چینی پر سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ عوام کُش :ڈاکٹر فاروق

 سرینگر//گورنر انتظامیہ کی طرف سے بی پی ایل راشن کارڈ ہولڈروں کو فراہم ہونے والی چینی پر سبسڈی ختم کرنے کے فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے اس اقدام کو غریب و پسماندہ لوگوں کے حقوق پر شب خون کے مترادف قرار دیا ہے۔ پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ محکمہ خزانہ کی طرف سے راشن گھاٹوں پر بی پی ایل راشن کارڈ ہولڈوں کو سستے داموں فراہم ہونے والی چینی کیلئے سبسڈی دینے سے انکار غریب اور مستحق لوگوں کے حقوق پر ایک اور شب خون ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خزانہ کی طرف سے سبسڈی ختم کرنے کے اس فیصلے سے 70لاکھ سے زائد آبادی چینی کی فراہمی سے محروم ہوجائیگی۔انہوں نے ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک پر زور دیا کہ اس عوام کش فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ چینی پر سبسڈی ختم کرنے کے فیصلے کو زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ سابق پی ڈی پی حکومت نے فوڈ سیکورٹی بل اور مفتی محمد سعید راشن سکیم متعارف کرکے اے پی ایل صارفین کو پہلے ہی ان سہولیات سے محروم کردیا تھا کہ اب بی پی ایل صارفین کیلئے بھی چینی کی سپلائی بھی بند کرائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے ان عوام دشمن اقدامات سے جہاں 60لاکھ کی آبادی کو اب مہنگے داموں (1500فی کوئنٹل) راشن خریدنا پڑتا ہے وہیں باقی صارفین کے راشن کوٹا میں حد سے زیادہ تخفیف کی گئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ فوڈ سیکورٹی بل سے لوگ مٹی کے تیل کے کوٹا سے بھی محروم ہوگئے اور اب مٹی کے تیل کی فراہمی بھی برائے نام ہوتی ہے۔