عصر ِ حاضر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کے سبب جہاںنئی نئی ایجادات و اختراعات کاسلسلہ جاری ہے، وہاں انسانی ہاتھوں سے بنائے گئے فنی شہ پاروں اور شہکاروں کا بھی کوئی شمار نہیں۔یہ بات اہم ہے کہ ہماری ریاست صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں ہے ،بلکہ ہمارے یہاں فن وتمدن،تہذیب و ثقافت، ہنرمندی ودستکاری اور اختراعات و تجربات کی بھی ایک الگ تاریخ ہے،جونہایت شانداراور تابناک ہے۔یہاں دستکاری کا شہرہ آفاق اعلیٰ اور معیاری کام نسل در نسل سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ملک کے دیگر حصّوں کی طرف نظر دوڑائیں،تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں یہ دستکاریاں عام طور پر خواتین اپنے گھروں میں کرتی ہیں،لیکن مرد حضرات کا حصّہ بھی اس میںکچھ کم نہیں۔متعددعلاقوں میں لباس پر شیشہ سازی اور کندہ کاری کا نہایت نفیس کام ہوتا ہے اور یہ اپنی جگہ خود بڑا منفرد ہے۔اکثر جگہوں پر کڑھائی، مینا کاری، اورکشیدہ کاری کا اعلیٰ اور معیاری کام ہوتا ہے۔ کتنے ہی شہروں میں چمڑے پر خطاطی،کپڑوں پر کڑھائی و گلدوزی، زیورات کی تزئین کاری،لکڑی پر نقش و نگار ،اور برتنوں پر کندہ کاری کاکام کیا جاتا ہے۔انسانی ہاتھوں کے پیدا کردہ حسن و جمال کا مشاہدہ کرنا ہو،تو دیگر بہت سی چیزوں کے ساتھ نیلے رنگ کی میناکاری والے برتن، لکڑی پر کندہ کاری والے فرنیچر،اور مٹی کی نازک صراحیوں و ظروف کا نظارہ کرنا چاہیے۔اَن گنت گھریلودستکاریوں کی رنگا رنگی لیے’ہینڈی کرافٹ‘صنعت ملک کے اکثر شہروں، دیہاتوں اور قصبوں میں قائم ہے،جس سے ایک طرف دستکاروں کو روزگار ملتا ہے اور دو سر ی جانب ہماری ثقافت کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ یہ دستکاریاں زرِ مبادلہ کمانے کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔غور سے دیکھا جائے تو دستکاریوں کی مختلف اقسام میں خطاطی، مجسمہ سازی ،روایتی لباس ، سلائی کڑھائی، شالبافی ، پیپر ماشی ، ووڈ کارونگ ، ہینڈ لوم ، ویلو ورک ، نمدہ سازی ، گبہ سازی اور قالین بافی کے علاوہ متعدد دیگردستکاری صنعتیں شامل ہیں۔
جہاں تک جموں وکشمیرکا تعلق ہے،یہاں کی دستکاریاں چاردانگِ عالم میں مشہور ہیں۔اللہ نے یہاں کے لوگوں کی نگاہوں میں فن کی اعلیٰ نزاکتوں کو سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں غضب کی تیزی ہے۔ کشمیر کے شال زمانہ قدیم سے تمام دنیا میں مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سی چیزیں ہیں جن کی قدر وقیمت صاحب ِنظر جانتے اور سمجھتے ہیں۔ کشمیر کے شال، دو شالے، قالین ، گبّے، نمدے ، اورچادریں کافی مشہور ہیں۔ کشمیری شال کی نفاست، دو شالے کی نزاکت اور گبے اور نمدے کی نرمی میں کشمیر کے محنت کش طبقہ کی طبیعت کی نفاست اور نرمی موجزن ہے۔
زیادہ دِن نہیں گزرے،جب یہاں ہر طرف گھریلو دستکاریوں کی صنعت عروج پر تھی۔تاہم اب اس شعبے میں پہلے جیسا دم خم باقی نہیں رہاہے۔ایک زمانے میں یہاں کے محنت کش طبقہ نے بڑے عمدہ اور نفیس نمدے بناکراپنا اور وادی کا نام روشن کیا تھا۔چنانچہ یہاں کے نمدوں اور گبوں کو کشمیر سے باہر بھی کافی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔اس زمانے میں وادی کے بہت سے علاقوں میں اونی چادریں بھی بنائی جاتی تھیں۔ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی کام ہوتا تھا۔ یہی حال کشیدہ کاری کا بھی تھا۔ رومالوں، جمپروں، غلافوں اور میزپوشوں پر غضب کی کشیدہ کاری ہوتی تھی۔لیکن اب اس کام کو نئی نسل نیقریب قریب ترک ہی کردیا ہے۔
ضرورت ہے آج اْسی جذبے کو پھر سے بیدار کرنے کی ،جوہمارے محنت کش اور غریب ہنرمندوں اور دستکاروں کی خون پسینے کی محنت اورخلاقانہ صلاحیت کو عزت و وقار عطا کرسکے،اور سرکاری و غیر سرکاری سطح پراس شعبے سے وابستہ تمام لوگوں کوجمودوتعطل کی فضاسے نکال کر فعالیت کی شاہراہ پر گامزن کرسکے۔اِس محاذپر ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اپنی اِن شاندار فنی روایات کے احیائے نو کے لیے عملی اقدامات اْٹھانے چاہئیں۔
رابطہ ۔9419403126،9906662404
ای میل۔[email protected]