ٹی ای این
سرینگر// حکومت کے کاروباری بحالی پیکیج 2020 کے تحت سودی سبونشن اسکیم کے نفاذ میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) کی کمپلائنس آڈٹ رپورٹ (مارچ 2022 تک) کے مطابق حکومت نے خود ہی اسکیم کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ہی مستفید کو ایک سے زائد اکاؤنٹس میں سودی سبونشن فراہم کیا، جس کے نتیجے میں 39,136 اکاؤنٹس کو مجموعی طور پر 59.21 کروڑ روپے کا غیر مستحق فائدہ پہنچا۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے اسکیم کے نفاذ کے لئے واضح رہنما اصول مرتب نہیں کیے اور نہ ہی بینکوں کو شرائط و ضوابط باقاعدہ طور پر منتقل کیے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں۔
حالانکہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ منظوری احکامات میں واضح تھا کہ ہر مستفید کو صرف ایک اکاؤنٹ پر ہی سبونشن کا فائدہ دیا جا سکتا ہے۔آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ جموں وکشمیر بنک نے 65,456 اکاؤنٹس میں 202.47 کروڑ روپے جمع کیے، جن میں سے 30,019 ایسے مستفیدین تھے جن کے ایک سے زائد اکاؤنٹس تھے۔ اس طرح 35,437 غیر اہل اکاؤنٹس کو 57.80 کروڑ روپے کا سبونشن دیا گیا۔اسی طرح جموں وکشمیر گرامین بنک نے 7,151 اکاؤنٹس میں 5.08 کروڑ روپے منتقل کیے، جن میں 3,452 مستفیدین کے متعدد اکاؤنٹس شامل تھے، اور یوں 3,699 غیر اہل اکاؤنٹس کو 1.41 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچا۔آڈٹ نے مزید نشاندہی کی کہ اسکیم کے برخلاف کسان کریڈٹ کارڈ (KCC)، آرٹیزن کریڈٹ کارڈ (ACC) اور ذاتی قرضوں پر بھی سودی سبونشن فراہم کیا گیا، حالانکہ یہ زمرے اسکیم میں شامل ہی نہیں تھے۔ جے کے بینک نے 10 کے سی سی اکاؤنٹس کو 1.91 لاکھ روپے اور 22 ذاتی اکاؤنٹس کو 1.07 لاکھ روپے کا فائدہ دیا۔حکومت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اکاؤنٹس غلط زمرے میں درج ہوئے تھے اور ان کی درستی کی جا رہی ہے، تاہم آڈٹ رپورٹ نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسکیم کے وقت یہ اکاؤنٹس ذاتی زمرے میں درج تھے، اس لیے انہیں فائدہ دینا قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسکیم مالی ضروریات کے کسی جامع سروے کے بغیر تیار کی گئی، جس سے اس کی منصوبہ بندی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔جموں و کشمیر میں مختلف شعبہ جات کو درپیش مشکلات کے پیش نظر اگست 2020 میں محکمہ صنعت و تجارت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے ستمبر 2020 میں اپنی سفارشات پیش کیں۔ ان سفارشات کی بنیاد پر فنانس ڈیپارٹمنٹ نے اکتوبر 2020 میں 5 فیصد سودی سبونشن اسکیم کی منظوری دی، جو یکم اپریل 2020 سے چھ ماہ کے لیے نافذ کی گئی۔