ڈوبتے سفینوں کے ناخدا

اعلیٰ کے مقابلے میں ادنیٰ کو ترجیح دینے کی ہَوا دنیا میں ہمیشہ سے چلی آرہی ہے ۔انسان اُسی راہ پر چلنے میں سلامتی دیکھتا ہے جو قافلوں سے بھری ہو،جس کام کو اکثریت کررہی ہو، اس کے کرنے کے لئے صرف یہی نہیں کہ دل میں تحریک پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ چیز اس کے ایک اعلیٰ اور عمدہ کام ہونے کی ایک نہایت قوی دلیل بھی بن جاتی ہے۔تاریخ کے جس دور میں جس چیز کا بھی زور ہوا ہے، اس نے وبائے عام کی طرح ہر شخص کو کچھ نہ کچھ ضرور متاثر کیا ہے اور اس تاثر میں اول تو اس کی واقعی قدر وقیمت پر بہت کم لوگوں نے غور کیا ہے اور اگر کچھ لوگوں نے غور بھی کیا تو بالآخر انہیں بھی وقت کی عام بد مزاقی کے آگے سِپر ڈال دینی پڑی ۔
آنحضور صلی الہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے بگاڑ کی تاریخ اس طرح بیان فرمائی ہے کہ جب اُن کے اندر خرابیاں پھیلنی شروع ہوئیں تو ابتداء میں اُن کے علماء نے اُن کو روکنا چاہا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وقت کے رجحانِ عام کے آگے اُن کے لئے بند باندھنا مشکل ہے تو وہ خود بھی اس رجحان ِ عام کی رَو میں بہنے کے لئے تیار ہوئے ،جس کی سزا اُن کو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے بگڑے ہوئے لوگوں کے دلوں کی سیاہی اُن کے دلوں پر بھی تھوپ دی ۔اسلامی تاریخ پر غور کریں تو بالکل یہی صورت حال نظر آتی ہے ۔دورِ اول کو چھوڑ کر جس میں زندگی کے ہر شعبہ میں اعلیٰ اقدار کا احترام باقی رہا ،بعد کے ادوار کو دیکھ کر معلوم پڑتا ہے کہ جس دور میں جو چیز بھی ذہنوں اور دلوں پر چھا گئی، اُسی کا کلمہ سب پڑھنے لگے ،جس زمانے میں شعر و ادب کا زور ہوا ،سب اُسی رنگ میں مست نظر آنے لگے ۔جب یونانی علوم کی گرم بازاری ہوئی تو اُن کے آگے سارے علوم ہیچ ہوگئے ،یہاں تک کہ اُن کے اعزاز و احترام میں کتاب و سنت کی بساط بھی لپیٹ کر رکھ دی گئی ۔اسی طرح جب تصوف کا چرچا پھیلا تو کتاب و سنت کی تعبیریں بھی اُسی کی روشنی میں کی جانے لگیں ،گویا یہ اصل ہیں اور کتاب و سنت اس کی فرع ہیں۔دورِ حاضر کو دیکھیں تو مغربی علوم و فنون نے ہر شخص کو اس طرح محصور کرلیا ہے کہ کسی کو ہوش ہی نہیں کہ اُن کے سوا کوئی اور علم بھی ہے جس کو سیکھنے سکھانے کی ضرورت ہے اور زندگی میں اس کی بھی کوئی قدرو قیمت ہے۔حالانکہ ہر چیز میں حق و باظل کے درمیان امتیاز کی کسوٹی وہی ہے جس کو نظر انداز کردیا گیا ہے،اس کے بغیر یہ سارے علوم و فنون انسانیت کے حقیقی فائیدے کے نقطہ ٔ نگاہ سے ضرر رساں زیادہ اور مفید بہت کم رہ جاتے ہیںلیکن ہماری تاریخ میں بہت تھوڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے ،جنہوں نے اس ہمہ گیر فتنے کے اندر اپنے ذہنی توازن کوقائم رکھا اور جو نہ تو زمانے کا ساتھ دیتے ہوئے اتنے عاجز اور بے بس ہوئے کہ وقت کے سیلاب میں خس وخاشاک کی طرح بہہ جائیں اور نہ اتنے جامد ثابت ہوئے کہ سیلاب اُن کے اوپر سے گذر جائے اور وہ اپنی جگہ ہی پتھر کی طرح پرے رہ جائیں۔در حقیقت یہی گنتی کے لوگ ہیں جنہوں نے تمام طوفانوں اور تھپیڑوں کے اندر اُمت کے سفینے کی نا خدائیہ کی ہے اور اسے غرق ہونے سے بچالیا ہے۔اگر یہ نہ ہوتے تو ہمارے لئے آج یہ معلوم کرنا بھی مشکل ہوتا کہ ہماری تاریخ کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں جاکے ختم ہوئی ۔ہم صحرا میں ایک کھوئے ہوئے قافلے کے مانند ہوتے جسے پتہ نہیں کہ ٓائے کہاں سے ہیں اور جانا کہاں ہے۔
اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ پرستی کی تہہ میں یاتو شعور کی کمی نظر آئے گی یا ہمت کی۔جو لوگ وقت اور زندگی کی ناقدری کے سبب یہ روش اختیار کرلیتے ہیں اُن کے اندر شعور و بیداری کا فقدان ہے اور جو لوگ مشکلات اور ہمہ گیر بگاڑسے مرعوب ہوکر وبائے عام میں مرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اُن کے اند عزم و یقین ناپید ہے۔شعور کر بیدار رکھنے کے لئے سب سے زیادہ مفید چیز صالح لٹریچر کا مطالعہ اور ذی شعور لوگوں کی صحبت ہے۔انسان کو برابر ایسی چیزیں پڑھنے رہنا چاہئے جن میں زندگی کی حقیقتوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے ،جو دل کو بیدار کرنے والی اور کانوں اور آنکھوں کو کھولنے والی ہیں ،جو عقل کو جلا بخشتی ہیں اور روح کو گرماتی ہیں۔جن سے ایمان کو غذا ملتی ہے اور اس عالم ِ فانی کی جگہ عالمِ باقی کی محبت پیدا ہوتی ہے۔ایسی ساری چیزوں میں سب سے اونچا درجہ قرآن و سنت کا ہے ۔اُن کی ایک ایک سطر اور ایک ایک حرف کے اندر خالص حقیقت اور بالکل بے آمیز علم ہے۔اُن کے بعد ایسے حکیموں اور فلسفیوں کی چیزیں ہیں جنہوں نے فی الواقع زندگی کے مسائل پر غور کیا ہے اور اُس کے حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ان چیزوں کے اندر کچھ ملاوٹیں اور آمیزشیں بھی ہیں اور جگہ جگہ اُن میں فکر ِ انسانی کی غلطیاں پائی جاتی ہیں لیکن جو لوگ اُن کی قرآن حدیث کی روشنی میں پڑھتے ہیں، وہ نہایت آسانی سے اُن کے حق و باطل میں خود تمیز کرلیتے ہیں ۔اس میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں کہ جتنی بھی اعلیٰ قدریں ہیں ،وہ فطر ت کو محبوب ہونے کے باوجود جیساکہ عرض کیا گیا ہے مشقت طلب اور صبر آزما ہیں۔چناچہ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ان کے چاہنے والے ہمیشہ زیادہ ہیں لیکن عملاً اُن کے اختیار کرنے والے ہمیشہ تھوڑے ہی نکلے،ان کی خوبیوں اور برکتوںکے گُن تو بزدلوں اور پست ہمتوں نے بھی گائے لیکن اُن کے حاصل کرنے کے لئے جن قربانیوں کی ضرورت تھی اُن کے پیش کرنے والوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے۔اس صورت حال کی وضاحت اس راہ کی داعیوں نے ہمیشہ خود ہی کردی ہے تاکہ وہی لوگ اس میں قدم رکھیں جو اس کی مشکلات سے عہدہ برآہونے کے لئے اپنے اندر کچھ خم رکھتے ہوں،جو لوگ اس وادیٔ پُر خار کی صعوبتوں کا مقابلہ کرنے کا حاصلہ نہیں رکھتے، بہتر ہے کہ وہ اس کا رُخ نہ ہی کریں ،اسی حقیقت کو قرآن نے یوں بیان فرمایا ہے:
’’کیا لوگوں نے گمان کر رکھا ہے کہ وہ بس یہ کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور اُن کی جانچ نہیں ہوگی؟ حالانکہ ہم نے اُن کو جانچا جو اُن سے پہلے گذرے ،تو اللہ ضرور چھانٹے گا اُن لوگوں کو جنہوں نے سچ کہا اور اُن لوگوں کو جو جھوٹے ہیں‘‘۔(عنکبوت: ۳۰۲)
کوئی شخص اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ادنیٰ کے مقابلے میں اعلیٰ کی طلب کوئی آسان بازی ہے جس کو ہر شخص کھیل سکتا ہے۔بے شک اگر چاہنے کو کوئی چیز ہے تو یہی ہے ،کرنے کو کوئی کام ہے تو یہی ہے،کامیابی اور فلاح کی کوئی راہ ہے تو یہی ہے ،انسان کے شرف و عزت کے مطابق اور اس کے مرتبہ کے شایان شان کوئی چیز ہے تو بس یہی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اس راہ کے خطرات کا مقابلہ کرنا اور اس کی مشکلات سے عہدہ برآ ہونا ہر بوالہوس اور مدعی کا کام نہیں ہے،اس میں کامیابی اُن ہی لوگوں کو مل سکتی ہے جو ایک عاشق ِ صادق کا جنوں اور ایک مردِ مجاہد کا عزم و حو صلہ رکھتے ہوں۔اس صورت حال کو سمجھ لینا اس لئے ضروری ہے کہ آدمی جس کے لئے اُٹھے اگر اُس کے تقاضوں اور اُس کے نتائج سے پوری طرح باخبر ہو اور اپنے عزم و ارادہ کو اچھی طرح تول کے اٹھے تو مشکلات سے لڑنے اور اُن پر قابو پانے کی صلاحیت اُس کے اندر بہت بڑھ جاتی ہے لیکن اگر اس طرح کے معرکے کے لئے وہ بالکل انجان بن کر اٹھے تو پہلے ہی چوٹ میں اس کی ہمت جواب دے بیٹھتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ انسان کی صلاحیت اگر طاقتور ہو تو بسا اوقات وہ تاریکی سے بھی روشنی حاصل کرلیتا ہے اور راہ کی ٹھوکروں سے بھی اُسے راہنمائی مل جاتی ہے ،جو لوگ اپنے اندر اعلیٰ صلاحتیں رکھتے ہیں اُن سے توقع بعید نہیں ہے کہ وہ اُن جانبازوں سے راہِ حق کے لئے درس حاصل کریں جو آج باطل کے علمبردار باطل کو سر بلند کرنے کے لئے دکھا رہے ہیں۔
آخری چیز جو اس مقصد کے لئے اکسیر کا حکم رکھتی ہے وہ بندے کا اللہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔اگر دل کا سفینہ اس لنگر کے ساتھ بندھا ہوا ہو تو خواہ کیسی ہی مخالف ہوائیں چلیںاور کتی ہی خطرنا ک موجیں اٹھیں لیکن کشتی ہچکولے کھاکر بھی سلامت رہتی ہے اور طوفانوں کے اندر سے گذرتی ہوئی ساحل ِ مراد پر پہنچ جاتی ہے۔راہنما غلطی کرسکتے ہیں ،رفیق ساتھ چھوڑ سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کبھی اُن لوگوں کو نہیں چھوڑتا جو ہر حال اور ہر صورت میں اللہ کو پکڑے رہنا چاہتے ہیں ۔خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ میری راہ پر چلنا چاہتے ہیں اور اس راہ کی دشواریوں میں ثابت قدم رہنا چاہتے ہیں اُن کو یہ چیز اُسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے جب وہ میرے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط اور استوار رکھیں اور میری یاد سے کبھی غافل نہ ہوں۔
احمد نگر سرینگر۔9697334305