نیوز ڈیسک
جموں// پولیس نے جموں میں ڈرون سے گرائے گئے ہتھیاروں کی کھیپ ضبط کر کے 2افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ 27 اور 28 اکتوبر کے درمیان باسپور بنگلہ آر ایس پورہ کے جنرل ائریا میں ایک ڈرون کی مشتبہ نقل و حرکت دیکھی گئی۔ چونکہ یہ علاقہ خاردار کے قریب ہے، اس لیے تمام پولیس اسٹیشنوں کے ساتھ معلومات شیئر کی گئیں اور ایک افسر کی قیادت والی ٹیم اور ٹیکنیکل سرویلنس یونٹ کو کام پر لگا دیا گیا۔ اس وقت کے آس پاس پولیس چیک پوائنٹس سے گزرنے والی تمام گاڑیوں کی چھان بین کی گئی۔ اس جگہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور علاقے کی طرف جانے والی سڑکوں کو اچھی طرح چیک کیا گیا۔ فزیکل پیٹرن اور تکنیکی تجزیہ کا اچھی طرح سے تعاقب کیا گیا۔مذکورہ تجزیے کی بنیاد پر آر ایس پورہ کی پولیس ٹیم نے چند مشتبہ افراد کو اٹھایا، جن سے سرحدی پٹی میں ان کی نقل و حرکت کے بارے میں مسلسل پوچھ گچھ کی گئی، خاص طور پر اس وقت جب ڈرون کی نقل و حرکت کی اطلاع ملی تھی۔مشتبہ افراد کو پکڑنے کے دوران، جموں پولیس چندر بوس ولد واسدیو ساکن ڈوڈا نامی مشتبہ افراد میں سے ایک کو پکڑنے میں کامیاب رہی۔ وہ اس مخصوص وقت اور تاریخ پر سرحد کی طرف اپنی نقل و حرکت کے حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ جب اس سے مسلسل پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے اعتراف کیا کہ اس نے مذکورہ علاقے کا دورہ کیا تھا، تاکہ ڈرون کے ذریعے گرائے گئے ہتھیاروں کی کھیپ حاصل کی جا سکے۔ اس نے مزید انکشاف کیا کہ وہ شمشیر سنگھ ولد پریم سنگھ ساکن کیمپ گول گجرال جموں کے کہنے پر کام کر رہا تھا۔ دونوں ایک اپر گرائونڈ ورکر بلوندر ساکن جموں (اب یورپ میں آباد ہیں) کے رابطے میں تھے۔ تمام گرفتار افراد اور او جی ڈبلیو ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بلویندر ہندوستان میں دونوں ملزمان اور پاکستان میں کھیپ کے ہینڈلرز کے ساتھ تال میل کر رہا تھا۔انکے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر/2022 196 رجسٹر کیا گیا اور ان کی نشاندہی پر پستول4،میگزین8، پی/راؤنڈز 47 بر آمد کئے گئے۔ادھرضلع سانبہ کے رام گڑھ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر تعینات سیکورٹی فورسز نے ایک پاکستانی ڈورن کو اڑتے ہوئے دیکھنے کے بعد اتوار کی صبح علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا۔ رات کی تاریکی میں پاکستانی ڈورن کو کئی منٹوں تک ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھا گیاجس کے بعد وہ پاکستان کی طرف واپس چلا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے پیر کی علی الصبح علاقے میں سرچ آپریشن کیا تاہم فی الوقت سیکورٹی فورسز کو کوئی بھی شئی ہاتھ نہیں آئی ہے۔