جموں//جے اینڈ کے دھرمارتھ ٹرسٹ کے چیئرمین ٹرسٹی اور سابق ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر کرن سنگھ نے بدھ کے روز کہا کہ ڈوگرہ حکمران مذہب کے عظیم سرپرست تھے اور اس لئے انہوں نے روحانیت کو بڑے پیمانے پرفروغ کیا۔وہ یہاں تاریخی رگھوناتھ مندر میں پوجا کرنے اور جموں و کشمیر میں امن، خوشحالی اور ترقی کے لیے دعا کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کر رہے تھے۔چیئرمین ٹرسٹی نے رگھوناتھ مندر کمپلیکس کے آس پاس کے مندروں میں سے ایک، نٹراج جی مندر میں واقع اسپاٹک شیولنگ پر خالص چاندی کی جھیلری کا بھی افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں کی طویل ڈوگرہ حکمرانی، جس پر روحانیت کے مزاج کا غلبہ تھا،نے سابق ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں میں ہندوستانیت کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے، خاص طور پر ڈوگرہ لینڈ جو لکھن پور سے لے کر پیر پنجال کے علاقے اور چناب تک پھیلی ہوئی ہے۔سابق ایم پی نے کہا کہ ان کے آباؤ اجداد نے جموں و کشمیر میں کئی مندر تعمیر کروائے تھے جبکہ نٹراج جی مندر ان کے ذریعہ تعمیر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی ہندوستان میں یہ واحد نٹراج مندر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جرمنی سے یہ نایاب اسپاٹک شیولنگ خاص طور پر رگھوناتھ مندر کے اندر واقع نٹراج مندر کے لیے لائے ہیں۔چیئرمین ٹرسٹی نے کہا کہ دھرمارتھ ٹرسٹ کو گزشتہ 150 سال سے جموں و کشمیر میں مندروں اور عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور تنظیم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پوری جوش و خروش سے کام کر رہی ہے کہ اس کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام مندر بہترین حالت میں رہیں۔بعد ازاں ڈاکٹر کرن سنگھ نے مندر کے احاطے کا چکر بھی لگایا اور عقیدت مندوں سے ملاقات بھی کی۔چیئرمین ٹرسٹی نے رگھوناتھ مندر کے احاطے میں واقع رنبیر سنسکرت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (RSRI) لائبریری کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے لائبریری کے کام کاج کا جائزہ لیا اور لائبریری میں محفوظ اپنشدوں اور دیگر نایاب اور قیمتی صحیفوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے پر زور دیا۔ڈاکٹر کرن سنگھ نے لائبریری میں موجود کتابوں کو خزانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ ملک کے امیر ورثے کا حصہ ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لائبریری میں موجود تمام اپنشد اور دیگر نایاب اور قیمتی صحیفوں کو ڈیجیٹائز کر کے ای لائبریری میں تبدیل کیا جائے جو اس جگہ پر آنے والے سکالرز اور کتاب کے شائقین کے لیے بہت مددگار ثابت ہو گا۔