ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے درجنوں دیہات میں پینے کے صاف پانی کی قلت پائی جاتی ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ضلع ڈوڈہ کی تحصیل محالہ، بھلیسہ ،فیگسو ،چرالہ ،کاہرہ، گندنہ ،چلی پنگل سے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ جل شکتی کی بے حسی سے درجنوں دیہات میں پینے کے صاف پانی کی پائی جاتی ہے اور عورتوں و بچوں کو کوسوں دور جاکر پانی لانا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی اسکیمیں ناکارہ و زنگ آلود ہو چکی ہیں۔تحصیل کاہرہ کے گاؤں ہلارن، جوڑا خرد سے ایک وفد نے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی سے انہیں کوسوں دور جاکر پانی لانا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ گندہ و آلودہ پانی پینے کے لئے مجبور ہیں۔علاقہ کے نوجوان سماجی کارکن آصف اقبال بٹ نے کہا کہ پانی کی کمی کے باعث جوڑا، ہلارن، ملانوں کنچہ ،ترہنکل ،ٹانٹا ،چبہ و دیگر مضافات میں رہائش پذیر آبادی کو پینے کے صاف پانی کی کمی کے باعث طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بہت دور سے پانی لانا پڑتا ہے اور محکمہ جل شکتی کی بے حسی سے عوام پریشان ہے۔ٹھاٹھری کے علاقہ فیگسو و ناندنہ سے محمد یعقوب و پرویز احمد نے کہا کہ پانی کی اسکیم ناکارہ ہوئی ہے اور متعدد بار محکمہ کے ملازمین سے فریاد کی لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔بابر احمد ایک مقامی شہری نے کہا کہ گاؤں کے لوگ ایک نزدیکی چشمہ سے پانی لاتے ہیں لیکن اس کے تحفظ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ چشمہ تباہ و آلودہ ہو چکا ہے۔انہوں نے حکام سے اس چشمہ کے تحفظ کو یقینی بنانے و گاؤں کے لئے نئی اسکیم قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تحصیل چلی پنگل کے متعدد دیہاتوں سے لوگوں نے پانی کی ناکارہ اسکیموں کی مرمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔