( ’’ابرتر‘‘ سے لے کر’’ہجوم آیئنہ‘‘ تک)
ریاست جموں وکشمیر کو ہندستان کی دیگر ریاستوں کے برعکس یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں اردو زبان کو سرکاری زبان ہونے کا درجہ ہے اسی مناسبت سے یہاں ایسے افراد کی کمی نہیں جنہوں نے اردو زبان کو اپنے تخلیقی اظہار کا دسیلہ بنایا ۔اس ریاست سے کئی ایسے شعر وادب کے پرستار اور متوالے اٹھے ہیں جن کی شہرت کا ڈنکا بر صغیر کے ادبی حلقوں میں ان کے زمانے میں ہی بجنے لگا۔شعر وادب کے ان پرستاروں میں ایک نام ڈاکٹر فرید پربتی ؔکا بھی ہے ۔فرید پربتیؔ نے اردوشاعری کا باقاعدہ آغاز1980 میں کیا۔آب تک اردو میں ان کے اٹھ شعری
مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔جن میں’’ابر تر1987 ‘‘، ’’آب نیساں1992 ‘‘ ،’’اثبات1997 ‘‘ ، ’’فریدنامہ2003 ‘‘ ، ’’گفتگو چاند سے2005 ‘‘، ’’ہزار امکاں2006 ‘‘،’’خبر تحیر2008 ‘‘ اور ’’ہجوم آینئہ2010 ‘‘اردو دنیا میں متعارف ہوچکے ہیں۔
ان کے یہ تمام تر مجموعے کئی حوالوں سے اردو کی شعری دنیا میں گرا قدر سرمایے کی حیثیت رکھتا ہیں، جس طرح ان کے شعری مجموعوں کے نام تازے اور نئے ہیں اسی طرح ان کے اندر بسی شعری دنیا تازہ ،ان دیکھی اور نامانوس ہے۔فرید پربتیؔکا شعری سفر تجربات کے اعلی اظہار،لفظ معنی اور ہیت وموضوع کے مناسب استعمال سے ایک جہاںتازہ کا سفر ہے جسکی تخلیق کرتے وقت شاعر اپنی آویز شوں پر فنکارنہ شعور سے غالب آجاتے ہیں۔زبان وبیان کی تراشید گی اور تخیل کی تزئین کاری میں وہ ہمیشہ جدت کاری سے کام لیتے ہیں۔
فرید پربتی ؔنے جب شاعری کا آغاز کیا تو اردو میں جدیدیت کی مانگ ستاروں سے مز ین تھی۔انفرادیتindividualsim کا تحفظ اس رجحان کا اہم مقصد تھا اور اس کا طریق کار ترقی پسند ی اور روایت سے انحراف کرکے ایک نئی شعری صورت حال کی تشکیل قرار پایا گیا تھا۔ چناچہ جدیدیت کا انفرادیت پسند رجحان جماعتی شاعری کا موجب بن گیا۔آج جب کہ اردو کی جدید شاعری کا بیشتر حصہ تقلید کی وجہ سے یکسانیت کی فضا کا احساس دلاتا ہے۔ اس کے بر عکس فرید پربتیؔ کی شاعری اپنی ایک الگ شناحت قائم کرچکی ہے۔ان کی شاعری میں الگ رنگ و آہنگ ہے جس کی وجہ سے وہ اردو کے جدید شعراء کی صنف میں آگے نظر آتے ہے۔
تاریک منظر کو بدلتا ہوں اکیلا
مرقد کا دیا بن کے بن کے میں چلتا ہوں اکیلا
مانا کہ میرے پائوں لہو رنگ ہوئے ہیں
حالات کے کانٹوں کو مسلتا ہوں اکیلا
فرید پربتی ؔکی شعری کائنات کا سفر کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے حالات کی تعبیر اور اس کی تر جمانی کے لئے جن استعاروں اور تشبیہات کا استعمال کیا ہے ،ان میں کثیر العلمیت پورے طور نمایاں ہے۔انہوں نے اپنے وقت کے اعتبار سے جو شعری اساسہ چھوڑا ہےوہ جدید شاعری کا عمدہ نمونہ ہے۔انہوں نے اپنے شعری بیان کو تبصرے کی شکل نہیں دی بلکہ اپنی حسیات اور اس سے منسلک شعری تقاضوں سے معاشرتی رشتوں کو ظاہر کرنے کی ضمن میں اپنی مخصوص شعری بصیرت کو بھی ماضی قدروں کے طور پر اور کبھی حال کی ذہنی الجھنوں کے طور پر برتا ہے۔چند اشعار ؎
کار دنیا میں نہ کھو جائیں یہ سب ڈر نکلے
ہم تیری یاد کو سینے سے لگا کر نکلے
خواب میں سارے نئے آنکھ پرانی میری
ہے تضادات سے بھر پور کہانی میری
فرید پربتیؔ نے اپنی شاعری میں زبان اور وقت کے تصور کو منسلک کرنے کیلئے عام بول چال کے الفاظ پر بھی نظر کی ہے۔انہوں نے روایتی آہنگ کوآگے بڑھاتے ہوئے اس کے فطری جدید تقاضوں کو سنجید گی کے ساتھ اپنے اشعار کا حصہ بنایا ہے۔ان کا شعری عقیدہ مذہب کے کسی فلسفے سے نہیں ٹکراتا بلکہ خالص ادبی خیال اور اگر ان میں مثبت مذہبی پہلوں کا کوئی عنصر شامل ہوجائے تو وہ شعری حسن کو دوبالا کردیتا ہے۔ ؎
سمع کہنا، بصیر کہنا، علیم ، حکیم کہنا
وہ اپنی عظمت سے خود ہے واقف اسے تو رب عظیم کہنا
فرید پربتی ؔ نے اپنے تجربات میں نئی ذہنی رو کو عام کیا ہے جو بدلتے حالات اور اس کی تشریح وتعبیر سے وجود میں آتی ہے نیز فرید پربتیؔنے اپنے شاعرانہ خیالات میں جو سیاسی،سماجی،مذہبی،تاریخی اور فلسفیانہ عناصر شامل کیے ہیں وہ دراصل جدید ماحول کے خاص اور عام دونوںکے طبقوں کے محسوسات ہیں۔انہوں نے موجودہ زندگی اور معاشرے کے مختلف اور متضاد پہلوئوں میں مماثلت تلاش کرتے ہوئے مختلف جدبات میں وحدت قائم کرنے کی جو کوشش کی ہے وہ صحت اور سادگی کے ساتھ اپنی مختلف صورتوں میں نمایاں ہوتے ہیں۔زندگی کی پستی کے بنیادی عناصر میں خلوص اور دیانت کی جس کمی کا ذکر ہوتا ہے،تخلیق کار اس کی شدت کو حددرجہ محسوس کرتا ہے۔اس تعلق سے سلسلہ خیالات کا ہجوم بعض اوقات اسے تنہائی سے بھی دوچار کرتا ہے۔اور اس کی تنہائی کا عکس سلسلہ خیالات میں مزید ایک خیال کا اضافہ کرکے
شعری کائنات کو مزید وسعت دیتا ہے۔فرید پربتیؔ نے اپنے باطن کی پیچید گیوں کو جوکہ بیش تر سماجی گرو بندی اور مذہب وروایت سے ان کے کمزور ہوتے رشتوں کی عطا کردہ ہیں۔اپنے اشعار میں اس طرح بیان کی ہے کہ گردو پیش کی دنیا کا آینئہ بھی محسوس ہوتی ہے۔ ؎
دنیا نئے سانچے میں ڈھل جائے گی
ہاں فطرت آدم بھی سنبھل جائے گی
حالات بدل جائیں گے پھر اس کے بعد
اس ظلم کی بنیاد بدل جائے گی
فرید پربتی ؔ نے اپنے معاشرے کی حقیقتوں کو اس قدر صفائی سے پیش کیا ہے کہ مایوسی کی وہ فضا جس سے کہ آج تقریبا ہر دوسرا افراد دو چار ہےکو شکست وریخت کی اس دیانت کے ساتھ پیش کیا ہے جو سنجیدہ گی اور ہوش مندی کا تقاضا کرتی ہے۔وہ زندگی کے اس نظام اخلاق پر تشوش کا اظہار کرتے ہیں۔ ؎
سانس لینا عذاب ہے با با
لمحہ لمحہ خراب ہے با با
پھر وہی مرحلہ ہے پیش نظر
پھر وہی اضطرب ہے با با
وہ کریدے ہے راکھ چولہے کی
اور نگاہوں میں خواب ہے بابا
فرید پربتیؔ کی شعری کائنات اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ شاعر کا تعلق اردو کے حوالے سے پھول اور حوشبو جیسا ہے۔ان کی شعری دنیا اَن دیکھی اور نئی ہونے کے ساتھ ساتھ محسورکن بھی ہے۔ان کا تمام کلام قارئین سے قلب وذہن کی بیداری اور بھر پور واقفیت کا تقاضا کرتا ہے۔
اس پورے شعری سفر نامے میں قاری کو ہر کام پر قلب ونظر کی صفائی اور فکر وخبرکی وسعت کے ثبوت فراہم کرنے پڑتے ہیں۔تب کہیں جاکر اسے انسانی جبلتوں اور قوتوں کیلئے سکون وراحت کا سامان میسر آتا ہے۔بقول پروفیسر قاضی عبیدالرحمن ہاشمی: ’’فرید پربتیؔہمارے ان شاعروں میں ہیں جو شعری روایت سے نہ صرف واقفیت رکھتے ہیں بلکہ وہ ہماری کلاسکیی شاعری اور اس کی بوطیقا سے حسب توفیق استفادہ بھی کرتے ہیں۔ان کے ہاں نہ سراسرروایت پرستی ہے نہ روایت سے گزیدگی۔شعری روایت کے شعور نے ان کی شعری ادراک کو زیادہ سے زیادہ نکھانے اور سنوارنے کا فریضہ انجام دیاہے جمالیاتی شعری روایت سے آگہی کے ساتھ انہوں نے اپنی فطرت کے عین مطابق ملک کے عام تہذیبی ،روحانی اور انسانی روایت واقدار کا بھی گہرا عرفان حاصل کیا ہے۔‘‘ (اثبات۔۔ص۔۔14 )
الغرض فرید پربتیؔآج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں،لیکن اپنے اشعارکے تو سط سے اہل ادب کے دلوں میں موجودہیں۔انہوں نے اپنے تخلیقی شہہ پاروں سے اردو ادب کے تاج محل کو مزید روشنی بخشی ہے نیز ان کا شعری اثاثہ ہماری رہنمائی کرتا ہیں اور کرتا رہیں گا۔
آنے والی نسلیں ہم کو بھول سکیں ناممکن ہے
نقش قدم کے مٹتے مٹتے راہ گزر بن جائیں گے
رابطہ؛کشمیر یونیورسٹی،،ربطہ نمبر:9697330636