سرینگر //گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں ڈاکٹر امین تابش کی دو کتابوں’’Text book of Hospital planning and management‘‘ اور علم تہ عرفان، میوزک سی ڈی (سکون دلُک)اور(میوٹھ زہر) کی رسم اجرائی انجام دی گئی۔اس سلسلے میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد ، پروفیسرمشتاق صدیقی(سابق وائس چانسلراسلامک یونیورسٹی)،پرنسپل میڈیکل کالج سرینگر ڈاکٹر سامیہ رشید ،ڈین سکمز ڈاکٹر عمر جاوید شاہ، میڈیکل سپر انٹنڈنٹ سکمز ڈاکٹر فاروق احمد جان، چیف میڈیکل افسر بڈگام ڈاکٹر تجمل حسین کے علاوہ صحت و طبی تعلیم کے تدریسی عملہ، ادیبوں ، شاعروں اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر طلعت احمد نے بتایا کہ مصنف ڈاکٹر امین تابش نے نہ صرف شعبہ طب میں خدمات انجام دی ہیں بلکہ انہوں نے جوانی کے دنوں سے ہی کشمیری، اردو اور انگریزی زبان میں لکھنا شروع کیا تھا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر امین تابش نے نہ صرف گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر سے تعلیم حاصل کی اور طبی شعبہ میں بہترین خدمات انجام دی بلکہ انہوں نے بیرون ممالک میں بھی اپنی خدمات انجام دے کر جموں و کشمیر کا نام روشن کیا ہے‘‘۔تقریب میں بطور مہمان ذی وقار شریک اسلامک یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسرمشتاق صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر امین تابش خود ایک تحریک ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر امین تابش کی شعبہ صحت میں خدمات سے سب واقف ہیںاور وہ صرف ایک سائنسدان ہی نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجے کے ادیب بھی ہیں۔ پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر ڈاکٹر سامیہ رشید نے کہا کہ ڈاکٹر تابش امین نہ صرف 2درجن سے زائد کتابوںکے مصنف ہیں بلکہ ان کے نام سے ملکی اور بین الاقوامی جریدوں میں48سے زائد مقالات شائع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ طب میں ان کی بے لوث خدمات کیلئے انہیں 16مرتبہ بین الاقوامی، ملکی اور ریاستی سطح کے انعامات سے نوزا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر امین تابش نے بتایا’’ کشمیر زبان ہماری پہنچان ہے‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ اس زبان سے ہماری جذباتی وابستگی ہے اور اسے آگے بڑھانا ہماری ذمہ دار ہے‘‘۔شعبہ صحت کی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر تابش نے کہا ’’ صحت بنیادی ضرورت ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر ایک شہری کو اعلیٰ، معیاری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کریں ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تبدیلی آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں جدیدیت کی وجہ سے شعبہ صحت بھی ترقی کررہا ہے لیکن شعبہ صحت کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر تابش نے کہا کہ بھارت میں جی ڈی بی کا 1.2فیصد بجٹ صحت پر خرچ کیا جاتا ہے اور لوگ نجی طبی اداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او پی ڈی میں آنے والے 78.6فیصد اور اسپتال میں داخل ہونے والے 60فیصد مریض علاج و معالجہ کیلئے نجی طبی اداروں پر منحصر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شعبہ صحت اس وقت تین طرح کی پریشانیوں میں مبتلا ہے جن میں وبائی بیماریاں، طرز زندگی میں تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں اور ٹراما اور زخمی ہونے والے افراد کی بھاری تعداد شامل ہے۔ڈاکٹر تابش کے مطابق جدید سہولیات کی دستیابی ، سائنسی تعلیم اور دیگر چیزیں ڈاکٹروں کو فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر شوکت حسین نے شکریہ کی تحریک پیش کی ۔واضح رہے کہ ڈاکٹر امین تابش شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سے بطور میڈیکل سپر انٹنڈنٹ سبکدوش ہوئے ہیں۔ وہ ایک بہترین منتظم ہونے کے علاوہ 24کتابوں اور 48سائنٹفک مقالوں کے مصنف بھی ہیں۔