عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// حکومت نے سرینگر سمارٹ سٹی منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ تفتیش کی جا سکے کہ منصوبے کے تحت کیے گئے ترقیاتی کام اصل منصوبہ بندی اور تجاویز کے مطابق مکمل کیے گئے ہیں یا نہیں۔یہ فیصلہ حال ہی میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے ہونے والی شدید بارش کے بعد سرینگر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر پانی جمع ہونے سے شہر کے بنیادی ڈھانچے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔این سی ترجمان عمران ڈار نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کے ذریعے اس بات کی مکمل جانچ کی جائے گی کہ منصوبے کے اصل خاکے کے مقابلے میں عملی طور پر کتنے اور کس نوعیت کے کام انجام دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسمارٹ سٹی منصوبے کی مبینہ ناکامی کا نوٹس لیتے ہوئے آزادانہ آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔عمران ڈار نے منصوبے کی ناکامی کا ذمہ دار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ٹھہراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ منصوبے پر عمل درآمد کے دوران پسندیدہ ٹھیکیداروں کو کروڑوں روپے کے ٹھیکے دیے گئے، جبکہ آج یہ منصوبہ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔دوسری جانب بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے موجودہ عمر عبداللہ حکومت کو شہری انتظامیہ کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ صرف ایک بارش سے پورا سرینگر مفلوج ہو جاتا ہے، سڑکیں زیر آب آ جاتی ہیں، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور شہری شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، جو موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔واضح رہے کہ پیر کے روز ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث سرینگر کے متعدد علاقوں میں شدید آبی جمعاؤ دیکھنے میں آیا، جس سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔