ڈاکٹرعبدالمجیدبھدرواہیؔ

ڈاکٹر  عبدالمجید ۳؍ مئی 1942ء کوبھدرواہ میں تولد ہوئے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج بھدرواہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد میڈیکل کالج پٹیالہ سے ایم بی بی ایس کیا ۔ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں شاندار خدمات انجام دینے کے بعدڈاکٹرصاحب ۲۰۰۲ء میں بہ حیثیت ڈپٹی ڈائریکٹرہیلتھ جموں کی حیثیت سے سرکاری نوکری سے سبکدوش ہوگئے اورہمہ تن اُردوادب کی خدمت میں جٹ گئے ۔ یہ موصوف کے دینی مزاج کا پرتو ہی ہے کہ فریضۂ حج ادا کیا اورپچھلے چند برسوں سے  ہرسال پرائیویٹ طور پرعمرے کا اعزاز حاصل ہوا۔
ڈاکٹرعبدالمجید ڈاکٹرہونے کے ناطے انسانی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہیں مگر ساتھ ہی انہیں اُردوزبان وادب کے ساتھ والہانہ محبت ہے ۔ ان کامطالعہ بھی کافی وسیع ہے۔بڑے بڑے شاعروں، ادیبوں اور افسانہ نگاروں کے ساتھ تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک دلآویزشخصیت اورخوش مزاجی سے نوازا ہے۔ وہ جچے تُلے لفظوں میں ہنستے مسکراتے معاملاتِ زندگی پر اپناردعمل تیکھے مگر حقیقت پسندانہ انداز میں ظاہرکرنے کے فن میں یکتائے روزگارہیں۔جس چیز کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، اُس کی سرجری کرنے میں عارنہیں کرتے۔ کسی کے دبائومیں نہیں آتے ۔زودرنج اورانتہائی چاق وچوبند ہیں۔ ان کے چہرے کی رونق و زینت سفیدریش اُن کی جاذبیت کودوبالاکرنے میں ایک خاص حصہ اداکرتی ہے۔ ڈاکٹرصاحب کے افسانوں کی سکریننگ اُن کی اہلیہ محترمہ ہی کیاکرتی ہیں۔ ڈاکٹرعبدالمجید اوراُن کی شریک ِحیات کی ازدواجی زندگی بذاتِ خود کسی خوب صورت افسانے سے کم نہیں ہے۔اگرچہ یہ کوئی فکشن نہیں بلکہ ایک ٹھوس حقیقت پرا ستوار ہے ۔ جانے مانے قلم کارجناب سعداللہ شادؔفریدآبادی کی تازہ ترین تصنیف میں ان دونوں کاتذکرہ ان لفظوں میں قلم بندہے : ’’خوش مزاج ، خوش اخلاق اورخوش گفتار ۔ مریض باتیں سن کرہی اپنادُکھ بھول جاتے تھے۔پہلے جسمانی بیماریوں کے معالج تھے، اب تو چشم بدور جب سے فریضہ ٔ حج سے سرخ رو ہوکر آئے ہیں، روحانی امراض کے نسخے مفت تقسیم کرتے ہیں ۔ مثال کے طورپران کی تالیف ’’انتخابِ نور‘‘سے بذریعہ قلب ونظر اللہ تک رسائی ہوتی ہے۔ نہ جانے اللہ کو کون سی ادا پسندآئی کہ اب توباربارعمرہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں! ڈاکٹرصاحب کی اپنی منفرد شخصیت ہے ،اپناچہرہ اوراپنی پہچان ہے۔ وہ صالح اورتعمیری سوچ رکھتے ہیں۔ موصوف باغ وبہار طبیعت کے مالک ہیں۔ ان سے مل کرطبیعت کاغبارچھٹ جاتاہے اوردل میں ایک بے نام سی خوشی وفرحت کااحساس جاگتاہے۔ ان کی تحریرمیں بھی ان کی زندگی کی طرح تصنع سے منزہ ہیں۔وہ اچھے کہانی کاراورانشاء پرداز ہیں۔‘‘ 
ڈاکٹرعبدالمجید سال ہاسال سے اُردوافسانے کی خدمت کررہے ہیں مگروہ ادبی مجلسوں سے اکثردورہی رہتے ہیں۔ جوکچھ بھی ضبط ِتحریر میں لایا وہ کسی اخباریارسالے کی وساطت سے منظر عام پر آتاہے ۔ بشیرؔ بھدرواہی صاحب کاکہناہے کہ ڈاکٹر عبدالمجید نے ایک سوسے زائد افسانے اور افسانچے تحریرکئے ہیں۔ان میں سے بعض افسانے ریاست اوربیرون ِ ریاست کے رسائل اورجرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ میرے استفسار پرڈاکٹر صاحب نے بتایاکہ میرے افسانے بکھرے ہوئے ہیں جنہیں ابھی تک کتابی شکل دینے کی کوشش ہی نہیں ہوئی ہے۔دراصل وہ بطور افسانہ نگار ادبی اُفق پرنام کمانے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے مگر پھر بھی اُن پریہ فرض عائد ہوتاہے کہ وہ اپنی ساری تخلیقات کو کتابی صورت میں شائع کرکے اُردوادب کے بیش قیمت خزانے میں اضافہ کریں۔ڈاکٹرصاحب کے لکھے ہوئے افسانوں پراپنے تاثرات ظاہرکرتے ہوئے سرکردہ ادیب، محقق اورشاعربشیرؔ بھدرواہی لکھتے ہیں : ’’اُن کے بہت سارے معیاری افسانوں کوبہت سراہا گیا جن میں ’’جلتاگلاب ‘‘، ’’تلاش‘‘، ’’آپ بیتی‘‘ اور ’’منی آرڈر ‘‘ قابل ذکر ہیں۔اُن کے افسانے زندگی کے تلخ واقعات اورآنکھوں دیکھے سانحات کے دردوکرب کی بڑے موثراندازمیں تصویرکشی کرتے ہیں۔طنزیہ ظرافت کی چاشنی بھی اُن کی تحریروں کاخاصارہاہے۔ اُن پرسعادت حسن منٹو کا بے باکانہ رنگ نمایاں طور پردکھائی دیتاہے ۔ ان کے اختصار ِ بیان کااندازہ اٹھائیس الفاظ پرمشتمل اُن کے افسانہ ’’آپ بیتی‘‘ سے بخوبی لگایاجاسکتاہے۔ ‘‘۔ڈاکٹرصاحب کایہ تجریدی افسانہ اس طرح ہے:
’’میں بچپن کے جھروکے سے جوانی کے انتظار میں جھانک رہاتھا کہ بڑھاپے نے دروازے پردستک دے کرکہا :’’میرے بعدموت آرہی ہے۔‘‘یہ افسانہ موصوف کے سمندرکوکوزے میں بندکرنے کے فن میںمہارت کامل ہونے کی ایک روشن مثال ہے ۔ دراصل ڈاکٹرہروقت عدیم الفرصت ہوتے ہیں۔اس لئے وہ لمبی چوڑی کہانیاں لکھنے سے اکثر گریزکرتے ہیں۔بنابریں تجریدی افسانے اورمختصرافسانے کے ساتھ ہی عبدالمجید صاحب نے دلچسپی دکھائی ۔ ان کے سارے افسانوں کوپڑھنے کے لئے دوتین گھنٹے کافی ہیں ۔ اس قبیل کی تخلیقات دورِ حاضر کے عدیم الفرصت قاریوں کی طبیعت سے کافی میل کھاتی ہے، جو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پڑھنے کے خواستگوار ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ کم سے کم الفاظ میں بڑی سے بڑی حقیقت کوبیان کرنے کی مہارت و صفت خاص لوگوں کوہی حاصل ہوتی ہے ،اس قبیل کے تخلیق کاروں میں ڈاکٹرصاحب بھی شامل ہیں۔
ماں جب تک زندہ ہوتی ہے، اُس کی اولاد کو اس کے ساتھ اکثرنونک جھونک ہوتی رہتی ہے۔ممتاکے مارے ہر ماں اپنی اولاد کی زیادتیوں ، کوتاہیوں اور نازبرداریوں کو ہنستے ہنستے برداشت کرکے دعائیں دیتے ہوئے خوش وخرم ہونے کااحساس دلاتی ہے ۔ جب ماں موت کی آغوش میں پڑکر عالم ِ بقاء کی جانب روانہ ہوجاتی ہے تواولاد وں کو ماں کے تئیںاپنی ناقدری کااحساس ہوجاتا ہے اورانہیں ہرلمحہ جدائی کاغم کھاتاجاتاہے۔ انہیں گھرمیں ہرطرف ماں ہی ماں دکھائی دیتی ہے اور دل میںجذبات کا ایک طوفان اُمنڈکر آتا ہے۔ چنانچہ کئی شاعروںنے ماں کی یاد میں شاہ کارچیزیں لکھی ہیں ۔ڈاکٹر عبدالمجید نے بھی ’’ماں ‘‘کی یادوں میں ڈوب کر ’’ماں کا آنچل ‘‘ ، ’’ماں ‘‘ ، ’’کاش !کچھ دیرتورُک جاتے ‘‘ جیسے تین اہم افسانے تحریرکئے ہیں ۔ان کوپڑھ کر قاری کواپنی ماں کی یاد یں ستانے لگتی ہیں اورایسالگتاہے جیسے افسانہ نگار اُسی کی ماں کی بات کررہاہو۔ یہ تینوں افسانے مختصر مگر دلچسپ ہیں ۔ ہرلفظ قابل ِغور، لائق داداوربہترین انتخاب لگتاہے۔ مثلاً یہ جملے: ’’ماضی کی کھڑکی کھلی، ایک ایک بات یاد آتی گئی ۔ اپنی یادداشت کے اوراق سے ایک ایک بات ٹِک کرتاگیا۔ اللہ نے صحت دی، رُتبہ دیا۔ بیوی بچے دئے۔ وہ سب کچھ دیا جس کی ماں نے دُعادی تھی لیکن ایک چیز کی کمی کھٹک رہی تھی ، وہ ماں تھی، اُس کی دعائوں کا یہ ثمر تھا ۔ حسن ِ سلوک میں ماں کاحق باپ سے بہت زیادہ ہے ۔ ‘‘ (ماں )۔ دوسرے افسانے میں ماں سے ایک خیالی ملاقات کابڑے خوب صورت انداز میں ذکرکرکے لکھتے ہیں:’’اب فجرکی نماز کاوقت ہونے والا تھا ۔ محلہ مسجد سے موذن نے اذان دینا شروع کی۔ میں ان کی آواز کی طرف متوجہ ہوا۔وہ بھی انہماک سے اذان کے الفاظ دہراتی اور یہ کہتی ہوئے کمرے سے باہر جانے لگی : بیٹا خداحافظ ! میں اب چلتی ہوں۔ میں نے اتنی ہی اجازت لی تھی ۔ میں صرف تیرا حال معلوم کرنے آئی تھی ۔ اپناخیال رکھنابیٹا ۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر گئی اور بہت دُور ۔۔۔بہت دُور ۔۔۔اور میںدیکھتاہی رہ گیا۔یہ میری ماں تھی جسے نہ جانے خیال میںیا عالم ِخواب میں ایک سراب کی طرح دیکھ رہاتھا۔ میرے لبوں پر یہ الفاظ آکر جیسے منجمد ہوکررہ گئے: ماں! کچھ دیرتورُک جاتے ۔‘‘ (کاش ! کچھ دیرتورُک جاتے )۔ ’’ میں نے خواب میں اپنی والدہ مرحومہ کومسکراتے ہوئے دیکھا ۔ اُس نے مجھے گلے لگایا۔میراماتھا چوما اورمیراسر اپنی گودمیں آنچل کے نیچے رکھا اور میرے بالوں میں اُنگلیاں پھیرنے لگی۔ وہ میرے سرکوسہلا رہی تھی اورپیار بھری نظروں سے مجھے مسلسل دیکھ رہی تھی ۔ میں بھی ٹکٹکی باندھے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے دیکھ رہاتھا ۔ نہ وہ مجھے دیکھ کر تھک رہی تھی اورنہ میرا جی اُسے دیکھ کر بھر رہاتھا۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے کہیں نیندکی واد ی میں چلاگیاہوں ‘‘۔ ( ماں کا آنچل) ۔ 
ڈاکٹر عبدالمجید نے مریضوں کے ساتھ کی جانے والی بے رُخی پربھی طنز کیاہے جوکسی بھی صورت میں اپنی فیس وصول کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔ ان کے افسانے ’’آدمی آدمی ‘‘ میں ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی لالچ اور فیس کی وصول یابی میں بے حسی کی حدتک جانے کی عادت کاپردہ فن کارانہ ڈھنگ سے فاش کیاگیاہے ۔ نیلم ایک غریب اورتعلیم یافتہ دوشیزہ تھی ۔ اُس کی بوڑھی ماں کافی بیمار تھی ۔شہرکے ڈاکٹرنے فیس کی ادائیگی کے بغیربیمار کوہاتھ لگانا بھی کہیں قبول نہیں کیاتھا ۔ مجبور ہوکر فیملی پلاننگ کیمپ میں گئی اور لیپر سکوپی طریقہ سے آپریشن کے عوض میں ڈیڑھ سوروپے حاصل کئے ۔ ڈاکٹرکولایا مگر تب تک اس کی ماں اللہ کو پیاری ہوگئی تھی ۔ ڈاکٹرنے نیلم کی ماتم داری کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی فیس کا تقاضا کیا۔پچاس روپے ڈرائیورکے ہاتھ میں تھمانے چاہے۔ ڈرائیورنے یہ کہتے ہوئے پیسے لینے سے انکار کردیا:’’بیٹی یہ پیسہ رکھ لو ۔ میں ڈاکٹرنہیں ہوں۔ ڈرائیورہوں ۔‘‘۔ ڈاکٹرعبدالمجید نے ’’پڑئیے گربیمارتو‘‘ میں مزاحیہ انداز میں بیماری کا جھوٹا ناٹک رچانے والوں اوردفترکے جھوٹے وفاداروں پر زبردست چوٹ کی ہے، ایساکرنے سے گھروالوں پر مہمانوں کی آمدورفت کی وجہ سے بے جا دبائو کے علاوہ اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں : ’’کوہلو کے بیل کی طرح صبح سے شام تک وہی روز کامعمول کاکام کرتے کرتے تھک گیا تھا۔ اس لئے سوچا کہ کیوں نہ سردرد کا بہانہ بناکر ایک دودن کی چھٹی لے کر تھوڑا ساآرام کرلوں۔ پھرایک دن میں دفترسے گھنٹہ بھر پہلے ہی گھر چلا آیا۔ گھرکے اندر داخل ہوتے ہی میں نے اپناچہرہ کچھ اس طرح بنایا کہ جیسے میں زبردست بیمار ہوں اورکمزوری کی وجہ سے چلابھی نہ جارہاہے۔ بیوی نے پوچھا کہ کیابات ہے ، آج دفترسے جلدی کیوں چلے آئے ؟ آج تک توکبھی ایسانہ کیا۔ طبیعت توٹھیک ہے آپ کی؟ مجھے شدید سردرد اوربخار ہے ۔۔۔۔۔میں نے اس جھوٹی بیماری کا بہانہ بناکر آرام توضرور کیا ۔بیوی کی ہمدردی کاامتحان بھی لیا۔ اپنوں پرائیوں کی پہچان بھی کی مگرنجمہ بے چاری تھک کر چُور ہوگئی۔ پورے مہینے کابجٹ بھی چوپٹ ہوگیا۔ سچ ہے جھوٹ کے نقصان ہی نقصان ہیں ۔‘‘
جب خبروں سے کسی شخص کے ذاتی مفادات وابستہ ہوجاتے ہیں تووہ خداکی عبادت میں بھی حسب ِمعمول خشوع وخضوع کی چاشنی سے محروم ہوجاتاہے ۔ اس بات کااشارہ ’’مہنگائی بھتہ ‘‘ میں بڑی فنی چابکدستی کے ساتھ کیاگیاہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :’’میں ریڈیوسے بڑے دھیان سے خبریں سن رہاتھا کیونکہ مہنگائی بھتہ کی قسط کی واگذاری کااعلان متوقع تھا۔ ابھی میں ریڈیوسن ہی رہاتھا کہ بجلی بند ہوگئی اور اس وجہ سے ریڈیو بھی بندہوگیا۔ جلدی میں میں ریڈیوکاسوئچ بند کرنابھول گیا۔ متوقع خبر کے اعلان کے انتظار میں چونکہ دیر لگی ،اس لئے میں نے گھر پرہی نماز اداکرنے کاارادہ کیا۔ نمازتو شروع کی مگردل ودماغ بدستور مہنگائی بھتہ کی قسط میں اٹکے ہوئے تھے کہ کب سے قسط ملے گی۔ اُدھر خبریں ختم ہوگئی تھیں اوراب حضرت علامہ اقبال ؔ کی شاعری پر تبصرہ چل رہاتھا اور کوئی مُقررصاحب یہ شعر پڑھ رہے تھے ؎
  تیرا دِل تو ہے صنم آشنا تجھے کیاملے گا نمازمیں  
’’خواب اورآنسو‘‘ میں ڈاکٹرعبدالمجید خواب میں اپنی چہیتی بیوی نجمہ کی موت کامنظر دیکھ کر والہانہ دردوغم کااظہار کرنے لگے لیکن جب آنکھ کھلی تو اُسے  صحیح وسلامت دیکھ کرخوشی کے آنسو بہائے۔دونوں مناظر اچھے ہیں۔الفاظ وتراکیب موزوں اور مناسب ہیں۔ موت کا منظر ہی دیکھئے کیسے کھینچا ہے : ’’میت بیڈپرپڑی ہوئی تھی۔ اس کارنگ پیلا ، گال پچکے ہوئے اورہونٹ زرد تھے ۔ اس کی دونوں آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئیں ۔اس کی بائیں آنکھ سے آنسو ڈھلک کرموتی کی طرح اُس کے گال پر اٹکاہوا تھا۔‘‘ انسان اپنی عبادتِ خدا کی شروعات ایک دوسرے کی دیکھادیکھی میںکرتاہے۔ کچھ لوگ دکھاوے کے لئے عبادت اورنیک عمل کرتے ہیں لیکن بعد میں ایسا سٹیج آتا ہے جب اُسے اپنی ریاکاری اورظاہرداری پر ندامت ہوتی ہے ۔ اس لئے اکثرلوگ اپنے کئے ہوئے پر پچھتا تے اورتوبہ کرتے ہوئے نظرآتے ہیں ۔ڈاکٹر عبدالمجید نے انسانی خصلت کی یہ تصویر ’’احساسِ ندامت ‘‘ میں کافی خوب صورت ڈھنگ سے کھینچی ہے ، وہ لکھتے ہیں :’’ میری تمام عبادتیں صرف اور صرف ریاکاری ہیں۔ بڑی کوشش کے باوجود میں یہ بناوٹ کی عادت چھوڑ نہیں سکتا۔ میں تو اس ریاکاری والی عبادت میں روزبروز مز ہ پاتاہوں ۔ جب بھی لوگوں کے ہجوم دیکھتا ہوں توجھٹ سے جیب سے تسبیح نکال کر اس کے دانے گھمانا شروع کرتاہوں ۔ایساحلیہ اور لباس زیب تن کرتاہوں جس سے لوگ آسانی سے مجھے زاہد وپرہیز گار سمجھنے لگتے ہیں ۔ مسجد میں ہمیشہ پہلی صف میں بیٹھتاہوں اوربلند آواز سے اللہ اللہ کرتاہوں۔ اے مالک ِدوجہاں ! اے مالک کون ومکان مجھے معاف فرما ۔ تُوخطائیں معاف کرنے والا ہے ۔ میں اب نیندسے جاگ گیاہوں۔ اگر اپنے کرم سے مجھے زندگی کے محض چند دن اوربخش دے تومیں اپنی خطائوں کاازالہ کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔ ‘‘ڈاکٹر صاحب کاافسانہ ’’تنہائی کاآسیب ‘‘ بھی اُن کے اچھے افسانوں میں سے ایک افسانہ ہے جس میں اپنے اہم کردار’’پروین ‘‘ کی صورت میں انہوں نے خواتین کی غلط کاری اورتنہائی کے کرب کوبیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ وہ محنت اور مزدوری سے اپنا پیٹ پالتی تھی اوردوچار سال قبل کسی اجنبی نے اُسے اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناکر شاہدنام کابیٹا عطاکیا تھا۔ شاہد اب تین سال کاہوگیا تھا ۔پروین کو اسے دودھ دینے میں دقت آرہی تھی کیونکہ اسے محنت مزدوری کرنے میں رکاوٹ آتی تھی ۔ جب اُس نے اپنے بچے کودودھ دینا چھوڑ دیا تو ڈرامائی انداز میں شاہد مرگیا اوراُسے پہلے ہی کی طرح تنہائی کاآسیب لاحق ہوگیا۔ ‘‘ اُسے محسوس ہونے لگا چاروں طرف تنہائی کے آسیب خوف ناک چہرے لئے اپنے نوکیلے پنجے گاڑنے کے لئے اُس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ‘‘۔’’یادرفتہ‘‘ اور’’ہاتھ کی لکیرکی چوری ‘‘ وغیرہ ڈاکٹرصاحب کے دواہم مضامین ہیں۔آخرالذکر مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’ میں صرف سوچتاہوں کہ اگرآج عشرتؔ کاشمیری زندہ ہوتے تو اخبارات ورسائل میں چھپے ہوئے میرے افسانے پڑھ کرانہیںبے حد خوشی ہوتی ۔ رہاچوری کاسوال تویہ ادب میں بہت پرانی ہے ۔بھلے ہی یہ چوری میرے افسانے ’’ہاتھ کی لکیر‘‘ کی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ 
رابطہ نمبرات7889981711,9419000471