منڈی//منڈی کے صدر مقام پر چھیلہ ڈھانگری کی عوام نے کئی گھنٹے تک سڑک نہ ہونے کے معاملے کو لیکر احتجاج کیاجس کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک گاڑیوں کی آمدورفت متاثر رہی اور منڈی پل کے دونوں جانب سینکڑوں گاڑیاں اور مسافر درماندہ رہے اور عوام کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔اس موقعہ پر چھیلہ ڈھانگری کی عوام نے ضلع انتظامیہ اور محکمہ تعمیرات عامہ کے خلاف نعرے بازی کی ۔انہوں نے کہا کہ 2015 میں محکمہ تعمیرات عامہ، اعظم آباد چھلہ ڈانگری سڑک کا کام شروع کیا تھا جو آج تک مکمل نہیں کیا گیا ہے جو کہ محکمہ تعمیرات عامہ کی نااہلی کا ثبوت ہے۔واضح رہے کہ یہاں کے لوگوں کی عرصہ دراز سے مانگ تھی اس سڑک کے بننے کی وجہ سے 20 ہزار عوام کو پیدل چلنے سے نجات ملتی ۔ذرائع کے مطابق یہ سڑک محکمہ تعمیرات عامہ کو محض پانچ کلو میٹر تعمیر کرنی ہے اس سڑک کی تعمیر کے حوالے سے شوکت میر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوے کہا کہ حکومت یہ دعوے کررہی ہے کہ ہر گاوں کو سڑک کی سہولیات سے جوڑا جا چکا ہے اور جوگاوں روڑ سے ابھی منقطع ہیں ان میں سَرعت سے کام جاری ہیں لیکن یہ.سب کچھ بالکل بے بنیاد ہے – حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے – انہوں نے کہا کہ ہندستان کو آزادہوئے نصف صدی سے بھی زیادہ گزر چکا ہے – لیکن آج بھی ہم غلامی کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اور ہم ہندوستانیوں کے ساتھ غیر ہندوستانیوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم ہر وقت اور ہر موڑ پر اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ ہماری اس محبت اور شرافت کو بے بسی سمجھتے رہیں – اس طرح کی زیادتیوں کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار ضلع انتظامیہ اور محکمہ PWD کے آفیسران کے سامنے اپنی مشکلات پیش کیں لیکن انہوں نے ہماری گزارش کو ہمیشہ نظر انداز ہی کیا ہے لیکن آئندہ ہر گز اس طرح کی زیادتیوں کو برداشت نہیں کیاجاے گا ۔اس کے لیے عوام چھیلہ ڈھانگری کو جو بھی قدم اٹھانا پڑے گا وہ اٹھایا جائے گا ان کا مزید کہنا تھا کہ آعظم آباد سے ڈھانگری ہائی سکول تک سڑک کاٹینڈر ہونے کے باوجود بھی سڑک کا کام نہیں لگایا جا رہا ہے انہوں نے محکمہ تعمیرات عامہ کے آفیسران پر الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ اس سڑک کو تعمیر کیے بغیر ٹھکیداروں نے محکمہ کے اعلی آفیسران کی ملی بھگت سے 9 لاکھ روپے کا بل بھی پاس کر لیا ہے ۔عبدل حمید نامی شخص نے بتایا کہ ہمیں روڈ نہ ہونے کی وجہ سے سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے -بچوں کو منڈی سکول تک مریضوںکومنڈی ہسپتال تک اوردیگر راشن اور غذائی اجناس لیجانے کیلئے میلوں پیدل سفر کرنا پڑتا ہے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور محکمہ تعمیرات عامہ کی زیادتیوں کے خلاف آج انہیں مجبور ہو کر سڑکوں پراترنا پڑا – انہوں نے کہا کہ رمضان المبار ک اور جمعہ کی وجہ سے احتجاج کوختم کرتے ہیں اور ضلع انتظامیہ کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ اگر جلد از جلد اس اعظم آباد سے چھیلہ ڈھانگری سڑک کو مکمل نہ کیاگیا تو وہ آئندہ جمعہ کو بچوں اور عورتوں سمیت سڑکوں پر حکومت اور انتظامیہ کے خلاف سخت احتجاج کریں گے ۔ان کا کہنا تھا اس وقت جوحالات بنیں یا پھر کو بھی المیہ ہواس کی ذمہ داری ضلع انتظامیہ پرعائدہوگی۔