شروع کردی تھی اور یہ بھی بڑے افسوس کی بات ہے کہ آزادی کے بعد جو قدآور مسلمان قائدین مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسرت ؔموہانی وغیرہ نے مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں پر کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ اگر کانگریس کے مسلمان قائدین اس وقت مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے تن کر کھڑے ہوجاتے اور مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوششوں کے خلاف کام کرتے تو آج مسلمانوں کا یہ حال نہ ہوتا۔ مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو کانگریسی حکومتوں کے مختلف ادوار میں بری طرح کچلا گیا۔ جہاں جہاں مسلمانوں کے کاروبار ترقی کررہے تھے اور ملک کی خوشحالی میں اپنا حصہ ادا کررہے تھے، وہیں منصوبہ بندسازش سے فسادات کروائے گئے، فسادات میں مسلمانوں کو جانی نقصان کے ساتھ ان کا مالی نقصان اتنا کیا کہ ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ پیتل کے برتنوں کے لئے مشہور مرادآباد، اپنے تالوں کے لئے معروف علی گڑھ اور کپڑے کی صنعت کے لئے بھیونڈی، مالیگائوں وغیرہ میں مسلمانوں کی اِن صنعتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ منموہن سنگھ کے دورِ حکومت کی ابتداء میں مسلمانوں کے اقتصادی حالات جاننے کے لئے سچر کمیٹی کا تقرر کیا گیا۔ اس نے اپنے رپورٹ میں بتایا کہ مسلمانوں کی اقتصادی حالت اور تعلیم کے میدا ن میں ان کی حالت دلتوں سے بھی بتر ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ پر عمل کرنے کے لئے منموہن سنگھ کی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ منموہن سنگھ حکومت کی یہ بے عملی ازخود ناقابل فہم ہی نہیں بلکہ قابل مذمت ہے۔
کانگریسی حکومتوں کے دور میں ہی مسلمانوں پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگایا گیا گوکہ ملک کے کسی بھی حصہ میں مسلمان کسی قسم کی دہشت گردی سے عملاً دور تھے لیکن کانگریسی حکومتوں نے ہی مظلوم اور معصوم نوجوانوں کو دہشت گرد بتاکر جیلیں ان سے آباد کیں۔ دوسری طرف سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنے کے لئے رگھوناتھ مشرا کمیٹی کی سفارشات پر بھی کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس نے نرم ہندتو کے مظاہرے کیلئے مسلمانوں سے دوری بنائے رکھی۔ مسلمانوں کو کم سے کم ٹکٹ دئے گئے اور مسلم اُمیدواروں کو کامیاب بنانے کے لئے کانگریسی کارکنوں نے کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کانگریس کی یہ کوشش کہ وہ خود کو مسلمانوں سے اور ہندووں سے قریب ظاہر کرے۔ اس کے کسی کام نہ آئی۔ مسلمانوں نے کانگریس کو بیشتر علاقوں میں ووٹ نہیں دیا۔ مسلمانوں کے ووٹ نہ ملنے سے کانگریس کو بھاری نقصان ہوا بلکہ کانگریس کی شرمناک شکست کی ایک وجہ مسلمانوں کا ووٹ نہ ملنا بھی ہے۔ جن لوگوں نے راہول گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کے انتخابی تقاریر کو سنا ہے وہ جانتے ہیں کہ کانگریس کے ان اہم قائدین نے اپنی بیشتر تقاریر میں مسلمانوں کا ذکر بہت کم کیا۔ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے تدارک کی کوئی بات نہیں کی بلکہ ایسا لگتا تھا کہ راہول گاندھی عملاً مسلمانوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔ جب کانگریس کے اہم قائدین نے مسلمانوں نے اپنی انتخابی مہم میں نظر انداز کیا تو مسلمانوںنے بھی ان کو بری طرح نظر انداز کیا اور اس کھیل میں زیادہ نقصان کانگریس کو ہوا۔ انتخابات کے بعد بھی جن ریاستوں میں اب بھی کانگریس حکمران ہے وہاں پر مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش میں کانگریسی حکومت خود کو بی جے پی کی حکومت سے زیادہ بڑی گائو رکھشک ظاہر کرنے کے لئے گائو کشی کے مفروضہ اور بے بنیاد الزامات کے تحت مسلمانوں کو گرفتار کرتی رہتی ہے۔ دوسری طرف راجستھان میں ہجومی تشدد کے شکار ہونے والے پہلو خان کے خاندان کی کوئی مدد کرنے کی جگہ پہلو خان کے بیٹوں پر چارج شیٹ عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ گائیوں کی اسمگلنگ کررہے تھے۔ راجستھان کی حکومت کی یہ مسلم دشمنی اس کے کسی کام نہ آئے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر کانگریس نے مسلمانوں کو قریب کرنے اور نرم یا سخت ہندوتو سے گریز کرنے کی پالیسی پر عمل نہ کیا تو اسے ماضی سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مختصر اًیہ کہ کانگریس کو اگر اپنی حالت بہتر بنانی ہے تو اسے ماضی سے سبق لینا ہوگا اور اپنی تنظیمی خرابیوں کو دور کرکے ایک مستحکم جماعت کے روپ میں سامنے آنا ہوگا اور ساتھ ہی مسلمانوں کو قریب کرنا ہوگا ۔
Ph: 07997694060
Email: [email protected]