عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //اپنی پارٹی نے سرینگر کے چھانہ پورہ حلقہ انتخاب کے ساتھ سرکاری سطح پر برتی جانے والی غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حلقے کی ترقیاتی خامیوں اور عوام کو درپیش اہم مسائل و شکایات کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔اپنی پارٹی نے کل چھانہ پورہ حلقہ انتخاب کے حوالے سے ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ رٹی سربراہ سید محمد الطاف بخاری کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور حلقے کو درپیش عوامی مسائل، ترقیاتی خدشات اور شکایات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے موجودہ سیاسی صورتحال، حلقے کے اہم عوامی مسائل کے علاوہ مختلف تنظیمی امور پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا۔اجلاس کے دوران حلقے کو درپیش مختلف عوامی مسائل زیر بحث آئے۔
ان میں چھانہ پورہ اسپتال اور علاقے کی مختلف ڈسپنسریوں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور پیشہ ور طبی عملے کی قلت شامل تھی۔عوامی پارکوں کی خستہ حالی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جو مسلسل سرکاری عدم توجہی کا شکار ہیں۔ شرکاء نے بڈشاہ نگر اور نٹی پورہ میں میرج ہالوں کی نامکمل تعمیر کا معاملہ اٹھایا، جبکہ مہجور نگر کے کثیر المقاصد ہال کی بندش کی جانب بھی توجہ دلائی۔حلقے بھر میں سڑکوں اور رابطہ سڑکوں کی ابتر حالت، نیز نکاسی آب کے ناقص نظام پر بھی بات کی گئی۔اس کے علاوہ راشن کوٹے کی ناکافی فراہمی کا مسئلہ بھی اجاگر کیا گیا،شرکاء نے حلقہ انتخاب کے متعدد علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس اور محفوظ پینے کے پانی کی سہولیات کی عدم دستیابی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس میں جن اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی، ان میں حلقہ انتخاب میں ٹریفک کی بگڑتی ہوئی صورتحال سرفہرست تھی۔ شرکاء نے حیدرپورہ میں ایک انڈر پاس کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ راولپورہ کے راستے صنعت نگر چوک سے رنگریٹ تک کا حصہ روزانہ شدید ٹریفک دباؤ کا شکار رہتا ہے۔ انہوں نے ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے مجوزہ فور لین منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ شرکاء نے مزید کہا کہ رام باغ کے قریب فلائی اوور سے چھانہ پورہ کی جانب سفر کرنے والے مسافروں کو روزانہ شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ازدحام اکثر دو سے تین گھنٹے کی تاخیر کا سبب بنتا ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اجلاس کے اختتام پر پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک ماہ کے اندر اندر تمام عوامی مسائل کے ازالے کے لیے فوری اور ضروری اقدامات کیے جائیں۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ٹھوس کارروائی نہ کی گئی تو عوام اپنے حقوق کے حصول اور شکایات کے حل کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔