عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// حکومت جموں و کشمیر نے ڈیزل پر ٹیکس کے ڈھانچے میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے نئی شرحوں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ڈیزل کی فروخت پر ٹیکس کے حساب کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا ہے۔محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل پر اب 16 فیصد ٹیکس عائد ہوگا تاہم اس میں فی لیٹر 2.50 روپے کی کمی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈیزل پر ایک روپیہ فی لیٹر کے حساب سے سیس بھی عائد کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ جموں و کشمیر موٹر اسپرٹ اور ڈیزل آئل (ٹیکسیشن آف سیلز) ایکٹ کے تحت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے، اور اس کا اطلاق 11 اپریل 2026 سے ہو چکا ہے۔حکام کے مطابق اس نئی ٹیکس پالیسی کا مقصد محصولات کے نظام کو منظم بنانا اور مالیاتی توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس کے اثرات مقامی مارکیٹ اور صارفین پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔ادھربڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں جیسے انڈین آئل (IOCL)، بھارت پیٹرولیم (BPCL) اور ایچ پی سی ایل نے منگل 14 اپریل کو گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اور حالیہ دنوں میں کیے گئے 60 روپے کے اضافے کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ملک کے بڑے میٹروپولیٹن شہروں سمیت تمام ریاستوں میں قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔فی الحال، نقل و حمل کے اخراجات اور مقامی ٹیکسوں میں فرق کی وجہ سے ملک کے مختلف شہروں میں قیمتوں میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ دارالحکومت دہلی میں، 14.2 کلوگرام گھریلو سلنڈر کی قیمت 913 روپے ہے، جبکہ ممبئی میں، یہ 912.5 روپے میں دستیاب ہے۔ کولکاتہ میں صارفین اس کے لیے 939 روپے ادا کر رہے ہیں، جبکہ چنئی میں صارفین 928.5 روپے ادا کر رہے ہیں۔دوسری جانب کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ دہلی میں، 19 کلو کا کمرشل سلنڈر 2,078.5 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ رائے پور میں، اس کی قیمت 2,299.5 روپے ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مارچ 2026 میں لاگو 60 روپے کے اضافے کے بعد، مارکیٹ اب استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایل پی جی کی آسان فراہمی کو یقینی بنانے اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے حکومت نے ملک بھر میں سخت موقف اپنایا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 10 اپریل کو ملک بھر میں 3400 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ اس آپریشن کے دوران 214 ایل پی جی ڈیلرشپ کو ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 55 ڈیلرشپ کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ گھریلو سلنڈروں کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے۔ ریکارڈ سطح پر کام کرتے ہوئے، 10 اپریل کو ایک ہی دن میں 5.15 ملین سے زیادہ سلنڈر فراہم کیے گئے۔