بانہال // کا ئشر ادبی مرکز بانہال کی طرف سے اپنے سالانہ رسالہ گلاب کا پروفیسر مرغوب بانہالی نمبر کی رسم اجرائی کی ہے۔ اس موقعہ پر بانہال میں ایک ادبی مجلس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت منشور بانہالی نے کی۔ جبکہ ایس ڈی ایم بانہال وکاس ورما ، ایس ڈی ایم رامسو وقار گیری ،تحصیلدار بانہال شفیق وانی کے علاوہ مقامی قلم کار ،ادبا ء اور نامور شعراء بھی تقریب میں موجود تھے ۔اس کتاب میں مختلف شعراء نے پروفیسر مرغوب بانہالی کی ادبی وعلمی خدمات اور ان کی شخصیت پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ مقررین نے کہا کہ پروفیسر مرغوب بانہالی ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں اور انہیں ادب اور علم و دانش کے میدان پر نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس موقعہ پر بزرگ شاعر و ادیب پروفیسر مرغوب بانہالی نے سرینگر سے اپنا ویڈیو پیغام بھی حاضرین کو سنایا۔ تقریبا ڈیڑھ سو صفات پر مشتمل اس گلاب کے اس خصوصی شمارے میں منشور بانہالی ، مجروج رشید ، شاہباز راجوروی ، دلفگار بانہالی ، غلام حسن بانہالی ،مضروب بانہالی ،غلام نبی شاکر ، بشیر بھدواہی، اسیر کشتواڑی ،حسرت حسین ،ارشاد شمسی ،فدا راجوروی اور ڈاکٹر خالد رسول نے مرغوب بانہالی کی اڈبی اور علمی خدمات کو اپنے لفظوں میں سمیٹا ہے اور اسے سالانہ گلاب رسالے کے خصوصی شمارے کے طور شائع کیا گیا ہے۔ اس تقریب میں بزرگ شاعر و ادیب ڈاکٹر پروفیسر مرغوب بانہالی مصروفیات کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے تاہم اْنہوں نے اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعہ کائشر ادبی مرکز بانہال اور دیگر شعراء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی خدمات پر ان کی حوصلہ افزائی کے ہے۔اس ویڈیو پیغام کو مجلس میں پروجیکٹر کے ذریعے پیش کیا گیا۔کتاب کی رسم اجرائی کے دوران مرغوب بانہالی کی ادبی و شاعری خدمات کے علاوہ ان کی زندگی کے دیگر پہلو پر بھی مفصل روشنی ڈالی گئی۔ اس موقعہ پر مسرور بانہالی نے کہاکہ پروفیسر مرغوب بانہالی نہ صرف ایک اعلی پا یہ کے ادیب اور ماہر تعلیم ہیں بلکہ وہ ایک سیاست دان بھی ہیں جنہوں نے ریاست کی تقسیم کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور اسے گلدستہ کی طرح ایک ساتھ رہنے پر ہمیشہ زور دیا ہے۔ ڈاکٹر خالد رسول نے گلاب کے اس رسالے پر ایک تفصیلی مضمون پیش کیا اور شعراء و ادبا کی طرف سے مرغوب بانہالی سے منصوب تحریر کردہ کلام پر روشنی ڈالی۔ایس ڈی ایم بانہال وکاس ورما نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نے ایسی ادبی مجلسوں کا انعقاد کر نے پر ادبی تنظمیوں خصوصا کاشئربادبی مرکز کی سراہنا کی اور کہا کہ ماضی کے بارے میں جانے کے لئے انسان کو ہمیشہ اس دور کے تحریر کردہ مواد کو پڑھنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ شاعر قوم اور سماج کی عکاسی کرتا ہے اور مستقبل میں بھی ایسی محفلوں کا انعقاد جاری رکھنے پر زور دیا۔ جن دیگر مقررین نے اس موقع پر اپنے خیالات اور تاثرات پیش کئے ان میں ندیم آہی ، مجروح بانہالی ، منظور احمد کامگار نے بھی پروفیسر مرغوب بانہالی کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ اس موقعہ پر د یگر حاضرین میں گوہر بانہالی ، سیف الدین ڈار ،دانش مظفر ، و دیگران موجود تھے۔ منشور بانہالی نے اس موقع پر ہروفیسر مرغوب بانہالی کو ایک پیشہ ور ادیب اور شاعر قرار دے کر اْن کی طرف سے علم و ادب میں دی جا رہی خدمات کو سراہا ۔آخر پر انہوں نے تقریب میں شرکت کر نے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور سرکار کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی کہ بانہال ایک اکثریتی کشمیری زبان کا علاقہ ہے اس لئے یہاں کے تعلیمی اداروں اور ڈگری کالجوں میں دوسر ی جگہوں کی طرح کشمیری زبان کو پڑھانے کا بندوست کرایا جائے اور کشمیری زبان کو صوبہ جموں کے کشمیری علاقوں میں عملانے کے سرکاری وعدے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔