چیف سیکریٹری کی صدارت میں میٹنگ منعقد

سرینگر // چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے جموں و کشمیر میں روزگار پیدا کرنے والی مختلف اسکیموں کے تحت پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ، لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ ، انڈسٹریز اینڈ کامرس ، سوشل ویلفیئر کے محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کے علاوہ مشن ڈائریکٹر ، جے اینڈ کے رورل لائیولیڈ مشن (جے کے آر ایل ایم) کے ساتھ متعلقہ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ جے اینڈ کے رورل لائیو لی ہڈ مشن نے ایک ہزار سیلف ہیلپ گروپس تشکیل دئے ہیں اور ستمبر کے آخر تک مزید 3 ہزار ایس ایچ جی کی تشکیل میں سہولت فراہم کریں گے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ سیلف ہیلپ گروپس جموں و کشمیر میں بہت زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر مہتا نے جے کے آر ایل ایم کو ہدایت کی کہ وہ رواں مالی سال میں تقریبا 2.5 2.50 لاکھ دیہی خواتین کی سماجی خدمات کو یقینی بناتے ہوئے 11000 سیلف ہیلپ گروپس کے قیام کو ہدف بنائے۔ جے کے آر ایل ایم سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ ادارہ جاتی اختراعات متعارف کروائیں اور ایس ایچ جی کو جدید دور کی ضروریات کے مطابق مصنوعات کی تیاری میں تربیت دیں ، اس کے علاوہ ای مارکیٹس کے ساتھ آگے بڑھنے والے مفید روابط قائم کیے جائیں۔انہوں نے محکمہ پر زور دیا کہ وہ ایس ایچ جی سے بینکوں کے رابطوں کو بڑھا کر جموں و کشمیر میں 2000 'بینک سخیوں' کی تقرری کو نشانہ بنائے۔محکمہ صنعت و تجارت نے بتایا کہ پی ایم ای جی پی کے تحت 2352 مقدمات کے ہدف کے برعکس ، بینکوں کی جانب سے 7613 مقدمات کی منظوری دی گئی ہے اور 5775 معاملات میں ،مستحقین کو مالی امداد بھی دی گئی ہے۔چیف سکریٹری نے مختلف اسکیموں کے تحت قرضوں کی تیزی سے منظوری اور تقسیم کے لیے محکموں اور بینکوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پر زور دیا تاکہ موجودہ مالی سال کے اختتام پر نوجوانوں کے لیے ایک لاکھ خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔