ڈوڈہ //یوٹی کے دیگر حصوں کی طرح ڈوڈہ ضلع میں بھی آئے روز آشاورکر اپنی مانگوں کو لے کر پر امن احتجاج کررہی ہیں تاہم حکام کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔ان باتوں کا اظہار ڈوڈہ کی سب ڈویڑن گندوہ میں احتجاج کررہی آشا ورکروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔س دوران انہوں 'ہم کیا چاہتے انصاف، ہماری مانگیں پوری کرو' کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ وہ کئی برسوں سے محکمہ صحت کی زیر نگرانی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی مراعات میں اضافہ نہیں کیا جاتا ہے۔ دیکشہ دیوی نامی ایک آشاورکر نے کہا کہ جہاں انہوں نے قومی دیہی صحت مشن کے تحت مختلف اسکیموں کو گھر گھر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا وہیں کوو¿ڈ 19 کے اس ڈیڑھ برس کے عرصے میں قرنطینہ مراکز، ٹیکہ کاری مہم و ٹیسٹنگ کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی و اہل و عیال کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔زونہ بیگم نامی ایک اور ورکر نے کہا کہ این ایچ ایم کے تحت کام کر رہے ملازمین کو ماہانہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ تمام مراعات فراہم کی جاتی ہیں لیکن انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے۔انہوں نے مرکزی حکومت و ایل جی انتظامیہ سے آشا ورکرز کو باقاعدہ طور پر مستقل بنانے و ماہانہ طور پر تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر ان کے مطالبات کو مناسب وقت میں پورا نہیں کیا تو وہ کام چھوڑ ہڑتال شروع کریں گیں۔