جب گھر میں آگ لگ جاتی ہے اور صورتحال ناامید نظر آتی ہے توکسی بھی بے تکی اور غیر مقبول حرکت کو ایک اچھی سرگرمی کے طور پیش کیاجاسکتا ہے۔یہ آر بی آئی کے اندرونی ورکنگ گروپ کی رپورٹ کو دیکھنے کا ایک طریقہ ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ بڑے کارپوریٹ اور صنعتی گھرانوںکو بینکوں کے پراموٹر بننے کی اجازت دی جائے۔ اس سفارش پر آر بی آئی کے دو سابق سینئروں رگھورام راجن اور وائرل اچاریہ ، جو رخصت ہوچکے ہیں اور اپنی تعلیمی ملازمتوں میں واپس آچکے ہیں، کی جانب سے سخت اور تشویشناک ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ سفارش میں کہا گیا ہے کہ تبدیلی سے پہلے قانون میں تبدیلیاںکرکے "منسلک قرضوں" کو روکنے کے لئے اور نگرانی کے طریقہ کار کو مستحکم کرنا ہوگا ۔یوں اس بات کو تسلیم کیاگیاہے کہ خطرات موجود ہیں لیکن نیا انضباطی نظام ان کو کم کرسکتاہے۔ حقیقت میں رپورٹ خود کہتی ہے: ’’یہ بلا شبہ لازمی ہوگا کہ بڑے کارپوریٹ گھرانوںں کو بینکوں کو فروغ دینے کی تجویزپر غور کرنے سے پہلے نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ کیاجائے ‘‘ کیونکہ جب بڑے کارپوریٹ گھرانوں،جن کا ایندھن ہی پروجیکٹوں کیلئے پیسہ ہے،بھی بنک چلانے لگیں جن کا کام اصل میں پروجیکٹوں کیلئے قرضہ دینا ہے توحکمرانی کے خطرات اور مفادات کے ٹکرائو کا نظارہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
مختصراً کہیں تو آر بی آئی گروپ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ اگر نگرانی اچھی ہو تو بینک کارپوریٹ ہاؤسز کے ذریعہ چلائے جاسکتے ہیں۔ اس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان میں بینک نگرانی کا معیار کیا ہے اوراس نے ہمیں کہاں پہنچا یاہے؟ اس سوال کا جواب ہر ایک کو معلوم ہے۔ ہندوستانی بینکنگ بدحال ہے ، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
بینکنگ ایک پیچیدہ کاروبار کی طرح نظر آسکتی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ بینک کی بنیادی باتیں بالکل آسان ہیں۔ سابق ڈپٹی گورنر وائرل اچاریہ نے ایک دفعہ اس کو کچھ اس طرح بیان کیا:’’ایک بینک ایسا ہونا چاہئے جس پر وہ کوئی تکیہ یا بھروسہ کرسکے‘‘۔ 'بہت آسان یہ بھی اشارے ہیں کہ بینکوں کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ ہندوستانی بینکنگ منظر نامہ کو دیکھیں اورآپ کواگر تباہی نہیں تو کم ازکم خراب ہونے کی علامات کو دیکھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ ہندوستان نام نہاد جمہوریت نہیں ہے ، کم از کم ابھی نہیں ہے۔ یہ ثقافتی طور پر بھی ایسا ملک بھی نہیں ہے جواُن عام شہریوں کے بیجا اصراف کیلئے جانا جاتا ہوجو آج ایسے خرچوںپر جی رہے ہیں جن کی ادائیگی کل ہونی ہے۔در حقیقت ، عام کھاتہ دار بھاری بچانے والا ، وفادار صارف اور وقت پر بل ادا کرنے والا ہے۔ یہ اسی عام شہری کا پیسہ ہے جو بینک چلاتا ہے۔ یہ ثقافتی طور پر بینک کاؤنٹر پر عام ہندوستانی صارف کا پروفائل ہے۔ یہ پروفائل اب تبدیل ہو رہا ہے لیکن لنگر اندازی اور استحکام ابھی بھی موجود ہیں۔
محنتی بچت کرنے والے اور محتاط خریداروں کے اس ملک میں بینک کاری نظام مجموعی نادہندہ قرضوںیا نان پرفارمنگ اثاثوں (GNPAs) کے ساتھ چلتا ہے جن کا تخمینہ دسمبر2019کے آر بی آئی کے بھارت میں بنکنگ کی پیش رفت و رجحانات کے رپورٹ میں2018-19کیلئے 7,39,541 کروڑ روپے لگایا گیاتھا اور اُسی سال 1,83,391کروڑ روپے کے قرضے معاف بھی کئے گئے تھے۔ اپنی مالی استحکام کی رپورٹ میں آر بی آئی نے بتایا کہ مارچ 2020میںبنکوں کی جانب سے دئے گئے قرضوں کا نصف سے زیادہ حصہ بڑے قرضدار لے گئے تھے جبکہ مجموعی غیر قرضہ نادہندگان یا جی این پی ایزکا تین چوتھائی حصہ یعنی78.3فیصد حصہ بھی ایسے ہی لوگوں کے پاس تھا۔ مارچ 2018 کے بعد سے ان دونوں حصص میں کمی واقع ہوئی ہے ، جس سے یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ یہ بیماری آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر چھوٹے قرض لینے والوں میں بھی پھیل رہی ہے۔کسی بھی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایسے اعدادوشمار خطرناک ہیں ۔ مثال کے طورخبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے مئی میں رپورٹ کیاکہ 2014سے2019تک تقریباً چھ برسوں میں پربینک آف بروڈہ کے این پی اے چھ گنا سے زیادہ بڑھ کر73,140 کروڑ روپے جبکہ انڈین بنک کے این پی اے چار گنا بڑھ کر32,561.26 کروڑ روپے ہوگئے ہیں۔ یس بینک کی حالیہ کہانی نگرانی کا نظام خراب ہونے کی ایک اور داستان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم نگرانی میں تاریخی طور پر خراب تھے ، ہم بدستور خراب ہی ہیں ، اور ہم کچھ اصولوں میں نرمی لانا چاہتے ہیں اورایسی نگرانی کا منصوبہ بنانا چاہتے ہیں جو قواعد کو اور بھی نرم کرکے جادوئی طور اچھی ہوجائے !۔ اسکو کسی بھی نام سے پکاریں ، لیکن اس دلیل اور منطق میں کوئی وزن نہیںہے۔ اس سے یہ اشارہ مل سکتا ہے کہ ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے اور یہ کہ حکومت ایک نئی پالیسی کے لئے تیاری کر رہی ہے جو ایک اہم وقت میں اہم نقائص لے کر آئے گی اور ایک ایسے وقت میں حفاظت کے لئے نئے دروازے کھول دے گی جو بینک کاری کے شعبے میں بہت سارے دروازے پہلے ہی کھلے ہیں اور ان کی نگرانی پر کوئی مامور نہیں ہے۔
یہ سچ ہے کہ ہمارے بہت سارے خراب قرضوں کا آغاز راکٹ جیسی نمو کے ابتدائی دنوں میں ہوا تھا جس کا سہرا منموہن سنگھ حکومت کوجاتا ہے۔ ہم آج بھی اس شرح نمو اور ترقی کے لئے ترس رہے ہیں ، خاص کر اس لئے کہ موجودہ انتظامیہ نے ہمیں صرف زوال دئے ہیں اور وہ زوال اس کے خود پیدا کئے ہوئے ہیں جس کی ایک مثال نوٹ بندی ہے اور دوسرا کورونا وباء کے تناظر میںبقول وزیر خزانہ ’’خدائی عمل ‘‘ہے جو مسلسل موت و تباہی کا باعث بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں این پی اے کی پہلے سے خراب صورتحال صرف خراب ہوسکتی ہے جو مجوزہ تبدیلیوں اور نرمی کی ٹائمنگ پر مزید خطرے کی گھنٹی بجاتی ہے۔
خود این پی اے پر بھی ، یہ بات قابل غور ہے کہ تحقیقات کرنے اور کسی بھی ایسی چیز کو کٹہرے میں لانے کیلئے، جو ایک حقیقی کاروباری ناکامی سے جدا ہو،کی بجائے موجودہ انتظامیہ مضبوط اور سخت پیغام بھیجنے اور کسی بھی مجرم کا محاسبہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔تعجب ہوتا ہے کہ ان بزنس سائیکل میں تبدیلی ،مخصوص سیکٹر کا فروغ نہ پانایا زمین کی حصولی میں ناکامی یا عدالتوںکے امتناعی احکامات جیسے عذرات کو خاطر میں لانے کے باوجود بھی کس طرح اتنی بڑی ناکامی کا سامنا ہوسکتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ کاروباری منصوبے تمام شعبوں میں ایک ہی وقت تھوک میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ایک بار پھر دیکھیں ، اور آپ کو یہ کہانیاں سننے کو ملیں گی کہ کس طرح قرضوں کی پیشکش کے ساتھ تاجروںکا پیچھا کیا گیا اورقرضوں کا کھاتہ بڑھانے کے لئے دیوانہ وارانداز میں قرضے دئے گئے اور اس عمل میں اصول و ضوابط اور اختتامی استعمال کے اصولوں کو بھی خاطر میںنہیں لایاگیا۔ اس رش میں ، عوام کی کتنی رقم جیب میں چلی گئی اور کس کے ذریعہ،ایسا کچھ نہیںہے جس کے بارے میں جی ڈی پی بڑھنے پر جشن منانے والوں نے کبھی فکر کی ہو ۔ حکمرانی اور استحکام اور نمو کی عملیت کو کبھی بھی اتنا شاندار نہ سمجھا جائے کہ ان پر فوکس کیاجائے۔
بھارت کو اس پر کٹھور فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔اس کے برعکس ہم ہمیشہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہی رہے۔ حکومت کو ہراُس معاملے میں نادہندگان کے پیچھے پڑ کر اُنہیں نشان ِ عبرت بنانا چاہئے تھا جن کے معاملات میںقرضے کسی جائز کاروباری ناکامی یا تاخیر کی وجہ سے خراب ہوئے تھے۔ اس کے بجائے حکومت ہر طرح کے دشمنوں(سیاسی ، خیالی اور دوسروں )کے پیچھے پڑی ہے ، لیکن این پی اے وصولنے میں ناکام رہی ہے۔ اس پر بڑے کاروباریوں کے ساتھ نرمی برتنے کا الزام لگایا جاسکتا ہے۔ ا نسالونسی اور دیوالیہ پن کوڈ ، IBC موجود ہے لیکن اب بھی اپنی ابتدائی عمر میں ہے ۔ معاملہ حل کرنے یا جو کچھ بھی حاصل کیاجاسکتا ہے،اُس کو مونیٹائزکرنے کیلئے180دن کی سخت ترین ڈیڈلائن نے مختلف وجوہات کی بنا پر ہندوستان میں شاذ و نادر ہی کام کیا ہے۔ اور وصولی انتہائی نچلی سطح پر ہے جبکہ باہر بہت پیسہ پھنسا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ بینک کاری اعتباریت ،ساکھ اور اعتماد سازی کے علاوہ ہر اُس فیصلہ کیلئے بنک کو جوابدہ بنانا ہے جو اس نے اچھی نیت سے نہ لیاہو۔ اس میں سے کوئی بھی ہمارے بینکنگ سسٹم کے پاس نہیں ہے جس کے پاس ہماری استعداد سے کہیں زیادہ بنک اور بنک شاخیں ہیں۔ کارپوریٹ روابط اور کارپورٹ کنٹرول کے ساتھ نئے بنکوںکو لانے سے یہ مسئلہ نہیں ہوگابلکہ اس میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے باوجود ، ہم سب کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے جدید دور کے ورژن کی خدمت میں نئے امپیریل بینک آف انڈیا کے لئے تیاری کرنا ہوگی۔
(جگدیش رتنانی ایک صحافی اور SPJIMRمیں فیکلٹی ممبر ہیں،سنڈیکیٹ۔دی بلین پریس)
ای میل۔[email protected]
مترجم۔ریاض ملک