ڈاکٹر رتن بھٹاچارجی
ڈاکٹر رفیق مسعودی معاصر ہندوستانی ادب میں ایک منفرد اور ممتاز آواز کے طور پر ابھرتے ہیں، جس کی تشکیل کشمیر کی تہذیبی یادداشت سے ہوئی ہے، مگر جس کی جڑیں ہندوستانی اور عالمی انسان دوستی کی وسیع فکری روایت میں گہری پیوست ہیں۔ انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور ’پرائیڈ آف انڈیا‘ ،جموں کشمیر سٹیٹ ایوارڈ،سا ماپا ایوارڈ اوروحال ہی میں راجدھانی میں جے پی انٹرنیشنل اور ادبی مرکز کامراز کے شرف کامراز اعزاز سے نوازا جانا محض ایک ادارہ جاتی اعتراف نہیں، بلکہ ایک ایسے مسلسل ادبی سفر کی توثیق ہے جس میں جمالیات، اخلاقیات اور سماجی شعور ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ڈاکٹر مسعودی کی ادبی اہمیت کو سمجھنے کیلئے صرف ان کی سوانح پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان کی شاعری، مضامین، نوجوان زہنون کو آگے بڑھانے اور فکری نثر کی بافت میں اترنا ضروری ہے، جہاں ادب انسانی زندگی کا محض شاہد نہیں بلکہ اس میں مداخلت کرنے والی ایک فعال قوت بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر مسعودی کی ادبی کائنات کے مرکز میں کشمیر موجود ہے، مگر وہ کشمیر کو نہ کسی سیاسی تجرید کے طور پر پیش کرتے ہیں اور نہ ہی اسے محض ایک رومانوی جنت یا تنازعے کی سرزمین بنا کر دکھاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں کشمیر ایک زندہ، محسوس اور تہذیبی منظرنامہ ہے، جہاں یادداشت، محرومی، استقامت اور حسن ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ یہی متوازن پیش کش معاصر کشمیری ادب میں ایک اہم فکری مداخلت کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اس ادب میں اکثر یا تو ماضی کی یادوں کا غلبہ دکھائی دیتا ہے یا پھر صرف المیے کا بیانیہ۔ اس کے برعکس مسعودی کشمیر کو ایک’’محسوس تہذیب‘‘ کے طور پر رقم کرتے ہیں، جہاں دریا، باغات، پہاڑ اور گلیاں بھی اپنی اخلاقی اور جذباتی تاریخ رکھتی ہیں۔ ان کی نثری نظمیں بار بار یہ احساس دلاتی ہے کہ جغرافیہ محض خاموش پس منظر نہیں ہوتا، بلکہ وہ یاد رکھتا ہے، بولتا ہے اور شناخت کی تشکیل میں شریک رہتا ہے۔
ان کے ادبی اسلوب کی ایک نمایاں خصوصیت انسان مرکز بیانیہ ہے۔ خواہ شاعری ہو یا مضمون، وہ ہمیشہ عام انسانوں،اساتذہ، بچوں، کسانوں، ہنرمندوں اور طلبہ،کو اپنی تحریروں کا محور بناتے ہیں۔ انہی کی زندگیاں وسیع تر انسانی حقیقتوں کی علامت بن جاتی ہیں۔ان کی زبان بظاہر سادہ اور قابلِ فہم ہے، مگر اس سادگی کے اندر فکری گہرائی پوشیدہ ہے۔ یہی دوہرا وصف ان کے ادب کو ایک ساتھ دو سطحوں پر مو ثر بناتا ہے۔ پہلی سطح پر وہ قاری کو جذباتی طور پر اپنی گرفت میں لیتا ہے، جبکہ دوسری سطح پر اخلاقی اور فکری غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ان تجرباتی ادیبوں کے برعکس، جو لسانی پیچیدگی کو وضاحت پر ترجیح دیتے ہیں، ڈاکٹر مسعودی ابلاغ کی گہرائی کو اہمیت دیتے ہیں تاکہ ادب معاشرے کی پہنچ سے دور نہ ہو۔ ان کی یہ سادگی دراصل سادہ بیانی نہیں بلکہ ایک شعوری ادبی حکمت عملی ہے، جو اس یقین پر مبنی ہے کہ ادب کا اصل منصب معاشرے کی خدمت ہے، نہ کہ خود کو جمالیاتی اشرافیہ تک محدود کر لینا۔ان کی شاعری خاموش مگر مستقل اخلاقی تخیل کی حامل ہے۔ یہ بڑے استعاروں یا ڈرامائی انقلابات کی شاعری نہیں بلکہ غور و فکر، ضبط اور باطنی مکالمے کی شاعری ہے۔ ان کی نظموں کی جذباتی تاثیر اکثر خاموشی، اشارے اور اختصار سے جنم لیتی ہے، جس کے باعث ان کی شاعری میں ایک مراقبہ نما کیفیت پیدا ہوتی ہے اور قاری کو معنی کی تشکیل میں شریک ہونے کا موقع ملتا ہے نہ کہ اسے تیار شدہ تعبیرات پیش کی جاتی ہیں۔
ان کی شاعری میں بے وطنی، بچپن کی معصومیت، اخلاقی ذمہ داری اور ماحولیاتی شعور جیسے موضوعات بار بار مگر نہایت لطیف انداز میں سامنے آتے ہیں۔ ان کی متعدد نظموں میں فطرت صرف ایک استعارہ نہیں بلکہ اخلاقی رہنما کے طور پر جلوہ گر ہوتی ہے، گویا انسانی انتشار کا علاج فطرت سے دوبارہ تعلق استوار کرنے میں پوشیدہ ہے۔ڈاکٹر مسعودی کی ادبی خدمات کا ایک نہایت اہم پہلو تعلیم سے ان کی فکری وابستگی ہے۔ ان کے مختلف ادبی تراجم اور فکری تحریریں تعلیم کو محض ایک ادارہ جاتی سرگرمی نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی تبدیلی کا بنیادی ذریعہ قرار دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک درس گاہ صرف معلومات فراہم کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ہمدردی، تنقیدی شعور اور اخلاقی بصیرت کی تجربہ گاہ ہے۔وہ رٹنے پر مبنی نظامِ تعلیم اور میکانکی تدریس پر تنقید کرتے ہوئے ایسے تعلیمی نظام کی وکالت کرتے ہیں جو تجسس، تخلیقی صلاحیت اور اخلاقی شعور پر استوار ہو۔ یہی فکری مو قف انہیں ا ن ہندوستانی ادیبوں اور روایت کے بغاوت کی روایت سے جوڑتا ہے جو ادب اور تعلیم کو ایک دوسرے کی تکمیل سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر رفیق مسعودی کے بچوں اور ہونہار زہنون کے لئے کام پر جسکی وجہ سے جتنے بھی ہم عصر فنکار،ادیب ،سازنواز،مصور اور منتظم کی احیاء نہ پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے، کیونکہ یہ ان کی تخلیقی شخصیت کے نہایت حساس،منفرد نگاہ و بصیرت اور اختراعی پہلو کی نمائندگی کرتا ہے۔ نوجوان زہنون کی راہنمائی، تخیل اور اخلاقی بصیرت کے درمیان ایک نازک توازن کا تقاضا کرنا ڈاکٹر رفیق مسعودی کی مجموعی اور ہمہ جہت و وقت شخصیت کے پہلو ہیں اور مسعودی اس سب میں توازن اس مہارت سے قائم رکھتے ہیں کہ ان کی نگارشات ایک ساتھ دل کش بھی ہیں اور سبق آموز بھی، مگر کبھی وعظ یا نصیحت کا رنگ اختیار نہیں کرتیں۔ان کی تحریروں میں مختلف کردار محض ہدایات پر عمل کرنے والے انفاس نہیں بلکہ دنیا کو تجسس کی نگاہ سے دیکھنے والے ایسے مشاہد ہوتے ہیں جو تجربات کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں داخلی دنیا کو پوری سنجیدگی اور احترام کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جو اس ادبی روایت میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں اکثر مضمون کی آواز کو یا تو حد سے زیادہ سادہ بنا دیا جاتا ہے یا مثالی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔جن میں مہربانی، تعاون، دیانت داری اور ماحولیاتی ذمہ داری جیسی اخلاقی قدریں کہانی کے واقعات میں اس فطری انداز سے پیوست ہوتی ہیں کہ وہ باہر سے مسلط محسوس نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر فطرت سے ایک سادہ ملاقات یا کسی سماجی تعامل کو وہ اخلاقی دریافت کے ایک موقع میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ بیانیہ تکنیک ان کے اس یقین کی عکاس ہے کہ اخلاقیات تجریدی نصیحت سے نہیں بلکہ عملی تجربے سے سیکھی جاتی ہیں۔ اس اعتبار سے ان کا ادب نہ صرف ایک تخلیقی کارنامہ ہے بلکہ عصرِ حاضر کے ہندوستان میں اقدار پر مبنی تعلیم کا ایک مو ثر تدریسی وسیلہ بھی بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر مسعودی کے کام کا ایک اور اہم پہلو تنازع اور مفاہمت کے موضوع سے ان کی وابستگی ہے۔ کشمیر سے لکھنے کا مطلب لازماً تشدد، غیر یقینی کیفیت اور سماجی انتشار کی تاریخوں کا سامنا کرنا ہے، لیکن مسعودی اپنے ادب کو صرف تنازع کے بیانیے تک محدود نہیں ہونے دیتے۔ وہ تصادم کو انسانی وقار اور اجتماعی شفا کے زاویے سے نئے معنی دیتے ہیں۔ان کے مضامین میں مکالمے، بقائے باہمی اور مشترکہ مستقبل کے امکانات پر مسلسل زور دیا گیا ہے۔ ان کے نقط نظر کی سب سے نمایاں خصوصیت نظریاتی سخت گیری کا فقدان ہے۔ وہ کسی جماعتی یا متعصب بیانیے کے بجائے امن کی اخلاقی ضرورت کو مرکز بناتے ہیں۔ یہی وصف انہیں اس انسان دوست ادبی روایت میں جگہ دیتا ہے جو تقسیم کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دیتی ہے۔ڈاکٹر رفیق مسعودی کی فلاحی خدمات ان کی ادبی شناخت سے الگ نہیں بلکہ اس کا فطری تسلسل ہیں۔ درحقیقت ان کی عوامی زندگی کی اہمیت اس بات میں ہے کہ وہ صرف ہمدردی، تعلیم اور انسانی وقار پر قلم نہیں اٹھاتے بلکہ ان اقدار کو اپنی عملی زندگی میں بھی بروئے کار لاتے ہیں۔ان کی فلاحی سرگرمیاں وقتی خیرات نہیں بلکہ ایک مسلسل اخلاقی منصوبہ ہیں، جس کی بنیاد اس یقین پر ہے کہ ادب اور سماجی ذمہ داری کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔ ان کے فلاحی ویژن کا مرکز تعلیم ہے، جسے وہ ایک بنیادی انسانی حق سمجھتے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں سماجی اور معاشی مشکلات نے تعلیم تک رسائی کو متاثر کیا ہے۔
ان کی کوششوں کا محور اکثر ایسے طلبہ رہے ہیں جو محروم معاشی پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ رہنمائی، سرپرستی اور غیر رسمی تعاون کے ذریعے ان کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دیتے رہے ہیں۔ ادارہ جاتی ڈھانچوں تک محدود رہنے کے بجائے انہوں نے زیادہ ذاتی، حساس اور فوری نوعیت کا طریقہ کار اختیار کیا، جس میں ہر فرد کی ضرورت کو الگ پہچان کر اس کا مناسب جواب دیا جاتا ہے۔ان کی زندگی میں فلاحی خدمات ادب سے جدا نہیں بلکہ اس میں گہری پیوست ہیں۔ ان کا ادبی نظریہ اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ تحریر کو عمل میں ڈھلنا چاہیے۔ یہی فلسفہ تعلیمی سرگرمیوں اور سماجی ترقی کے لیے ان کی وابستگی میں نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ ان ادیبوں کی روایت کے نمائندہ ہیں جن کے نزدیک سماجی ذمہ داری تخلیقی عمل کا اضافی حصہ نہیں بلکہ اس کی بنیادی شرط ہے۔ان کے فکری تصور میں وہ ادب جو انسان کی بہتری میں کوئی کردار ادا نہ کرے، اپنی تکمیل کو نہیں پہنچتا۔(جاری)
(مضمون کا باقی حصہ اگلی سنیچر کے شمارے میں شائع ہوگا)
( مضمون نگار،بین الاقوامی ڈکنز گولڈ میڈل یافتہ، افسانہ نگار، شاعر اور کثیر لسانی ادیب، ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی، رچمنڈ سے وابستہ رہ چکے ہیں۔اصل انگریزی سے ترجمہ)