جموں //جموں وکشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجرا کو چیلنج کرتے ہوئے لداخ کی ایک وکیل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاہے ۔مذکورہ وکیل کاکہناہے کہ ریاست کی تقسیم کے بعد لداخ کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع کم ہوگئے ہیں اور خطے کے لوگوں کو جموں وکشمیر میں ملازمت اور تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ڈومیسائل سے محروم رکھاگیاہے جبکہ بیرونی ریاستوں کے ملازمین کو یہ اسناد جاری کی جارہی ہیں ۔ڈومیسائل کو چیلنج کرنیوالی وکیل نجم الہدیٰ نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ انہوں نے ایک عرضی سپریم کورٹ میں دائر کی ہے جس میں ڈومیسائل کے جاری عمل پر روک لگانے کی اپیل کی گئی ہے۔اپنی عرضی میں نجم الہدیٰ نے ایڈووکیٹ نشانت کھتری کے ہمراہ جموں وکشمیر سیول سروسز کے دفعات 3اے،5اے،6،7اور8کو چیلنج کیاہے ۔نجم الہدیٰ نے کہاکہ جموں وکشمیر سے دفعہ 370کے خاتمے کے بعدجموں وکشمیر یوٹی میں بھی تمام قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلہ نافذ ہوئے ہیں جیسے ان کا نفاذ ملک بھر میں ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے ڈومیسائل میں 100فیصد ریزرویشن کے معاملے کو چیلنج کیاہے کیونکہ سپریم کورٹ کے مطابق ریزرویشن 50فیصد سے زیادہ نہیں بڑھنی چاہئے ۔انہوں نے بتایاکہ سپریم کورٹ نے ان کی عرضی کو 15جولائی کو غور کیلئے فہرست میں رکھاہے ۔سپریم کورٹ جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ ملک کی مختلف ریاستوں کے ملازم ڈومیسائل کے اہل ہیں جبکہ لداخ کے ملازمین جنہوں نے کئی کئی سال تک جموں وکشمیر میں خدمات انجام دی ہیں ،کے علاوہ خطے کے طلاب یونین ٹیریٹری کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں ،کو نظرانداز کیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈومیسائل میں 100فیصد ریزرویشن سے انہیں جموں وکشمیر میں سرکاری شعبہ جات میں ملازمت میں درخواست سے محروم رکھاگیاہے ۔انہوں نے بتایاکہ ریاست کی تقسیم کے بعد لداخ کے ملازمین کو واپس بھیج دیاگیا اور لداخ کے بیروزگار نوجوانوں کو جموں وکشمیر میں روزگار سے محروم رکھاگیاہے ۔ان کاکہناتھاکہ لداخ میں روزگار کے مواقع کم ہیں جس کی وجہ سے مقامی نوجوان ذہنی پریشانی کاشکار ہیں ۔نجم الہدیٰ نے بتایاکہ لداخ میں ملازمت یونین پبلک سروس کمیشن کیلئے کھلی ہے اور ملک بھر سے کوئی بھی اس کیلئے درخواست دے سکتاہے ،ایسے میں مقامی نوجوان کیاکریں گے اورہ اپنے مستقبل کے تئیں فکر مند ہیں۔