سرینگر //جموں و کشمیر میں ڈرگس اینڈکاسمٹکس ایکٹ 2013لاگو ہونے کے ساتھ ہی محکمہ ناپ تول نے غیر قانونی منافع خوری کرنے والے نجی کلنک مالکان اور طبی آلات بنانے والی کمپنیوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا ہے اور کئی کمپنیوں کو اضافی قیمتیں چھاپنے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ محکمہ ناپ تول کے جوائنٹ کنٹرولر تنویر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ،’’ آنکھوں، ہڈیوں کے جوڑنے اور دیگرجراحیوں میں استعمال ہونے والے آلات پہلے ہمارے دائرے اختیار میں نہیں آتے تھے، بلکہ محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ کنٹرول ادویات کے معیار، قیمتوں، لیبل پر نظر رکھے ہوئے تھا لیکن ڈرگ اینڈ کاسمٹکس ایکٹ 2013نافذ ہونے کے بعد طبی آلات بھی محکمہ ناپ تول کے دائرے میں آگئے اور اب ہم منافع خوری کرنے والی کمپنیوں خلاف کاروائی کرنے کااختیار رکھتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ کسی بھی قسم کی ادویات کیلئے نیشنل فارمیسوٹیکل پرائزنگ ایجنسی نے منافع کی شرح صرف 10فیصد رکھی ہے جبکہ کینسر مریضوں کے علاج میں استعمال آنے والے 42ادویات کیلئے منافع کی شرح 30فیصد رکھی گئی ہے لیکن طبی آلات کیلئے منافع کی شرح طے نہیں ہے‘‘۔جوائنٹ کنٹرولر نے کہا ’’ اس کا فائدہ اٹھاکر نجی اسپتالوں اور کلنکوں کے مالکان، مریضوں میں استعمال ہونے والے آلات میں 100سے لیکر1500فیصد تک منافع کماتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’ جب ہم نے مختلف کمپنیوں کے نمائندوں سے بات کی، تو انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ نجی اسپتالوں کیلئے طبی آلات پر الگ قیمتیں چھاپی جاتی ہیں‘‘۔تنویر احمد نے کہا’’ کئی کمپنیوں پر جرمانہ بھی عاید کیا گیا ہے اور قیمتوں کو اعتدال پر کھنے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اعلیٰ درجہ کے Orthopedicle Screwکی نجی اسپتالوں اور کلنکوں کے منافع اور جی ایس ٹی بڑھاکر صرف 1260 روپے ہیں جبکہ نجی اسپتالوں میں اس کی قیمت 8,888روپے ہے اور اسطرح نجی اسپتال مالکان اس میں605فیصد اضافی منافع کماتے ہیں۔بیرون ممالک سے آنے والے Acrio EC Tric lenseکی قیمت منافع اور جی ایس ٹی سمیت 6,606ہے لیکن نجی اسپتال مالکان202.8فیصد منافع سمیت مریضوں کو یہ لینس 20ہزار روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ ڈرپ سیٹ کی قیمت منافع اور جی ایس ٹی سمیت 12روپے ہیں جبکہ نجی اسپتالوں میں یہ مریضوں کو 115روپے دیا جاتاہے۔ ذرائع نے بتایا کہ(cathyle) Anjo Cathکی قیمت سب جوڑ کر 12روپے بنتی ہے اور یہ بازار میں صرف 12روپے میں ہی دستیاب ہے لیکن نجی اسپتالوں میں اس کیلئے 133روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ معیاری یورین بیگ(Urine bag) کی قیمت 25روپے ہیں لیکن نجی اسپتالوں کیلئے 150روپے چھاپی جاتی ہے اور اسطرح بیگ میں 500فیصد اضافی منافع کمایا جاتا ہے ۔اطلاعات کے مطابق Nasal Progکی قیمت 14روپے ہیں اور یہ بازار میں بھی اسی قیمت پر دستیاب ہے لیکن جب یہ نجی اسپتالوںکو سپلائی کی جاتی ہے، وہاں مریضوں کو اس کیلئے 160روپے ادا کرنے پڑتے ہیںاور اسطرح نجی اسپتال اس میں 1042فیصد اضافی منافع کماتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق Orthopedic Casting Tapeکی قیمت منافع اور جی ایس ٹی سمیت 232روپے ہیں لیکن نجی اسپتالوں میں علاج کیلئے آنے والے مریضوں کیلئے اس کی قیمت 1150روپے چھپائی جاتی ہے اور اس طرح نجی کمپنی مالکان یہاں 395فیصد منافع کماتے ہیں۔