عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//ملک بھر کے میڈیکل کالجوں، بشمول جموں و کشمیر کے اداروں میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل نشستوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ڈاکٹروں نے سرکاری صحت اداروں میں اسی تناسب سے ماہرین کی آسامیوں کی عدم دستیابی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایم ڈی ڈگری رکھنے والے ڈاکٹروں کی بڑھتی تعداد اور کنسلٹنٹ سطح کی محدود آسامیوں کے درمیان خلا نے صحت کے نظام میں اصلاحات اور ماہر افرادی قوت میں اضافے کے مطالبات کو جنم دیا ہے۔موجودہ تعلیمی سیشن میں مرکزی وزارتِ صحت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم میں نمایاں توسیع کی ہے۔ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2020–21 سے 2025–26 کے درمیان ملک میں 29,080 نئی ایم ڈی/ایم ایس پوسٹ گریجویٹ نشستیں شامل کی گئی ہیں۔ صرف 2025–26 میں ہی 7,619 نشستوں کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہوا۔
اس توسیع میں پیرا کلینیکل اور نان کلینیکل مضامین جیسے کمیونٹی میڈیسن، مائیکرو بائیولوجی، بائیو کیمسٹری، فارماکولوجی اور فارنزک میڈیسن شامل ہیں۔ قومی سطح پر ان شعبوں میں سینکڑوں نئی نشستیں منظور کی گئی ہیں جن میں کمیونٹی میڈیسن میں 291، مائیکرو بایولوجی میں 242، بائیو کیمسٹری میں 243، فارماکولوجی میں 193 اور فارنزک میڈیسن میں 113 نشستیں شامل ہیں۔ جموں و کشمیر کے میڈیکل کالجوں کو بھی ان شعبوں میں نشستوں میں اضافہ ملا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ تعلیمی مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن سرکاری صحت نظام میں اسی کے مطابق ماہرین کی نئی آسامیوں کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا۔ اس کے نتیجے میں ان شعبوں میں ایم ڈی مکمل کرنے والے بہت سے ڈاکٹروں کے لیے ملازمت کے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔2022 میںڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز کشمیر نے کمیونٹی میڈیسن، بائیو کیمسٹری، مائیکرو بایولوجی، فارماکولوجی اور فارنزک میڈیسن میں سینئر کنسلٹنٹ اور کنسلٹنٹ کی نئی آسامیوں کے قیام کے لیے ایک مفصل خط لکھا تھا۔ اس میں جموں و کشمیر میں کلینیکل اور عوامی صحت خدمات کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔15 ستمبر2022 کو محکمہ صحت و طبی تعلیم جموں و کشمیر کو بھیجے گئے سرکاری خط (نمبر: DHSK/Plg/2022–23/3945) میں مریضوں کی دیکھ بھال اور صحت خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات تجویز کی گئی تھیں۔ اس خط میں بتایا گیا تھا کہ تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، اڈیشہ اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستیں پہلے ہی اس طرح کی ماہر آسامیوں کو تشکیل دے چکی ہیں۔ڈائریکٹوریٹ نے اپنی تجویز میںکووڈ-19 وبا کے دوران حاصل ہونے والے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری اسپتالوں میں تشخیصی، علاجی اور میڈیکو لیگل کام کی بڑھتی پیچیدگی کو اجاگر کیا ہے۔کمیونٹی میڈیسن کے ماہرین قومی صحت پروگراموں، بیماریوں کی روک تھام، وبائی تحقیقات، معیار کی نگرانی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ماں اور بچے کی صحت، ذہنی صحت، بزرگوں کی صحت اور نئی و دوبارہ ابھرنے والی بیماریوں بشمول کووڈ-19 سے متعلق تکنیکی رہنمائی فراہم کریں گے۔اسی طرح بائیو کیمسٹری کے ماہرین جدید لیبارٹریوں کی نگرانی، آلات کے استعمال، معیار کی یقین دہانی، تحقیقاتی پروگراموں اور بایو کیمیکل ٹیسٹوں کی تشریح میں اہم کردار ادا کریں گے۔ تجویز میں تشخیصی خدمات پر بڑھتے دباؤ اور شواہد پر مبنی طب کے بڑھتے دائرے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔مائیکرو بایولوجی کے ماہرین کو متعدی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کلینیکل مائیکرو بایولوجی کے پورے دائرہ کار کا احاطہ کرتے ہیں، جس میں جراثیم کی شناخت، اینٹی بایوٹک حساسیت کے ٹیسٹ اور دیگر اہم انفیکشنز کی تشخیص شامل ہے۔فارماکولوجی کے ماہرین ادویات کے مضر اثرات کی نگرانی، نسخوں کا آڈٹ، ادویات کے معقول استعمال کو فروغ دینے، طبی عملے اور طلبہ کی تربیت، ریگولیٹری تقاضوں کی تعمیل اور اینٹی بایوٹک کے مؤثر استعمال کے لیے پروٹوکول تیار کرنے میں مدد کریں گے۔اسی طرح فارنزک میڈیسن کے کنسلٹنٹس میڈیکو لیگل معاملات میں ماہر رائے فراہم کریں گے، پوسٹ مارٹم، زخمی سرٹیفکیٹ، ڈی این اے نمونے اور ضلع سطح کے تمام میڈیکو لیگل کیسز کی نگرانی کریں گے۔ ان کی خدمات ٹریفک حادثات، فائر آرم انجریز، طبی غفلت، اعضا کی پیوند کاری اور این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت منشیات و الکحل سے متعلق مقدمات میں بھی اہم ہوں گی۔خط کے اختتام پر سفارش کی گئی ہے کہ مذکورہ آسامیوں کی منظوری پر غور کیا جائے اور صحت خدمات کی بہتری کے لیے ضروری ہدایات جاری کی جائیں۔محکمہ صحت و طبی تعلیم کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس تجویز پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اگر ان آسامیوں کو منظوری مل جاتی ہے تو اس سے تشخیصی درستگی، انفیکشن کنٹرول، ادویات کے معقول استعمال، عوامی صحت کی منصوبہ بندی اور میڈیکو لیگل خدمات کو خاص طور پر ضلع اور دور دراز علاقوں میں نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکے گا۔